پیپلز پاری، (ن)لیگ کے فائنل امیدوار فائنل، تحریک انصاف دھڑے بندی کا شکار

پیپلز پاری، (ن)لیگ کے فائنل امیدوار فائنل، تحریک انصاف دھڑے بندی کا شکار

ملتان(سپیشل رپورٹر،سٹی رپورٹر)این اے 154 ملتان ون اور پی پی 211 ملتان ون میں ٹکٹ کے حصول کیلئے میدان میں اترنے والے(بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

امیدواروں میں پارٹی ٹکٹ کے حصول کیلئے کشمکش جاری ، صورتحال دلچسپ ہوگئی۔ ، این اے 154 سے سابق ایم پی اے شہزاد مقبول بھٹہ مسلم لیگ ن کی طرف سے تاحال واحد امیدوار ہیں بالکل یہی صورتحال پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے پیپلز پارٹی کی طرف سے اس حلقہ کیلئے تن تنہا امیدوارسابق وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی کے صاحبزادے سید عبدالقادر گیلانی مقابلیکیلئے میدان میں موجود ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے قبل ازیں چار امیدوار میدان میں تھے جن میں اب احمد حسین ڈیہڑ اور سابق وفاقی وزیر سکندر بوسن پارٹی ٹکٹ کے دعویدار ہیں ، احمد حسین ڈیہڑ نے پاکستان پیپلز پارٹی کوچھوڑ کر اس حلقے میں پی ٹی آئی میں کافی پہلے شمولیت اختیار کرلی تھی اور اس حلقے میں انہوں نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے خاصی سیاسی دوڑ دھوپ بھی کی اور ایک وقت مین وہ تنہا امیدوار محسوس ہوتے تھے مگر بعد ازاں پی ٹی آئی سے ہی خالد جاوید وڑائچ بھی اس حلقے سے لڑنے کے خواہشمند دکھائی دیئے مگر ساری صورتحال اس وقت دلچسپی کے عروج پر پہنچی اور گہماگہمی پیدا ہوئی جب مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر حاجی سکند ر حیات بوسن جوکہ اسی حلقہ سے گزشتہ دور میں بھی ایم این اے منتخب ہوئے انکی جانب سے ن لیگ کو خیر باد کہہ کر پی ٹی آئی میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا تو اس سے ن لیگ جہاں اپنے مضبوط ترین امیدوار سے محروم ہوئی تو وہاں احمد حسین ڈیہڑ بھی پریشانی میں مبتلا ہوئے حاجی سکندر حیات بوسن کی جانب سے ن لیگ کو خیر باد کہنے کے بعد اب سابق ایم پی اے شہزاد مقبول بھٹہ ن لیگ کی طرف سے اس نشست پر امیدوار کے طور پر سامنے آئے ، جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے عبدالقادر گیلانی ہی امیدوار ہیں ،گزشتہ دور میں بھی سکندر بوسن عین وقت پر ن لیگ میں شامل ہوئے تھے اور ٹکٹ لے کر کامیابی سے ہمکنا ربھی ہوئے ، اس کامیابی میں اڈ ابند بوسن سے بوسن برادر ی کا پاکٹ ووٹ بنیادی اہمیت کا حامل رہا جبکہ شہزاد مقبول بھٹہ ایم پی اے کی وجہ سے قاسم بیلہ وملحقہ علاقوں دیگر علاقوں سے سکندر بوسن کو خوب ووٹ ملا ، اور دوسری طرف شوکت بوسن جوکہ ایم پی اے کے امید وار تھے نے بھی اپنے بھائی کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ، اب صورتحال خاصی مختلف ہے ڈیہڑ برادری بھی اس حلقے میں خاصا سیاسی اثر ورسوخ رکھتی ہے اور عوامی رجحان پی ٹی آئی کی طرف ہے،مگر سکندر بوسن پی ٹی آئی کے ٹکٹ ملنے پر مضبو ط امیدوار کے طور پر سامنے آسکتے ہیں دوسری جانب پی ٹی آئی کارکنان نے سکندر بوسن کی شمولیت اور ٹکٹ دیئے جانے کے ممکنہ فیصلے کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی تاحال فیصلہ نہیں کرپائی، ذرائع کا یہ بھی کہناہے کہ پی ٹی آئی سے ٹکٹ نہ ملنے پر سکندر بوسن ن لیگ میں واپس جانے کی بجائے اسی حلقہ سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا ارادہ کرچکے ہیں ۔عبدالقادر گیلانی کے پاس دیہی علاقوں میں موجود پیپلز پارٹی کااچھا خاصا ووٹ بینک ہے جسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ سابقہ ادوار میں ان کے والد سید یوسف رضا گیلانی اور وہ خود بھی اس حلقہ سے انتخاب جیت چکے ہیں۔ اسی طرح پی پی۔ 211 ملتان ون میں بھائی کے ساتھ پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعدٹکٹ کے خواہشمند شوکت بوسن ،پیپلز پارٹی کی طرف سے علی حیدر گیلانی ، پی ٹی آئی سے ہی وسیم خان بادوزئی ، عاصم ڈیہڑ ، خالد وڑائچ ، ملک قادر نواز سانگی امیدوار ہیں اور پارٹی ٹکٹ کے منتظر ہیں ، تمام امیدواروں کادعوی ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے گرین سگنل مل چکا ہے اور ٹکٹ انہیں ملے گا مگر صورتحال ٹکٹ جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی ، اس نشست پر گزشتہ دور میں شوکت بوسن ن لیگ کے ٹکٹ سے کامیاب ہوئے تھے تاحال بھی وہ مظبوط امیدوار دکھائی دیتے ہیں ۔وسیم خان بادوزئی اور عاصم ڈیہڑ کا اس حلقے میں خاصا ورک ہے اور خالد وڑائچ نے بھی کچھ عرصہ قبل اس حلقے میں بھاگ دوڑ شروع کی تھی ، جبکہ ملک قادر نواز کااثر ورسوخ موضع سانگی میں خاصا موثر ہے ، تاہم بپی برادری طرف سے انہیں ہمیشہ ٹف ٹائم دیا جاتا ہے ۔تاہم ملک کی تینوں بڑی جماعتوں میں سے سوائے پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو قومی حلقہ این اے 155اور صوبائی حلقہ پی پی 211میں اپنا امیدوار سامنے لانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا فائدہ بلاشبہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچ سکتا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر