فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکن ناراض،ووٹ نہ ڈالنے کا خدشہ

فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکن ناراض،ووٹ نہ ڈالنے کا خدشہ

فیصل آباد( منیر عمران ) مثبت تبدیلی کی امید لے کر تحریک انصاف کیلئے اپنا گھر بار‘ کاروبار ذاتی مصروفیات چھوڑ کر موسموں کی سختیاں جھیل کر‘ پرکٹھن سفر طے کر کے مختلف تقریبات‘ جلسے‘ جلوسوں‘ ہڑتالوں‘ دھرنوں میں شریک ہو کر ’’چلو چلوعمران کے ساتھ‘‘ کے گیت گانے اور’’تبدیلی آئی اے‘‘ کے نعرے لگانے والوں کو جب کل یہ کہہ کر ٹکٹ دینے سے معذر ت کر لی گئی یا انکار کر دیاگیا اور ٹکٹ ان امیدواروں کو دے دیا گیا جو ان قربانیاں دینے والے کارکنوں پر آوازے کسا کرتے تھے تو اس کا ری ایکشن تو بہرحال ہونا ہی تھا. ٹکٹوں سے محروم نظریاتی کارکن آج عمران خان سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ کون سی تبدیلی ہے جو ایسے آؤٹ سائیڈرز کی وساطت سے لانے کے جواز پیش کئے جا رہے ہیں جو گذشتہ ادوار میں کبھی پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے اور کبھی ن لیگ کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہو کراقتدار کے جھولے تو جھولتے رہے ہیں مگر کسی تبدیلی کے ’’قابل ‘‘نہیں سمجھے گئے تحریک انصاف نے اپنے تما م کارکنوں اور رہنماؤں کو پہلے توٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی ترغیب دی پھر جب انہوں نے درخواستوں کے ذریعے اپنی خواہش اور جذبوں کا اظہار کر دیا تو انہیں ٹکٹوں کے قابل ہی نہ سمجھا گیا‘ این اے 107سے شیخ خرم شہزاد کو شاید اس بنا پر ٹکٹ دے دیا گیا ہے کہ وہ ضمنی الیکشن میں ایم پی اے منتخب ہو گئے تھے‘ فیصل آباد کے سیاسی حالات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ وہ کن حالات میں خواجہ اسلام والی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے. ایک تو خود خواجہ اسلام نااہل ہو کر دوبارہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں رہے تھے‘ دوسرے ن لیگ میں رانا ثناء اللہ کا گروپ کسی صورت میں ان کی کامیابی نہیں چاہتا تھا‘ بعد کے حالات نے ثابت کر دیا اور اسی وجہ سے خواجہ اسلام نے رانا ثناء اللہ گروپ سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی ناراضگی یاگلے شکووں کو یا انتقامی جذبوں کو خاموشی سے برداشت کر لیا کہ وہ اپنے اس مخالف گروپ کے مقابلے میں کمزور تھے اس حادثاتی جیت کو پی ٹی آئی نے اپنی مقبولیت سمجھ کر لیا‘ چونکہ شیخ خرم شہزاد فیصل آباد میں صرف واحد ایم پی اے تھے جو ن لیگ کے مخالف تھے اس لئے وہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ’’لاڈلے‘‘ بن گئے تھے‘ اب اسی ’’لاڈ پیار‘‘ کے پیش نظر انہیں قومی اسمبلی کے ایک ایسے حلقہ سے امیدوار نامزد کر دیا گیا جو ان کا بنیادی حلقہ ہی نہیں اور وہاں اس کی برادری کا تناسب بہت ہی کم ہے. اس حلقہ میں اہل اور زیادہ مقبول امیدواروں کو نظر انداز کر دیا گیا حالانکہ اگر انہیں اپنے پہلے صوبائی حلقہ سے ٹکٹ دے دیا جاتا تو پی ٹی آئی کے کسی لیڈر یا کارکن نے اس پر اعتراض ہی نہیں کرنا تھا تو جو ناراضگی اب پی ٹی آئی میں محسوس کی جا رہی ہے اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہنی تھی اس طرح پی ٹی آئی کے کارکن راجہ ریاض کے بارے میں بھی ایک دلچسپ تبصرہ کر رہے ہیں کہ راجہ ریاض احمد خاں کو حلقہ این اے 110سے ٹکٹ دے دیا گیا ہے‘ جو پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے پی ٹی آئی کی اعلی قیادت نے یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی یا کسی نے اس کا تجزیہ کر لینا ہی مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیپلزپارٹی کو کیوں چھوڑ کر آئے تھے؟ کیا وہ پی ٹی آئی کی محبت میں پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر آئے تھے یا پیپلزپارٹی میں ا ن کے لئے حالات ٹائٹ ہو گئے تھے کہ انہیں کسی نئے سہارے کی ضرورت تھی اور پی ٹی آئی کو ان میں انقلابی تبدیلی کی جھلک دکھائی دی تو وہ انہیں اپنے ساتھ لے آئے‘حالانکہ وہ گذشتہ کئی سال سے سیاست سے وابستہ ہیں اور وہ بیچارے تو کسی تبدیلی کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں ہیں. پی ٹی آئی کے کارکن تو ان کی ’’انگریزی اور اردو کی سیاسی قابلیت‘‘ پر بھی انگلی اٹھا رہے ہیں اس طرح شہباز کسانہ پی ٹی آئی میں کافی عرصہ سے چلے آ رہے ہیں پھر بھی انہیں کبھی بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا حلیم اسلم ملک بھی پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں وہ بھی ملک برادری کے حوالے سے ایک اہم امیدوار خیال کئے جاتے ہیں مگر پی ٹی آئی کی قیادت نے نہ تو سینئر سیاستدان میاں زاہد سرفراز کے صاحبزادے میاں علی سرفراز کو کسی حلقہ کیلئے مناسب سمجھا‘ نہ راجہ نادر پرویز کے صاحبزادے راجہ اسد کو اس قابل سمجھا اور نہ ہی پرانے کارکن بریگیڈیٹر (ر) ممتاز کاہلوں کو کسی تبدیلی کے قابل سمجھا حالانکہ وہ حاجی اکرم انصاری جیسے مضبوط امیدوار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار ثابت ہو چکے ہیں. پی ٹی آئی کی قیادت کی اس تقسیم کو دیکھ کر وہ مایوس و ناامید عوام جو اس جماعت کو ایک نجات دہندہ سمجھ کر اس کی حمایت میں باہر نکل آئے تھے. ایک بار پھر وہ پریشان ہو گئے ہیں کہ وہ اب کہاں جائیں‘ کس کو ووٹ دیں کہ تبدیلی کا جو تاثر ان کے ذہنوں میں گھر کر چکا تھا اب وہ پارہ پارہ ہو چکا ہے کہ عمران خان کیسے وہ تبدیلی لا سکیں گے جس کا انہیں خواب دکھایا گیا تھا‘ بہت سے لوگ تو اب اس راستے کو ہی چننے پر غور کر رہے ہیں کہ حسب سابق کسی کو بھی ووٹ نہ دیا جائے اور اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

مزید : صفحہ اول