ٹکٹ معاملہ،کھلاڑیوں کا بنی گالہ میں مسلسل دوسرے روز بھی احتجاج

ٹکٹ معاملہ،کھلاڑیوں کا بنی گالہ میں مسلسل دوسرے روز بھی احتجاج

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) عام انتخابات 2018 کیلئے تحریک انصاف کے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر کا رکنان کی جانب سے گزشتہ روز بھی بنی گالہ میں احتجاج جاری رہا۔بنی گالہ آنیوالے فوادچودھری اور فرخ حبیب کی گاڑیاں بھی مظاہرین نے روک لیں۔ تفصیلات کے مطابق پارٹی ٹکٹوں سے محروم امیدواروں کے حامی کا ر کنوں کا بنی گالہ جانیوالے مختلف راستوں پر احتجاج دوسرے روز بھی جاری ہے۔پی پی 100 جڑانوالہ سے خان بہادر ڈوگر اور پی پی 3 سے اکبر خان تنولی کے حامیوں کی جانب سے بنی گالہ میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ جڑانوالہ سے آنیوالے مظاہرین کا کہنا تھا صوبائی اسمبلی کے 2 حلقوں کے ٹکٹ دو بھائیوں کو دیے گئے ہیں جس سے ان کی حق تلفی ہوئی ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 87 بنوں کے کارکنان کا بھی بنی گالہ میں احتجاج جا ر ی ہے گزشتہ روز این اے 54 سے سرور خان کو ٹکٹ دیے جانے کیخلاف پارٹی رہنما اجمل راجا کے حامیوں کی جانب سے عمران خان کی رہا ئشگاہ کے باہر شدید احتجاج کیا گیا تھا۔مظاہرین نے سرور خان کو پارٹی ٹکٹ دینے کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے انتخاب کو ناقا بل قبول قرار دیا تھا۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کا مظاہرین سے خطاب میں کہنا تھا 90فیصدٹکٹوں پرکوئی اختلا ف سامنے نہیں آیا اور این اے 65چکوال کا ٹکٹ بھی ابھی فائنل نہیں ہوا۔کوشش ہے امین اسلم اور طاہر صادق ایک پیج پرآجائیں،این اے 65چکوال کا بھی ٹکٹ ابھی فائنل نہیں ہوا۔یاد رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 8 جون کو قومی اسمبلی کے 173 اور صوبائی اسمبلیوں کے 290 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا تھا۔امیدواروں کے اعلان کے بعد عمران خان کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ امیدواروں کا انتخاب نہایت اہم مگر کٹھن مرحلہ تھا لیکن نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے۔خیال رہے تحریک انصاف کی جانب سے 8 جون کو قومی اسمبلی کے 173 اور صوبائی اسمبلیوں کے 290 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا تھا۔امیدواروں کے اعلان کے بعد عمران خان کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا امیدواروں کا انتخاب نہایت اہم مگر کٹھن مرحلہ تھا لیکن نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے۔ ساڑھے 4 ہزار درخواستیں مو صو ل ہوئیں، فطری امر تھا سب ٹکٹس دینا ممکن نہ تھا، جہاں ضرورت محسوس کی خفیہ انداز میں عوام اور کارکنان سے رائے لی، دیرینہ کارکنان اور پارٹی وفاداری کو فیصلہ سازی میں ملحوظ خاطر رکھا۔

کھلاڑی احتجاج

مزید : کراچی صفحہ اول