پی ٹی آئی کا کل ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کا اعلان ، ناصر الملک صورتحال بہتر کریں ، عمران خان

پی ٹی آئی کا کل ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کا اعلان ، ناصر الملک ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف نے لوڈ شیڈنگ کیخلاف کل سے منگل کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا ، نگران وزیر اعظم بلاتاخیر مداخلت کریں اور صورتحال میں بہتری کیلئے تدبیر کریں، گردشی قرضوں اور بجلی کی حقیقی صورتحال بھی قوم کے سامنے رکھیں،عمران خان، علاوہ ازیں پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے ٹویٹ میں کہانواز شریف کو سزا نہ ہونا کمزور نظام اوراخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف نے لوڈ شیڈنگ کیخلاف کل سے منگل کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا،پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے مرکزی و صوبائی قائدین کو قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے ذریعے یونین کونسل سطح تک بھرپور احتجاج کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اور انکی حکومت نے جھوٹ بولنے اور عوام کو گمراہ کرنے میں پانچ برس صرف کئے، نواز شریف نے بجلی بحران کے خاتمے کیلئے ڈھنگ کا ایک قدم نہیں اٹھایا،منگل کو ملک بھر میں بیک وقت احتجاج کیا جائے گا ۔پارٹی چیئرمین کی جانب سے مرکزی و صوبائی قائدین کو قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے ذریعے نچلی ترین سطح تک بھرپور احتجاج کی ہدایت کی گئی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کو بجلی جیسی بنیادی سہولت کی عدم فراہمی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، نگران وزیر اعظم گردشی قرضوں اور بجلی کی حقیقی صورتحال بھی قوم کے سامنے رکھیں، قوم کو علم ہونا چاہئیے کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوں کی حقیقت کیا ہے اور کون اس بحران کا ذمہ دار ہے،بجلی میں خود کفالت کیلئے پن بجلی سمیت دیگر سستے اور دیرپا پیداواری وسائل پر منتقلی کی منصوبہ بندی ضروری ہے،نگران حکومت عوام کو بجلی کی زیادہ سے زیادہ فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ دریں اثنااپنے ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا ہے کہ تمام تحقیقات کے باوجود نواز شریف کوسزا ہونا ابھی باقی ہے ، نوازشریف کی فلیٹس کی ملکیت سے متعلق کافی شواہد موجود ہیں۔ سپریم کورٹ ،نیب اور جے آئی ٹی کی تحقیقات پر قوم کا پیسہ خرچ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اورخواص کے لئے الگ الگ قانون پاکستان کا المیہ ہے۔ ملزمان کوسز ا باقی ہے یہ کمزور نظام اور اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان میں کیسے کمزور کیلئے قانون کا معیار الگ اور طاقتور کیلئے الگ ہے۔

مزید : صفحہ اول