اسلام کا ہر دشمن توحید کا پرچم بلند کرنے پر سعودی عرب سے عداوت کررہا ہے: ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ

اسلام کا ہر دشمن توحید کا پرچم بلند کرنے پر سعودی عرب سے عداوت کررہا ہے: ڈاکٹر ...
اسلام کا ہر دشمن توحید کا پرچم بلند کرنے پر سعودی عرب سے عداوت کررہا ہے: ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جدہ(محمد اکرم اسد)  سعودی عرب کے نئے وزیر اسلامی امور ودعوت و رہنمائی شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے واضح کیا ہے کہ اسلام اور اس کے پیرو کاروں کا ہر دشمن توحید کا پرچم بلند کرنے پر سعودی عرب سے عداوت کررہا ہے۔

انہوں نے وزارت اسلامی امو ر کے اعلیٰ عہدیداروں کے ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ریاست توحید کے عقیدے پر قائم ہوئی ۔ آج بھی توحید اسکی پہچان ہے آئندہ بھی رہیگی۔ بانی مملکت کے عہد سے لیکر تاحال اسلامی دعوت اور اسلام کی نشرواشاعت سعودی ریاست کا تشخص تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بابرکت سرزمین کو پوری دنیا میں بے مثال خوشحالی اور استحکام سے نواز رکھا ہے۔ ایسا نفاذ شریعت کی بدولت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اور اسکے پیرو کاروں کا ہر دشمن صرف اور صرف اس وجہ سے سعودی عرب سے عداوت برت رہا ہے کیونکہ یہ توحید کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔ امت مسلمہ کے رنج و غم کو اپنی غمی اور اپنا دکھ بنائے ہوئے ہے۔ قرآن و سنت کے نفاذ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ دشمنان دین سعودی عرب کے امن و استحکام اور عقائد کو زک پہنچانے کی ہر ممکن تگ و دو کررہے ہیں۔ وزارت کے عہدیداروںکا فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کو پورا کریں۔ صف بستہ ہوکر کام کریں۔ قرآن و سنت کو اپنی پہچان بنائیں۔ عوام کیساتھ اچھا معاملہ کریں۔

آل الشیخ نے کہا کہ سعودی عرب کی مساجد کے منبر و محراب اخوانی افکار ، جماعتی پالیسی اور انتہا پسندی پھیلانے والے نظریات کے پرچار کیلئے نہیں ہیں۔ کسی بھی خطیب کو اس کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اسلامی امو رکو اخوانی افکار ، جماعتی نظریات اور انتہا پسندانہ خیالات پھیلانے والو ںسے پاک کیا جائیگا۔ کسی بھی شخص کو شدت پسندی کے پرچار کا موقع نہیں دیا جائیگا۔ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا۔ آل شیخ نے کہا کہ انتہا پسندانہ نظریات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ ایسا کرکے ہی ہم اپنے حقیقی تشخص کو بحال کرسکیں گے اور 1979ء سے پہلے کی شناخت قائم کرسکیں گے۔

مزید : عرب دنیا