فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر449

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر449
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر449

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا میڈم نور جہاں کا فیض صاحب سے کوئی روحانی اور جذباتی تعلق تھا؟ ڈاکٹر افضل اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نور جہاں کا فیض کے کلام سے پہلا واسطہ فلم ’’جگنو‘‘ کے گانوں کے زمانے میں قائم ہوا تھا۔ ’’جگنو‘‘ میں انہوں نے ایک المیہ گانا گا یا تھا۔ جس کے بول یہ تھے۔ 

آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ 

یہ نغمہ ادیب سہارنپوری نے لکھا تھا اور اس کی طرز فیروز نظامی نے بنائی تھی ۔ فیروز نظامی صاحب کے بارے میں شاید ہم بتا چکے ہیں کہ وہ ایک عظیم موسیقار اور بہترین اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تھے ۔ مزید یہ کہ وہ پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر نذر محمد کے بھائی اور کرکٹر مدثر نذر کے چچا تھے ۔ نذر محمد وہی ہیں جوایک روایت کے مطابق چھت سے کودنے کی وجہ سے بازو کی ہڈی تڑوا بیٹھے تھے۔ اس طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک بے مثال کرکٹر سے محروم ہوگئی تھی ۔ یہ تمام واقعات بھی پہلے بیان کیے جا چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر448 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’جگنو ‘‘ کے گانے میں صرف مکھڑے میں فیض صاحب کا یہ مصرع معمولی سی ترمیم کے ساتھ استعمال کیا گیا تھا۔ بقیہ گانا سچویشن کے مطابق لکھا گیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شوکت صاحب جیسا شعری ذوق رکھنے والا شخص یہ ضرور جانتا ہوگا کہ یہ مصرع فیض صاحب کی نظم سے لیا گیا ہے بلکہ بہت ممکن ہے کہ ان کے پاس کلام فیض بھی موجود ہو۔ اس طرح نورجہاں کو بھی علم ہوگا کہ یہ مصرع فیض صاحب کی نظم سے لیا گیا ہے۔ یقیناًانہوں نے فیض صاحب کی پوری نظم بھی پڑھی ہوگی جو ان کے ذہن پر نقش ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی فیض صاحب کی شاعری اور شخصیت سے ان کا ایک ایسا رشتہ قائم ہوگیا جو مرتے دم تک قائم رہا ۔ فیض صاحب کی نظم کا مصرع یوں ہے۔ 

آج کی رات ساز دل پر درد نہ چھیڑ 

فلمی گیت نگارنے فلمی طرز کی ضرورت کے تحت ’’ دل پر درد ‘‘ اس میں سے خارج کر دیا اور گانے کی استھائیاں بذات خود لکھیں۔ 

میڈم نور جہاں ہمیشہ فیض صاحب کی شاعری کی مداح رہیں۔ اسی طرح فیض صاحب بھی ان کے بہت بڑے مداح تھے ۔ پاکستان کے قیام کے زمانے میں ان دونوں کی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے عقیدت تھی اور وہ ایک دوسرے کی عظمت کے قائل تھے ۔

نور جہاں فیض صاحب کے کلام سے کتنی متاثر تھیں اس سلسلے میں سعادت حسن منٹونے اپنے مضمون ’’نور جہاں سرور جہاں ‘‘ میں ایک واقعہ لکھا ہے ۔ ایک بار منٹو صاحب نے نور جہاں کو اپنے فلیٹ پر کھانے پر مدعو کیا تھا۔ منٹو صاحب کے نور جہاں اور شوکت حسین رضوی دونوں سے دیرینہ مراسم تھے۔ یہ واقعات بھی انہوں نے تحریر کیے ہیں اور ان دونوں کے عشق اور شادی کا قصہ بھی اپنے مخصوص اندا زمیں لکھا ہے۔ 

منٹو صاحب کے لکشمی مینشن والے فلیٹ پر نور جہاں تشریف لائیں ۔ یہ دراصل فرمائشی پروگرام تھا۔ منٹوصاحب کی بیگم صفیہ کی چند سہیلیوں نے نور جہاں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔ منٹوصاحب نے نور جہاں کو مدعو کیااور وہ چلی آئیں۔ 

مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب کھانے کے بعدمنٹو اورمہمانوں نے فرمائش کی کہ نور جہاں کچھ سنائیں۔ نور جہاں نجی محفلوں میں نہیں گایا کرتی تھیں،ایسا کبھی نہیں ہوا تھا مگر منٹو صاحب سے تعلقات اور ان کی شخصیت کا احترام بھی مقصود تھا۔ انہوں نے یہ عذر کردیا،منٹو جب کسی بات پر اڑجاتے تھے تو انکار ممکن نہ تھا ۔ان کی بیگم نے فرمائشی نظروں سے انہیں دیکھا تو انہوں نے اصرارکیا۔ یہ میڈم کی زندگی کا پہلا اور آخری واقعہ ہے کہ اس موقع پر وہ بے بس ہوگئیں اور اپنا اصول توڑا ۔ میڈم نے فیض صاحب کی یہی نظم سنا دی۔ 

آج کی رات 

ساز دل پر درد نہ چھیڑ 

اس وقت تک انہوں نے فیض صاحب کی نظم ’’مجھ سے پہلی سی محبت ‘‘ نہیں گائی تھی ۔ جو بعد میں ان کی من پسند چیز بن گئی تھی اور وہ تقریبات میں یہی نظم پیش کر تی تھیں۔ ممکن ہے اس میں کچھ دخل حالات کا اور احساسات کا بھی ہوا اور وہ یہ نظم گاتے ہوئے اپنی دانست میں براہ راست شوکت صاحب سے مخاطب ہوتی ہوں۔ 

فیض صاحب سے نور جہاں کا رشتہ دو عظیم فنکاروں کا رشتہ تھا۔ فیض صاحب نور جہاں کے مداح تھے ۔ ان کی نظمیں اور غزلیں اور بھی بہت سے نامور گلوکاروں اور گلوکاراؤں نے گائیں مگر یہ نظم انہوں نے نور جہاں کے نام کردی تھی۔ یعنی اس کے حوالے کر دی تھی۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ فیض صاحب نے کبھی کسی مشاعرے میں یہ نظم نہیں پڑھی ۔ اگر فرمائش کی جاتی تو وہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں مسکراکر کہا کرتے تھے ’’بھئی یہ نظم اب ہماری نہیں رہی ۔ اب یہ ان ہی کی ملکیت ہے ۔ ‘‘

ایک بہت بڑے فنکار کا دوسرے بہت بڑے فنکار کے لیے یہ جذبہ اور احترام واقعی اپنی مثال آپ ہے ۔ اس سے فیض صاحب کی وضع داری بھی ظاہر ہوتی ہے۔ 

فیض صاحب اور نور جہاں کا یہ واقعہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں لیکن اس موقع پر اسے دہرانا برمحل ہوگا کہ فیض صاحب کے اعزاز میں لاہور میں ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہوئی جس میں ممتاز فنکاروں ‘ دانش وروں اور ہنر مندوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ ہر ایک کا اپنا انداز تھا۔ 

ملکہ پکھراج نے فیض صاحب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں اپنا بھائی سمجھتی ہوں۔

جب میڈم نورجہاں کی باری آئی تو وہ شرارت آمیز مسکراہٹ اور شوخ آنکھوں کے ساتھ اسٹیج پر آئیں۔ مناسب الفاظ میں فیض صاحب کی شاعری کو سراہا اور پھر اپنے بے باک انداز میں بولیں ’’ میں فیض صاحب کو بھائی نہیں سمجھتی۔ وہ میرے محبوب ہیں ۔ ‘‘

ہال میں قہقہے بلند ہوئے اور بہت دیر تک ہال تالیوں سے گونجتا رہا ۔ فیض صاحب شرمیلی طبیعت کے مالک تھے مگر اس شرارت پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر450 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ