عید قریب آتے بھکاریوں میں اضافہ، درجنوں جرائم پیشہ گروہ متحرک ہو گئے

عید قریب آتے بھکاریوں میں اضافہ، درجنوں جرائم پیشہ گروہ متحرک ہو گئے

لاہور(رپورٹ: یونس باٹھ) صوبائی دارالحکومت میں عید الفطر قریب آتے ہی بھیک مانگنے والوں کے مختلف روپ میں درجنوں گروہ اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں متحرک ہوگئے ،متعددبھکارن عورتوں نے زیادہ بھیک لینے کے لیے معصوم بچے کرائے پر حاصل کرلیے ، گھروں اور دوکانوں میں گھس کر قیمتی چیزیں چوری کرنے والے بعض جرائم پیشہ عورتوں نے بھی بھکارنوں کا روپ دھار لیا۔ تفصیلات کے مطابق رمضان کے آغاز سے ہی اس سال بھی بھکاریوں کی بہت بڑی تعداد شہر میں پھیلنا شروع ہوگئی ، یوں تو عام دنوں میں بھی گلی محلوں کے علاوہ ہر چوراہے پر گداگر مانگتے دکھائی دیتے ہیں مگر بالخصوص عید کے دنوں میں ان بھکاریوں کی تعداد دگنا ہوجاتی ہے ۔روزنامہ ’’پاکستانِ ؛ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پیشہ وار گداگروں نے اپنا باقاعدہ نیٹ ورک قائم کررکھا ہے جس کے نتیجے میں بھکاریوں کی مختلف ٹولیوں نے شہر کے مختلف علاقوں کو آپس میں بانٹ رکھا ہے اور ہر گروہ مقررہ مدت تک اپنے علاقے میں ہی رہتے ہوئے لوگوں سے بھیک اکٹھی کرتا ہے ، کوئی دوسرا بھکاری ان کے علاقے میں گھس کر بھیک مانگنے کی جسارت نہیں کرتا۔تمام گداگر کالونیوں کی طرح جھگیاں بناکر اکٹھے رہتے ہیں ، انہوں نے اپنے مسائل کے حل اور آپسی فیصلے نمٹانے کے لیے متفقہ طور پر اپنی برادری کے کسی طاقت ور یا بااثر شخص کو اپنا ’’مُکھیا‘‘ مقرر کرتے ہیں جس کی جانب سے کیے گئے ہر فیصلے کی پاسداری سب گداگروں پر لازم ہوتی ہے ۔ بھکاریوں کے گروہوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کے ہتھے چڑھ جانے والے گم شدہ اور لاوارث بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں ، یہ گروہ سب سے زیادہ خطرناک گروہ سمجھا جاتا ہے جو ان بچوں کو بردہ فروشوں سے خرید کر ان سے زبردستی بھیک منگواتا ہے ، اس گروہ کے ارکان ہٹے کٹے ہوتے ہیں اور عام طور پر ملنگوں کے بھیس میں گھومتے ہیں ۔دوسرے گروہ میں وارداتیے بھکاری شامل ہیں جو بھکاریوں کا روپ اختیار کرکے گلی محلوں اور مختلف مارکیٹوں کے اندر گھومتے ہیں اس گروہ میں زیادہ تعداد جوان عورتوں کی ہے جو دو اور تین کی تعداد میں بھیک مانگتی ہیں ،یہ بھکارنیں دکانداروں کو مختلف ’’ادائیں ‘‘ دکھا کرفطرانہ اور صدقہ کے نا م پر متوجہ کرتی ہیں جبکہ ان کی ساتھی بھکارن موقع پاتے ہیں دوکان سے قیمتی اشیاء چرا لیتی ہیں ، واردات کرنے کے بعد یہ بھکارنیں دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کرتیں ، اسی طرح یہ بھکارنیں بھیک مانگنے کی غرض سے فطرانے اور صدقے کے نا م پر ہی گھروں کے اندر گھس جاتی ہیں اور گھریلوں اشیاء پر ہاتھ صاف کردیتی ہیں ۔تیسرا گروہ نومولود بچے اٹھا کر بھیک مانگنے والی عورتیں شامل ہیں ، یہ بھکارنیں گلی محلوں کے علاوہ بس سٹاپوں ، ٹریفک سگنلز ، پبلک پارکوں ، سرکاری ہسپتالوں کے باہر ، ریلوے سٹیشن ، لاری اڈہ اور عام ہوٹلوں کے باہر بھیک مانگتی دکھائی دیتی ہیں ۔گداگروں کی بستی میں حاملہ بھکارن کی بڑی سیوہ کی جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ نومولود بچے کو گود میں اٹھا کر بھیک مانگتے دیکھ کر لوگ زیادہ خدا ترسی کرتے ہیں اور اس طرح بھکارنیں 5 سوسے 2ہزار روپے کی تک دیہاڑی بڑے آرام سے لگا لیتی ہیں ۔چوتھے گروہ میں صدا لگاکر مانگنے والے تندرست گداگر شامل ہیں جو گلی محلوں میں باقاعدگی کے ساتھ گزرتے ہیں اور مخصوص آواز نکال کر صدا لگاتے ہیں ۔ پانچویں گروہ میں نعتیں پڑھ کر بھیک مانگنے والے گداگر شامل ہیں جو گلیوں اور بازاروں میں گھروں اور دوکانوں کے سامنے رک کر مخصوص نعتوں کے چند اشعار پڑھتے ہیں اور بھیک حاصل کرلیتے ہیں ۔چھٹے گروہ میں نوعمر اور کمسن لڑکیاں اور لڑکے شامل ہیں جو شاپنگ سینٹر ز اور مارکیٹوں کے باہر گھومتے ہیں خریداری کے لیے آنے والی فیملیوں کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں دھتکارے جانے پر بھی وہ باز نہیں آتے اور جب تک انہیں بھیک دے دی نہ جائے وہ لوگوں کا تعاقب کرتے رہتے ہیں ۔ساتویں گروہ میں اپاہج اور معذور گداگر شامل ہیں ان میں لنگڑے ، لُولے اور نابینا شامل ہیں چلنے پھرنے سے قاصر افرادر یڑھی یا بیساکھیوں کے سہارے بھیک مانگتے ہیں جبکہ نابینا گداگر تین یا چار ارکان کی ٹولیوں میں ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ گھومتے ہیں اور صدا لگا کر بھیک مانگتے ہیں ۔رمضان المبار ک کا مقدس مہینہ ان بھکاریوں کے لیے دیگر مہینوں سے کہیں زیا دہ مفید ثابت ہو تا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر