کراچی کی قیادت کے بغیر ملک سرخرو نہیں ہوسکتا ، خالد مقبول صدیقی

کراچی کی قیادت کے بغیر ملک سرخرو نہیں ہوسکتا ، خالد مقبول صدیقی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیوایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہمارا کردار ہماری ڈگری اور ہمارا ماضی ہمارا منشور ہے ،70 سال بعد دنیا اور پاکستان کے اقتصادی اور معاشی ماہرین نے متنبہ کردیا ہے کہ یہ پاکستان اس وقت خوشحال ہوگا ، قرضے اس وقت اترے گے ، پاکستان اقوام عالم میں سر اٹھا کر اس وقت چلے گا جب کراچی کو قیادت کا موقع ملے گا ۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ جو بہترین غلام تھے جونے انگریزوں کی غلامی میں حد سے زیادہ گزر گئے ، بدلے میں زمین اور جائیداد حاصل کیں جو دنیا کے بہترین غلام تھے وہ ہمارے آقا بن گئے یہ فارمولا ہے کہ جو بہترین غلام ہوتا ہے وہ بد ترین آقا ثابت ہوتا ہے ، اب پاکستان کو اس کی حکمرانی اصل وارثوں کو پہچانے کی صدی شروع ہوچکی ہے،جو لوگ صوبوں کی تقسیم کو غداری سمجھتے ہیں گویا وہ صوبوں کو ایڈمنسٹریٹو یونٹ نہیں مملکت سمجھتے ہیں ۔ 140Aکے تحت پاکستان میں جمہوریت تب کہلائے گی جب بنیادی شہری حکومتیں ہوں گی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی شب رمضان المبارک کے سلسلے میں ایم کیوایم پاکستان ڈسٹرکٹ سینٹرل کے زیراہتمام اسلامی ریسرچ سینٹر عائشہ منزل پرمنعقد کی گئی افطار پارٹی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ افطار میں ایم کیوایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل ، رابطہ کمیٹی کے ارکان کشور زہرا ،محفوظ یار خان ، سابق رکن سندھ اسمبلی ، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام ، معززین ، مختلف مارکیٹ ایسوسی ایشنز ،برادریوں ،ڈسٹرکٹ سینٹرل، ٹانز ، یوسیز کے ذمہ داران و کارکنان اور منتخب بلدیاتی نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتخابات نے ہمیں امتحان میں ڈالا ہوا ہے ، معاملہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں اب بھی ہمارے سینکڑوں کارکنان جیلوں میں ہیں ، تنظیمی دفاتر بند ہیں اور ایم کیوایم کو انتخابات میں حصہ لینا پڑ رہا ہے لیکن ہماری یہ خوش نصیبی رہی ہے کہ ہم ان علاقوں اور شہروں کا مینڈیٹ رکھتے ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پر بالغ نظر ہیں ، مشکلوں سے نمٹنا ، نبرد آزما ہونا اور حل کرنا جانتے ہیں ، ان علاقوں میں بھی جب چھاپے ، گلی گلی باڑ لگی تھی لوگ اپنے گھروں سے نکلے ہیں تو انہوں نے اپنوں کو ہی ووٹ دیا ہے اس سال بھی انشا اللہ تعالی ہم ملکر خود کو جتوائیں گے ، اپنوں کو ووٹ دیں گے اور وہ جو انتخابات کے موسم میں ایم کیوایم کو عموما کمزور دیکھ کر جو سیاسی گدھ اس شہر پر منڈلاتے رہتے ہیں اب کے بھی انہیں ناکام و نامراد واپس جانا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس شہر میں جو بھی ہوا جتنا بھی ہوا ترقی کی ایک اینٹ بھی لگائی گئی ہے تو انہی ادوار میں لگائی گئی ہے جب یہاں پر ایم کیوایم کے نمائندوں کو کچھ اختیار حاصل تھے ، گزشتہ دس سال میں ہم نے سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی خلیج کو پاٹنے کیلئے بہت بڑا تاوان ادا کیا ہے ، ہم نے نفرتوں کو کم کرنے ، محبتوں کو پھیلانے کیلئے ، غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ جاگیرداروں کی کرتی ہے وسیع تر مفاد میں برداشت کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے آبا اجداد کے قد م اس حصے پر پڑے تو یہ پاکستان بن گیا ، ہم اپنے حصے کا پاکستان اپنے کاندھوں پر اٹھا کر لائے ہیں ،پاکستان خون بن کر ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے لیکن پاکستان کی محبت وہ روشنی اور ہمت بھی دیتی ہے اوریہ بھی یاددلاتی ہے کہ پاکستان ہمارے آبا اجداد کی امانت ہے ہمیں ہی سنبھالنا ہے ، انہوں نے کہا کہ معاملہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ ، ورلڈ بینک نے بتا دیا ہے کہ یہی شہرکراچی ہے جو قرضے اتار سکتا ہے ، لوگوں کو پتا ہے کہ ہر شہر کی ایک نفسیات ، تاریخ ، مقدر ہوتا ہے پاکستان کا مقدر یہ ہے کہ یہاں خوشحالی آئے گی تو کراچی کے دروازے سے آئے گی ، اس شہر کا امن پاکستان کا امن بن سکتا ہے ، امن انصاف سے آتا ہے ، انصاف امن کی ضمانت دیتا ہے ، امن انصاف کی ضمانت نہیں دے سکتا ، ڈنڈے ، گولی ، بندوق سے قائم کئے جانے والا امن ، امن نہیں ہوتا کم سے کم دیر پا امن نہیں ہوتا ، آپ ان شہروں کو برابر کا حقدار ، ذمہ دار ، وفادار نہیں سمجھیں گے تو امن نہیں آپائے گا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول