ریحام خان کے بعد ایک اور سیاسی شخصیت کی مبینہ اہلیہ میدان میں ، میری کتاب بشارت راجہ سمیت بڑے شریف زادوں کے چہرے بے نقاب کردے گی: سمیل راجہ

ریحام خان کے بعد ایک اور سیاسی شخصیت کی مبینہ اہلیہ میدان میں ، میری کتاب ...
ریحام خان کے بعد ایک اور سیاسی شخصیت کی مبینہ اہلیہ میدان میں ، میری کتاب بشارت راجہ سمیت بڑے شریف زادوں کے چہرے بے نقاب کردے گی: سمیل راجہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک (ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی کی سابق رکن اور پرویز الٰہی دور میں وزیر قانون راجہ بشارت کی اہلیہ ہونے کی دعویدار سیمل راجہ نے گزشتہ روز چند مقامی پاکستانی صحافیوں کو اپنی زیر طبع کتاب کا ٹائٹل دکھایا اور کہا کہ میں اسی کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں امریکہ آئی ہوں، پنجاب کے سابق وزیر قانون راجہ بشارت نے پہلے تو مجھے اپنی بیوی ماننے سے انکار کیا پھر سابق سنیٹر پری گل آغا کے سابق شوہر نے متعدد اہم لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ سیمل راجہ نے دھوکے سے مجھ سے شادی کی تھی حالانکہ راجہ بشارت شادیوں کا شوقین ہے پہلی بیوی خاندانی تھی، دوسری سابق سنیٹر پری گل، تیسری شادی معروف ٹی وی اینکر کنول سے کی، چوتھی مجھ سے حالانکہ میں دو بچوں کی ماں اور شادی شدہ خاتون تھی مگر راجہ بشارت کے اصرار پر میں نے اپنا شوہر چھوڑ اور زندگی کی یہ سب سے بڑی غلطی کی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق سیمل راجہ نے کہا کہ اب میرا اس سے مقدمہ لاہور کی عدالت میں چل رہا ہے اور جب پارٹی لیڈر چودھری شجاعت کی کتاب کی افتتاحی تقریب آواری ہوٹل لاہور میں ہو رہی تھی تو وہاں پہنچ گئی لیکن راجہ کے ایماءپر سکیورٹی والوں نے ہال کے اندر داخل نہ ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ق کے لیڈران چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی تو خاندانی آدمی اور شریف انسان ہیں لیکن اپنے سابق صوبائی وزیر سے مروت کے سبب اس بارے میں خاموش ہیں  اور میں نے خواتین کے ایک جلوس کے ساتھ ان کے گھرظہورالٰہی روڈ پر بھی مظاہرہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا ریحام خان کی کتاب میں عمران خان کے حوالے سے جو انکشافات کئے ہیں میرا معاملہ اس سے برعکس ہے اور میرے پاس نکاح کے ثبوت تصاویر اور دیگر کاغذات موجود ہیں۔ میں نے یہ کتاب صرف اس لئے لکھی ہے کہ سیاست کے میدان میں پاکستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے جس طرح مخصوص نشستوں پر خواتین کو خوفزدہ اور ہراساں کر کے دوستیاں لگائی جاتی ہیں ،میں کئی برس تک پنجاب اسمبلی میں رہنے کے باعث بہت سے نام نہاد شریفوں کے پردے چاک کر سکتی ہوں اور میری کتاب کا مقصد بھی یہ ہے کہ جس بے و قوفی کے تحت اپنا گھر، بچے اور سابقہ شوہر کو قربان کیا اور موجودہ شوہر نے جس طرح میری جائیداد گاڑی اور جیولری پر قبضہ جمایا، اب میں نے مظلوم عورتوں کی ایک این جی او بنائی ہے اور پاکستان میں راولپنڈی، لاہور، ملتان میں متعدد مظلوم عورتوں کے حقوق دلانے کے لئے عدالتوں کے اندر اور باہر جدوجہد کر رہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ راجہ بشارت کے بارے میں اتنے ثبوت موجود ہیں کہ میری کتاب کی اشاعت سے کوئی پبلشر انکار نہیں کر سکتا  البتہ جن بڑے لوگوں کی خفیہ زندگی کے بارے کتاب کے آخری باب میں انکشافات کئے ہیں ان کے متعلق میرا پبلشر ثبوت مانگ رہا ہے ،اب میں اسے کیا بتاﺅں کہ پاکستان میں بڑے بڑے شریف زادوں کے کیا لچھن ہیں اور کتنے مالدار لوگوں نے خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور ان میں کیا کچھ ہوتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ باب نہیں چھپ سکے گا لیکن راجہ بشارت کے بارے میں تو صرف عدالت کی کارروائی اور مختلف پیشیوں میں اس کے مختلف اور متضاد رویوں کی تفصیل ہی اس ذہنی بیمارشخص کا چہرہ بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا کبھی کسی صوبے کا وزیر قانون اور اسمبلی کا رکن بھی یہ کہہ سکتا ہے میں دودھ پیتا بچہ تھا اور فلاں عورت نے مجھ سے دھوکے سے شادی کر لی۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کی کتاب 2 ماہ کے اندر سامنے آ جائے گی، واضح رہے کہ راجہ بشارت سے شادی سے قبل سیمل کامران کے نام سے مشہور تھیں اور کامران ان کے سابق شوہر کا نام تھا۔

مزید : بین الاقوامی