پائیدار دوستانہ تعلقات، سلامتی، معاشی، تجارتی تعاون بڑھانے کے سمجھوتے

پائیدار دوستانہ تعلقات، سلامتی، معاشی، تجارتی تعاون بڑھانے کے سمجھوتے

بیجنگ ( مانیٹرنگ ڈیسک )شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ کانفرنس میں رکن ملکوں میں باہمی تعاون، پائیدار دوستانہ تعلقات، سلامتی، معاشی، تجارتی تعاون بڑھانے کے سمجھوتوں پر دستخط ہوگئے۔چین کے شہر چینگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کا دو روزہ اجلاس ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدرشی جن پنگ نے بطور رکن پہلی بار شرکت پر پاکستان اور بھارت کے سربراہوں کا خیرمقدم کیا، انہوں نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی خودغرض اور تنگ نظر پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئے باہمی تجارتی نظام اورکھلی معیشت کی تعمیر کااعلان کیا۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پڑوسیوں کے ساتھ رابطے استوار کرنا اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اپنی پالیسیاں تھوپنے کی امریکی کوششیں سب ملکوں کیلییخطرناک ہیں۔چینی صدر کی جانب سے رکن ملکوں کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا تقریب میں لیزر لائٹس سے میوزیکل پرفارمنس اور آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔صدر ممنون حسین اور روس کے صدرولادی میرپیوٹن نے چنگ ڈاو میں ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر ہوئی جس میں دوطرفہ امور، عالمی اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں صدر مملکت اور روسی صدر نے باہمی تعلقات میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سلامتی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔دونوں صدور نے اتفاق کیا کہ پاکستان اورروس کے درمیان تجارت میں اضافے کے وسیع امکانات ہیں لہٰذا دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھایا جائے گا۔

بیجنگ (آئی این پی ) صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ افغان صدر کی جانب سے طالبان کو تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں، افغانستان میں امن و استحکام ہماری مشترکہ خواہش ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت افغان رابطہ گروپ کا قیام خوش آئند ہے، پاکستان نے دہشت گردی کا سدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے،پاکستان کے تجربات سے شنگھائی تعاون تنظیم فائدہ حاصل کرسکتی ہے، ، چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی اور کاروبار کے لیے صورتحال میں بہتری آئی، رواں سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے،پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لیے بھی بہترین منزل قرار پایا ہے، ہماری کامیابیوں کو سی پیک نے مزید تقویت پہنچائی، پاکستان اس لحاظ سے جنوبی ایشیا میں پہلے اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے، ہم مستقبل میں ترقی کی رفتار میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں،، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی جائے، ایس سی او کے تحت غربت کے خاتمے پر توجہ دی جائے، دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کیا جائے، رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں، اقوام عالم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب ایک ہوں، دیرپا امن و استحکام کے لیے باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں ۔شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان دوطرفہ بنیادوں پر جامع لائحہ عمل پر کام کر رہے ہیں، افغانستان میں امن ہماری مشترکہ خواہش اور افغانستان میں جنگ بندی مثبت پیش رفت ہے، پاکستان امن و استحکام کیلیے ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھے گا۔ ا افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کو تعاون کی پیشکش کاخیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان اورافغانستان دو طرفہ بنیادوں پرجامع لائحہ عمل کے تحت کام کررہے ہیں، پاکستان میں کاروبار کیلیے صورتحال میں بہتری آئی اور چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی ہے، ہم ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سرخرورہے ہیں۔صدر نے کہا کہ پاکستان کے تجربات سے شنگھائی تعاون کی تنظیم(ایس سی او)فائدہ حاصل کرسکتی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کاسدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں، پاکستان میں جمہوری اقدار اور ادارے مضبوط ہوئے ہیں، امید ہے الیکشن کے بعد پاکستان میں مزید اقتصادی استحکام آئے گا جب کہ پاکستان کی کامیابیوں کو سی پیک نے مزید تقویت پہنچائی ہے، پاکستان اس لحاظ سے جنوبی ایشیا میں پہلے اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان نجی سرمایہ کاری کیلیے بہترین منزل قرار پایاہے، پاکستان کی کارکردگی بین الاقوامی اداروں میں مثبت طور پر ریکارڈ ہوئی ہے، اس سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے، پاکستان میں کاروبار کیلیے صورتحال میں بہتری آئی ہے،پاکستان میں سروسز اور ذراعت کے شعبوں میں ترقی قابل ذکر ہے۔صدر مملکت نے سی پیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک نے پاکستانی معیشت کو مزید تقویت پہنچائی، دیرپا امن واستحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کیلیے خصوصی اقدامات کیے جائیں،خصوصی اقدامات سے خطے کے ملکوں میں تجارت، اقتصادی سرگرمیاں فروغ پاسکیں گی، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں خصوصا مواصلات کے شعبے کی حمایت کی جائے، شنگھائی جذبے کے تحت ترقی میں شراکت کے رہنما اصول کومد نظر رکھاجائے،اس سلسلے میں ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سی پیک کی بدولت معاشرے میں استحکام آیا سی پیک کی بدولت آنے والے وقتوں میں ملک میں مزید اقتصادی استحکام آئے گا۔ اپنے خطاب کے دوران صدر ممنون حسین نے خطے میں قیام امن کیلئے جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ افغانستان میں امن و استحکام ہماری مشترکہ خواہش ہے جس کے لیے پاکستان ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھے گا۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو طرفہ بنیادوں پر جامع لائحہ عمل کے تحت کام کر رہے ہیں شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت افغان رابطہ گروپ کا قیام خوش آئند ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کا سدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں اور پاکستان کے تجربات سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او ) فائدہ حاصل کرسکتی ہے، ہم ذمے داریوں کی ادائیگی میں سرخرو رہے ہیں۔ رواں سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے۔ پاکستان کی کارکردگی بین الاقوامی اداروں میں مثبت طور پر ریکارڈ ہوئی ہم مستقبل میں ترقی کی رفتار میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاری ،تجارت، ای کامرس، ریلوے اور سیاحت کے فروغ کو ایس سی او کے اقدامات مضبوط بنا سکتے ہیں، خطے کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود کے لیے 5 نکاتی ترجیحات کا تعین ضروری ہے، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی جائے۔صدر نے تجویز دی کہ ایس سی او کے تحت غربت کے خاتمے پر توجہ دی جائے اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کیا جائے، رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔صدر نے کہا کہ اقوام عالم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب ایک ہوں، دیرپا امن و استحکام کے لیے باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں جس سے خطے کے ملکوں میں تجارت اور اقتصادی سرگرمیاں فروغ پاسکیں۔ممنون حسین نے تجاویز پیش کیں کہ ایس سی او ممالک میں تعاون کے فروغ کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں تاکہ خطے کے ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی سرگرمیاں فروغ پا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو مخصوص جیو پولیٹکل نظر سے دیکھنے کے بجائے خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں خاص طور پر مواصلاحات کی حمایت کی جائے جس میں ایک خطہ ایک شاہراہ اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے خاص طور قابل ذکر ہیں۔ممنون حسین نے تجویز پیش کی کہ خوشحالی اور ترقی کے ضمن میں شنگھائی جذبے کے تحت ترقی کی شراکت کے رہنما اصول کو مد نظر رکھا جائے اس کے تحت غربت کا خاتمہ کرسکیں اور کمزور معیشت بہتر ہو سکے۔صدر مملکت نے واضح کیا کہ ایس سی او بزنس کونسل اور تجارت کے مختلف شعبوں کے درمیان رابطے یقینی بنایا جائے اور تاجروں کے لیے سفر کو آسان بنانے کے لیے ویزا اجرا کے نظام پر بھی غور کیا جائے۔صدر نے بتایا کہ پاکستان نے اس موقع کے لیے ڈاک کا خصوصی ٹکٹ جاری کیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر