تم ووٹر ہو تمہیں ووٹر رہنا ہے

تم ووٹر ہو تمہیں ووٹر رہنا ہے
تم ووٹر ہو تمہیں ووٹر رہنا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عام انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا معاملہ اختتامی مراحل میں ہے،جلد ہی امیدواروں کی ابتدائی فہرست سامنے آجائے گی۔ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے تحریکِ انصاف سب سے نمایاں اور سب سے زیادہ پریشر میں نظر آرہی ہے۔

تحریک انصاف کا پارلیمانی بورڈ اب تک 213 افراد کو ٹکٹ دے چکا ہے جس میں سے 173 افراد کا تعلق دوسری جماعتوں سے شامل ہونے والے امیدواروں پر مشتمل ہے۔ جبکہ عمران خان خود بھی پانچ حلقوں سے حصہ لے رہے ھیں۔اس طرح اگر کچھ نظریاتی کارکنان کو ٹکٹ دیئے بھی گئے ہیں تو انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ المیہ یہ ہے کے یہ سارا کام وہ جماعت کر رہی ہے جسکا منشور ہی تبدیلی تھا۔ان سارے معاملات کو لے کر شدید رد عمل سامنے آرہا ہے اور تحریک انصاف ایک تنظیم کم اور ہجوم زیادہ نظر آرہی ہے کہ جس کے سینگ جدھر سمائیں ادھر ہی نکل گئے۔

ان انتخابات میں بھی موروثی اور برادری کی سیاست عروج پر نظر آرہی ہے ۔ایک ایک خاندان میں چار چار تک ٹکٹ دئیے گئے ہیں ۔ایک وقت ہم 22 خاندانوں کا بہت شہرہ سنتے تھے اب یوں لگتا ہے کے ہمارے مقدر میں پھر سے یہ پچاس ساٹھ خاندان لکھ دئے گئے ہیں جو ہماری قسمتوں کا فیصلہ کرتے رہیں گے اور ہماری گردنیں انکے سامنے جھکی رہیں گی کیونکہ کہ انقلاب و بغاوت کی کوئی چنگاری ہمارے خاکستر میں سرے سے ہے ہی نہیں۔

الیکشن کمیشن کی شرط تھی کے 25 فیصد ٹکٹ خواتین کو دئیے جائیں گے مگر تحریک انصا ف سمیت کسی بھی جماعت کی جانب سے یہ شرط پوری ہونا نا ممکن نظر آرہا ہے۔ن لیگ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہی پرانے روایتی چہرے نظر آرہے ہیں ۔ چوہدری نثار کو لے کر نواز شریف اور شہبازشریف میں اختلاف نظر آرہا ہے ۔نواز شریف چوہدری نثار کو جھکانا چاہتے ہیں مگر خطہ پوٹھوہار کی ضد جھکنے والی نہیں لگتی۔ 

شہبازشریف صاحب لاہور کے علاوہ کراچی کے تین حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔بھلے الیکشن کا حتمی فیصلہ پنجاب کی سیاست سے ہو مگر کراچی بھی مرکز نگاہ رہے گا کیونکہ بانی متحدہ کی عدم موجودگی اور متحدہ کے آپس کے اختلافات نے کراچی کی سیاست میں جو خلا پیدا کیا ہے اسے پر کرنے کے لیئے ہر ایک اپنی بھرپور کوشش کرے گا۔

ہاں اس سارے قصے میں جو سب سے بڑا شئیر ہولڈر ہے وہ کہیں نہیں ہے۔ مطلب جمہور یعنی عوام ۔۔۔ ویسے بھی ہمارے یہاں جمہور کا کام پانچ سال میں ایک بار ووٹ ڈالنا ہے بس ۔کیونکہ اسکا سفر یہیں تک ہے۔ یہاں عوام کی مثال اس سیڑھی کی طرح ہے جو کام نکلنے پر ہٹا لی جاتی ہے اور کام پڑنے پر پھر لگا لی جاتی ہے۔ جمہور کے وو ٹوں سے منتخب ہونے والے پہلے سال بتاتے ہیں کہ ورثے میں خزانہ خالی ملا ہے ہم عوام کے مسائل کے لیئے پالیسی بنا رہے ہیں۔ جب اسمبلی بجٹ پیش کرتی ہے تو صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں پورے دس فیصد اضافہ کرتی ہے اور کم سے کم اجرت 14000 ۔ظاہر ہے خزانہ خالی ملے تو یہ بھی بہت ہے۔ہاں یہ اور بات ہے، یہ اسمبلیاں اپنے غریب ممبران کے لیئے تنخواہ اور دیگر اخراجات کی مد میں سو فیصد اضافہ کرنا نہیں بھولتی ، مہنگائی جو بہت ہے مسائل زیادہ ہیں وسائل کم ہیں۔

ایک صاحب جنہیں تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں ملا وہ ٹی وی پر فرما رہے تھے کہ میں الیکشن کے لیئے چار کروڑ رکھ کر گھوم رہا ہوں اور ٹکٹ کسی اور کو دے دیا گیا ہے۔چار کروڑ تک کسی عام ووٹر کی رسائی کیسے ممکن ہے؟؟

چاہے تبدیلی والے ہوں، نیا پاکستان کے دعویدار ہوں یا بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگانے والے۔ ان سب کی ترجیح عوام کبھی نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو انتخابات میں امیدواروں کی سلیکشن کرتے وقت عوام میں سے بھی نمائندے لیئے جاتے ۔صرف خواص کو منتخب نہ کیا جاتا ۔ مگر کیا کریں صاحب۔ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔

اور مندے کے دور میں دھندے میں رسک کون لے سکتا ہے۔ جب وزیر کا بیٹا وزیر بن رہا ہے، ممبر کا بیٹا ممبر تو جمہور سے گزارش ہے کہ توووٹر ہے اس لئے ووٹر بن کر رہو اور جمہوریت کو پروان چڑھانے میں پولنگ ڈے پر اپنا بھرپور کردار ادا کرو۔ باقی ہم خود دیکھ لیں گے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ