شب قدر کی فضیلت و اہمیت

شب قدر کی فضیلت و اہمیت

ماہ رمضان المبارک کی خصوصیت ہے کہ جب بھی آتا ہے اپنے ساتھ امت محمدیہ ﷺ کے لئے انوارات و برکات سے بھرپور تحفے لے کر آتاہے اور اہل ایمان کی جھولیوں کو بھر کر رخصت ہو جاتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی رمضان کریم آخری ساعتوں کا مہمان ہے اور جاتے جاتے ایک ایسا تحفہ بندگان خدا کی جھولی میں ڈال کر جا رہا ہے جسے اسلامی دنیامیں’’ شب قدر‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔جی ہاں ! وہی ’’شب قدر‘‘جس کی عظمت سے فکر انسانی کو واقف کروانے کے لئے اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں ’’ ۔۔۔ لَیْلَۃُ القَدْ رِخَیْرُمِّنْ اَلْفِ شَھْر۔۔۔ ترجمہ۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔۔۔(القرآن)۔۔۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار حضرات ، حضرت ایوب علیہ السلام ، حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت حزقیل علیہ السلام ، حضرت یوشع بن نوع علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ ان حضرات نے اسی اسی برس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اس کی نافرمانی نہیں کی ، اس پر صحابۂ کرامؓ کو تعجب ہوا ۔ فورا ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کی امت کو ان حضرات کے اسی اسی برس عبادت کرنے پر تعجب ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز بھیجی ہے،چنانچہ آپ نے سورۃ القدرپڑھ کر سنائی اور فرمایا یہ اس سے بہتر ہے جس پر آپ اور آپ کی امت کو تعجب ہورہا ہے۔یہ سن کر نبی علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابۂ کرام خوش ہو گئے۔۔۔(الدر المنثور)۔۔۔یعنی ایک ہزار سال تک کی عبادت سے بھی اس ایک رات کی عبادت کی برابری نہیں ہو سکتی۔اگر مسلمان تھوڑی سی بھی کوشش کر لیں تو اس رات ان کی مغفرت کا، بخشش کا سامان بھی ہوجاتا ہے اور دنیا اور آخرت بھی درست ہو جاتی ہے۔ یہی وہ رات ہے جب ہم اپنے رب کو منا بھی سکتے ہیں اور منوا بھی سکتے ہیں ۔

جی ہاں، یہی وہ رات ہے جب لوح محفوظ سے قرآن کریم کو روئے زمین پر اتارا گیا۔یہی وہ رات ہے جب حضرت آدم ؑ کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا۔یہی وہ رات ہے جب حضرت عیسٰی ؑ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اسی رات کو بنی اسرائیل کی توبہ قبول کی گئی۔اسی رات میں آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔اسی رات کو آسمان سے فرشتے اتر کر اللہ کے نیک بندوں (مومنین)کو سلام پیش کرتے ہیں، ان سے مصافحہ کرتے ہیں، ان کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں اور یہی اس رات کی افضلیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں نازل ہوتے ہیں اور ہر اس بندے کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں جو کھڑا ہو کر یا بیٹھ کر اللہ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہوتا ہے، او رجب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں۔ (اس لئے کہ انہوں نے آدمیوں پرطعن کیا تھا)اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو ! اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے کیا بدلہ ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے، تو ارشاد ہوتا ہے کہ فرشتو! میرے غلاموں نے اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا۔پھر دعا کے ساتھ چلاّتے ہوئے عید گاہ کی طرف نکلے ہیں۔میری عزت کی قسم ، میرے جلال کی قسم ، میری بخشش کی قسم ، میرے علّوِشان کی قسم ، میرے بلند مرتبے کی قسم، میں ان لوگو ں کی دعا ضرور قبول کروں گا ، پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ تمہارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے۔پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔(مشکوٰۃ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺنے ارشاد فرمایا :’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کرے،تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے‘‘۔۔۔ دوسری حدیث مبارکہ میں حضرت انسؓ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیاتو حضورنبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا:’’تمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔جو شخص اس رات سے محروم ہو گیا، گویا وہ ساری ہی خیر سے محروم ہوگیا‘‘۔۔۔(ابن ماجہ)۔۔۔ حضور نبی کریم ؐ نے اپنی امت کی آسانی کے لئے کچھ نشانیا ں بھی بیان فرمائی ہیں جن کو سامنے رکھ کر شب قدر کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرمؐ سے سنا کہ ’’وہ رات(شب قدر) نورانی اور چمکدار ہوتی ہے، نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈی‘‘۔۔۔اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے۔(رات میں آسمان پر انگارہ اور شعلہ سا جو بھاگتا ہوا نظر آتا ہے، وہ اس رات میں نہیں ہوتا)شب قدر کی صبح کو نکلنے والا سورج چاند کی مانند ہوتا ہے، شعاؤں اور کرنوں کے بغیرطلوع ہوتا ہے۔

سمندر کا کڑوا پانی بھی اس رات میٹھا پایا جاتا ہے۔۔۔(الدرمنثور)۔۔۔اس را ت میں انوارات کی کثرت ہوتی ہے۔۔۔(قرطبی)

اس مبارک رات کو پانے کے لئے آقا ئے دو جہاں ﷺ خود آخری عشرے میں تندہی سے عبادت میں مشغول رہتے تھے، بلکہ اپنے گھر کے تمام افراد کو بھی اس کے لئے ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ روایت فرماتی ہیں:’’جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوجاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمر کس لیتے اور شب بیداری کرتے، یعنی پوری رات عبادت اور ذکر و دعامیں مشغول رہتے، چنانچہ اسی سلسلے میں سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں : ’’رسول اللہؐ نے فرمایا کہ شب قدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس راتوں کی طاق راتوں میں‘‘۔۔۔(بخاری) ۔۔۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ جن کا شمار اکابر صحابہؓمیں ہوتا ہے، فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امیر المومنین حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں دیگر صحابۂ کرام بھی تشریف فرما تھے، حضرت عمرؓ نے ان سے سوال کیا:’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کے آخرے عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کون سی رات ہوسکتی ہے؟کسی نے کہا اکیسویں ، کسی نے کہا تیئسویں ، کسی نے کہا پچیسویں، کسی نے کہا ستائیسویں۔ میں خاموش بیٹھا رہا، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ بھئی تم بھی کچھ بولو ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ہی نے تو فرمایا تھا کہ جب یہ بولیں تو تم نہ بولنا ۔آپؓ نے فرمایا بھئی تمہیں تو اسی لئے بلایا گیا ہے کہ تم بھی کچھ بولو۔میں نے عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ مثلاًسات آسمان پیدا فرمائے، سات زمینیں پیدا فرمائیں ، انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی، انسان کی غذا کے لئے زمین سے سات چیزیں پیدا فرمائیں، اسی لئے میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ شب قدر ستائیسویں شب ہوگی۔ بات مکمل ہو جانے کے بعد سیدنا عمرؓ نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم سے وہ بات نہ ہو سکی جو اس بچے نے کہہ دی، جس کے سر کے بال بھی ابھی مکمل نہیں آئے۔بخدا! میرا بھی یہی خیال ہے جو یہ کہہ رہا ہے‘‘۔۔۔(شعب الایمان)

امت محمدیہ ﷺپر اماں عائشہؓ کے جہاں اور بہت سے احسانات ہیں وہیں آپ نے ایک یہ احسان بھی فرما یاکہ حضورنبی کریم ﷺسے پوچھ لیا کہ اس رات (یعنی شب قدر کی رات) میں کون سی دعا مانگیں؟ رسول اللہﷺ نے سیدہ عائشہؓکے استفسار پر پوری امت کو دعا بتائی جو آج بھی امت مسلمہ کے لئے انمول تحفہ ہے ۔ جسے امام ترمذیؒ کچھ یوں روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں:’’ میں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا مجھے بتایئے کہ اگر میں معلوم کر لوں کہ کون سی رات شب قدر ہے، تو میں اس رات اللہ سے کیا عرض کروں اور کیا دعا مانگوں؟ آپﷺ نے فرمایا: یہ عرض کرو!’’اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی‘‘۔۔۔ ترجمہ: اے میرے اللہ تو بہت معاف فرمانے والا ہے،اور بڑا کرم فرما ہے،اور مجھے معاف کردینا تجھے پسند ہے،پس تو میری خطائیں معاف فرما دے‘‘۔۔۔(ترمذی) ۔۔۔اس لئے تمام اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ شب قدر کی مبارک رات کو تلاش کریں۔طاق راتوں میں جس قدر ہو سکے نفل نماز ، تلاوت قرآن، ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں۔ التجا کرتے ہوئے اللہ رب العزت سے نیک اعمال کرنے کی ہمت و طاقت طلب فرمائیں، اپنے گناہوں کی بخشش طلب فرمائیں اور اپنے لئے، اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب کے لئے دعائے خیر کریں۔تمام مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کریں۔پور ے عالم اسلام کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، خصوصاً ملک پاکستان کے لئے دعا کریں کہ اللہ رب العزت ہمارے ملک کی اندرونی و بیرونی ،نظریاتی ، فکری و جغرافیائی سرحدوں کی ہر قسم کے شرور و فتن سے حفاظت فرمائیں اور اسے ہمیشہ قائم دائم رکھیں۔ یقیناًوہ ذا ت ر حمان و رحیم ہے ، گناہ گاروں کو بخشنے والی ہے،اور ہرکلمہ گو کی حاجات کو سن کے پورا فرمانے والی ہے۔۔۔!

مزید : ایڈیشن 1