لاہور میں صبح سے شام پتنگ بازی کا خطرناک کھیل جاری’’بوکاٹا‘‘ کے نعرے پولیس مہم عملاً ناکام

لاہور میں صبح سے شام پتنگ بازی کا خطرناک کھیل جاری’’بوکاٹا‘‘ کے نعرے پولیس ...

لاہور(خبرنگار)صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ روز صبح سویرے سے شام تک پتنگ بازی، بوکا ٹا کے نعرے، سٹی ڈویژن اور صدر ڈویژن میں سب سے زیادہ پتنگ بازی، گرمی کی شدت اور روزے کے باعث پولیس کی مہم عملاً ناکام رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پتنگ بازی کے خونی اور خطرناک کھیل کی روک تھام نہ ہونے کے باعث پتنگ سازی اور پتنگ بازی میں تیزی آ گئی ہے۔گزشتہ روز لاہور کے 86تھانوں میں سب سے زیادہ سٹی ڈویژن جبکہ دوسرے نمبر پر صدر ڈویژن میں پتنگ بازی ہوئی ۔ صبح سویرے ہی گھروں اور مارکیٹوں کی چھتوں پر بو کاٹا کے نعرے لگنے شروع ہو گئے، رنگا رنگ کی پتنگیں اور بڑے بڑے سائز کے گڈے آسمان پر نظر آتے رہے۔ شہری دن بھر خوف کے سائے میں مبتلا رہے جبکہ اس خطرناک کھیل کی روک تھام میں پولیس کی مہم عملاً ناکام رہی۔ گزشتہ روز شہر میں منی بسنت منائی گئی۔ پتنگ باز رنگا رنگ اور مختلف سائز کی پتنگیں اور گڈے لے کرصبح سویرے گھروں کی چھتوں اور پلازوں وغیرہ پر چڑھ گئے اور دن بھر کھلے عام پتنگ بازی کرتے رہے۔ شہری پولیس ایمرجنسی 15 اور تھانوں سمیت ایس ایچ اوز کے ٹیلی فون نمبروں پر کالیں کرتے رہے لیکن ایمرجنسی 15 اور ایس ایچ اوز کے نمبر مصروف ہونے کے باعث متعدد علاقوں کے شہریوں کا پولیس سے رابطہ نہ ہو سکا جبکہ نشتر کالونی کے شہری دن بھر سراپا احتجاج بنے رہے۔ شہریوں کاکہنا ہے کہ پتنگ سازی اور پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود خونی کھیل جاری ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے جس کے باعث جانی حادثات کے خطرات بڑھنے لگے ہیں، اس پر حکومت کو نوٹس لینا چا ہئے۔

مزید : علاقائی