وہ وقت جب بلاول بھٹو کے نانا بھٹو نے خفیہ شادی کرلی تو انکی نانی نے خود کشی کی کوشش کی ،بھٹو نے جس خاتون کے عشق میں اپنے چاربچوں کی ماں کوموت کے منہ میں دھکیل دیا ،اسکا انجام کیا ہوا ؟بھٹو خاندان کا ایسا راز جسے جان کر ہرکوئی ششدر رہ جائے گا 

وہ وقت جب بلاول بھٹو کے نانا بھٹو نے خفیہ شادی کرلی تو انکی نانی نے خود کشی کی ...
وہ وقت جب بلاول بھٹو کے نانا بھٹو نے خفیہ شادی کرلی تو انکی نانی نے خود کشی کی کوشش کی ،بھٹو نے جس خاتون کے عشق میں اپنے چاربچوں کی ماں کوموت کے منہ میں دھکیل دیا ،اسکا انجام کیا ہوا ؟بھٹو خاندان کا ایسا راز جسے جان کر ہرکوئی ششدر رہ جائے گا 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ایس چودھری ) سیاستدانوں اور حکمرانوں کے معاشقوں اور خفیہ شادیوں کے معاملے میں پاکستان میں بہت سی شخصیات پر انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں ۔سیاستدانوں اور بااثر شخصیات سے شادی کرنے والی خواتین کی زندگیوں کا یہ شرمناک تاریک پہلو رہا ہے کہ ان شخصیات نے اس راز کے بعد از افشاہونے پر شادیوں سے انکار ہی کردیا ۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایک بنگالی طلاق یافتہ عورت سے خفیہ شادی کی تھی۔ 

بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی ذاتی زندگی کے کئی سیاہ پہلو ہیں جن میں سے ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ انہوں نے جب تیسری شادی کی تو بلاول بھٹو کی نانی نصرت بھٹو نے خودکشی کی خوفناک کوشش کی تھی ۔ 

ممتاز کالم نویس اردشیرکاوس جی نے ایک بار محقق والپرٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ جب نصرت بھٹو نے خودکشی کی کوشش کی تھی تو انہیں پارسی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ایک بار نصرت بھٹو نے اردشیر کاوس جی کی بیوی نینسی کاوس جی کی مدد سے صدر ایوب خان سے اپنے شوہر کی بے وفائی کا بھی ذکر کیا تھا ۔نصرت بھٹو اپنے شوہر کے خفیہ معاشقوں کی وجہ سے پریشان تھیں جبکہ وہ ان کے چار بچوں کی مان بن چکی تھیں ۔انہوں نے اپنا گھر بچانے کی بہت کوشش کی ۔ 

نصرت بھٹو کی خودکشی کا سبب بنے والی خاتون نے بھی بھٹو کے معاشقے اور خفیہ شادی کا کئی اہم گواہوں کی موجودگی میں انکشاف کیا تھا۔ سٹینلے والپرٹ بھی بھٹو پر لکھی جانے والی اپنی کتاب Zulfi Bhutto of Pakistan: میں اس بنگالی خاتون حسنہ شیخ کی خوبصورتی اور بھٹو سے معاشقیکی حقیقت کو کھول کر بیان کیا ہے ۔

ممتاز صحافی ندیم فاروق پراچہ نے اپنے کالم میں بھٹو کی تیسری اور خفیہ شادی اور معاشقہ سے وابستہ داستانوں کو تحریر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 1961 ء میں ایوب کی آنکھوں کے تارے اور چونتیس سالہ نوجوان وزیربھٹو کی ملاقات ڈھاکہ (سابق مشرقی پاکستان) میں ایک نوجوان خاتون سے ہوئی۔ اْس کا نام حسنہ شیخ تھا۔ اْس وقت حسنہ کی عمر پچیس سے تیس سال کے درمیان تھی۔ اْس کی شادی ایک کامیاب بنگالی وکیل، عبدالاحد سے ہوئی تھی۔ اْن کی دو بیٹیاں تھیں۔ اردو، انگریزی اور بنگالی بہت روانی سے بولنے والی حسنہ بنگالی اور پشتون نسل کا امتزاج تھیں۔ اْن کے دلکشی اور ذہانت نے ذوالفقار علی بھٹو کا دل موہ لیا۔ ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے اکتیس دسمبر 1977 ء کے اڈیشن (جس نے بعد میں حسنہ کے بھٹو کے ساتھ تعلقات کی کہانی شائع کی ) کے مطابق اْس وقت حسنہ کے اپنے وکیل شوہر کے ساتھ تعلقات خراب تھے۔ اگرچہ بھٹو نے اپنی تمام تر وجاہت اور کشش کے ساتھ اْس کا تعاقب کیا لیکن حسنہ اْنکی پہنچ سے دور رہیں۔ بھٹو کی بے قراری اپنی انتہاپر تھی۔ 1969 ء میں حسنہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی، اور اپنی دونوں بیٹیوں کو لے کر کراچی چلی آئی۔اْس نے کراچی کے اْس وقت کے انتہائی پوش علاقے، باتھ آئی لینڈ کے ایک اپارٹمنٹ میں رہائش اختیار کی۔ یہ اپارٹمنٹ بھٹو کی کراچی میں رہائش گاہ، 70 کلفٹن سے دس منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ ملیحہ لون ’فرائی ڈے ٹائمز ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ جب حسنہ کراچی میں قیام پذیر ہوگئیں تو مصطفی کھر نے بھٹو کو اْن سے راہ و رسم بڑھانے میں سہولت فراہم کی۔ صرف کھر، جو کہ بھٹو کے انتہائی قریبی رازداں تھے، اس معاملے سے واقف تھے۔ وہ نہایت رازداری سے گاڑی چلاتے ہوئے بھٹو کو باتھ آئی لینڈ میں حسنہ کے اپارٹمنٹ پر لے جاتے۔ تاہم جس سال ان کا معاشقہ پروان چڑھا، اْسی سال بھٹو کے اپنے اتالیق، ایوب خاں کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آنا شروع ہوگیا۔ ایوب نے اْنہیں اپنی کابینہ سے نکال باہر کیا۔ اگلے برس، 1967 ء میں بھٹو نے اس کا جواب اپنی سیاسی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی بنا کر دیا۔ پی پی پی بائیں بازو کے نظریات کی حامل ایک عوامی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ حسنہ ایک پراعتماد، تعلیم یافتہ اور ضدی عورت تھی۔ ملیحہ لون اپنے مضمون میں تہمینہ درانی کی کتاب، ’’مائی فیوڈل لارڈ ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتی ہیں کہ 1960 ء کی دہائی کے آخر تک یہ معاملہ اتنا دھماکہ خیز ہوچکا تھا کہ بھٹو کی شکل دیکھتے ہی حسنہ زور سے دروازہ بند کردیتیں۔ 1967 ء میں حسنہ کو ابودبئی میں شیخہ فاطمہ محل کی تزئین کا پرکشش کنٹریکٹ مل گیا۔ اس سے وہ کراچی میں دو جائیدادیں خریدنے کے قابل ہوگئیں۔ یہ اْن کی آزادی کا اعلان بھی تھا۔ اْنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو کھلے الفاظ میں بتادیا کہ اب وہ اْس وقت تک نہیں ملیں گی جب تک وہ اْن سے شادی نہیں کرلیتے.

۔ 1968 ء میں ایوب خان حکومت کے خلاف طلبہ اور مزدور یونینز کی ہنگامہ خیز تحریک کے روح رواں ذوالفقارعلی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی تھے۔ یہ وہ دور تھا جب حسنہ نے بھٹو کو شادی کے لیے قائل کرلیا۔ تاہم 1969 ء میں جب وہ حسنہ سے شادی کا فیصلہ کرچکے تھے، اْنہیں ’’ریاست کے خلاف تشدد پر اکسانے ‘‘ کی پاداش میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے حسنہ سے درخواست کی کہ وہ انتظار کرے۔ وہ ایوب خان کا تختہ الٹنے کے بعد اْن سے شادی کا وعدہ ضرور پورا کریں گے۔ ملیحہ لون لکھتی ہیں کہ جب ایوب نے 1969 ء میں استعفیٰ دے دیا تو بھٹو کی حسنہ سے ملاقات ہوئی۔ حسنہ نے اْنہیں دیکھتے ہی کہا133’’تم نے سب میری خاطر کردکھایا؟ اوہ، تم میرا مقدر ہو۔‘‘فاطمہ لون لکھتی ہیں کہ یہ سن کر بھٹو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ 

اسٹینلے ولپرٹ لکھتے ہیں کہ 1970 ء کے انتخابات میں بھٹو کی پی پی پی نے مغربی پاکستان میں زیادہ تر نشستیں جیت لیں تو وہ ایک مرتبہ پھر مصطفی کھر کے ہمراہ خفیہ طریقے سے حسنہ کے باتھ آئی لینڈ والے اپارٹمنٹ میں جانے لگے۔ تاہم ایک روز بھٹو اور حسنہ میں شدید جھڑپ ہوئی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بھٹو شادی کے وعدے منحرف ہورہے تھے۔ مایوسی کے عالم میں بھٹو نے ایک بار پھر شادی کا وعدہ کیا۔ یہ وعدہ ایک تحریر کی صورت قرآن پاک کے ایک نسخے کی جلد کے اندر لکھا گیا۔ یہاں ولپرٹ لکھتے ہیں جب بھٹو کاجوش سرد ہوااور حسنہ گھرمیں کسی اور جگہ پر تھیں تو بھٹو نے وہ قرآن اپنی جیب میں رکھا اور وہاں سے فوراً نکل گئے۔ مسئلہ یہ پیش آیا کہ جلدی آنے کی وجہ سے وہ کھر کو نہ مل سکے۔چنانچہ بھٹو کو 70 کلفٹن تک کا سفر پیدل طے کرنا پڑا۔یہ تیس منٹ کا راستہ تھا۔ اْس وقت تک وہ پنجاب اور سندھ میں انتخابات جیت کر ایک اہم شخصیت بن چکے تھے۔ چنانچہ بھٹو نے کوشش کی کہ وہ سنسان گلیوں میں سے گزریں تاکہ پہچان سے بچ سکیں۔ 

ذوالفقار علی بھٹو حسنہ کو اکثر سیاست اور تاریخ پر کتابیں تحفے میں دیا کرتے تھے۔ وہ انہیں پڑھتی اور وہ دونوں ان پر اپنی ’’خفیہ ملاقاتوں ‘‘ کے دوران بحث کرتے۔ 1971 ء کے وسط میں بھٹو نے حسنہ کو قرآنِ پاک کا ایک خوبصورت نسخہ تحفے میں پیش کیا۔ یہ وہ نسخہ نہیں تھا جو بھٹو نے اْن کے اپارٹمنٹ سے اٹھایا تھا۔ اس کے کور پر لکھا ہوا تھا، ’’اپنی بیوی ، حسنہ کے لیے‘‘۔ بھٹو بیس دسمبر 1971ء کو پاکستان کے صدر بن گئے ، اور اس کے چند دن بعد اْنھوں نے خاموشی سے حسنہ سے شادی کرلی۔ یہ نکاح ترقی پسند اسلامی سکالراور پی پی پی کے رکن مولانا کوثر نیازی نے پڑھایا۔ اس کے گواہ مصطفی کھر تھے۔ ولپرٹ لکھتے ہیں کہ اگرچہ حسنہ اْن کی بیوی تھی لیکن جب وہ وزیرِ اعظم بنے تو اْنھوں نے وہ قرآن پاک حسنہ کے گھر سے واپس لے لیا۔ یہ نسخہ دوبارہ کبھی دیکھنے میں نہ آیا۔جب 1977 ء میں فوج نے اْن کا تختہ الٹ دیا تو پولیس نے حسنہ کے اپارٹمنٹ کی بھی تلاشی لی۔ یہ نسخہ کہیں نہ ملا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی، باوقار نصر ت بھٹو بھی ایک منہ زور خاتون تھیں۔ وہ بھٹو کے چار بچوں کی والدہ تھیں۔ کسی نے اْنہیں بھٹو کی حسنہ سے خفیہ شادی کی اطلاع دے دی۔خیر یہ بات یقینی طور پر کوئی نہیں جانتا کہ نصرت کو اس شادی کا علم کیسے ہوالیکن امکان ہے کہ اْنہیں یہ تو علم تھا کہ اْن کے شوہر کا کسی بے باک اور منہ پھٹ بنگالی عورت سے افیئر چل رہا ہے۔ ملیحہ لون لکھتی ہیں کہ نصرت نے ایک درجن نیند کی گولیاں کھاکر خود کشی کرنے کی کوشش کی ، تاہم وہ بچ گئیں اور اْنہیں راولپنڈی کے ایک اہسپتال میں داخل کرلیا گیا۔ ’’شکستہ دل صدر‘‘ نے اْن سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کی والدہ کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ نصر ت کی صحت بحال ہوگئی اور پھر وہ پاکستان کی فرسٹ لیڈی بن گئیں۔نصرت کی خود کشی کی کوشش تک حسنہ کا اصرار رہا تھا کہ بھٹو اپنی شادی کا اعلان کریں لیکن اس کے بعد حسنہ نے ’’بھٹو کی خفیہ بیوی ‘‘ بن کر رہنے پر ہی اکتفاکرلیا۔ اس کے باوجود حسنہ بہت بااثر تھیں۔

1990 میں حسنہ نے ’’فرائیڈے ٹائمز ‘‘ کی مدیر، جگنو محسن کو بتایا کہ بھٹو اْن سے ملنے آتے رہے۔ اْن کے گھرمیں اکثر وزرا اور طاقتور افراد کا بھی آنا ہوتا تھا۔وہ افراد بھٹو سے کوئی بات کرنے کے لیے وہاں آتے تھے۔ جگنو محسن لکھتی ہیں کہ حسنہ درحقیقت اپنے اپارٹمنٹ میں ایک ’’کچن کیبنٹ ‘‘چلاتی تھیں۔ یہ اپارٹمنٹ ذوالفقار علی بھٹو دور کی معاشی اور سماجی پالیسیوں کو متاثر کرتا تھا۔

حسنہ نے محسن کو بتایا کہ ایک روز اْس نے بھٹو سے پوچھا کہ وہ اتنی جلدی میں کیوں ہوتے ہیں تو اْن کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ ’’آخرکار وہ اْنہیں ہلاک کردیں گے‘‘۔ حسنہ نے وضاحت نہ کی کہ بھٹو کی مراد کن سے تھی۔ ممکن ہے کہ اْن کا اشارہ اسٹبلشمنٹ یا ملک کے دائیں بازو کے مذہبی حلقوں کی طرف ہوجو 1970 ء کی دہائی کے وسط میں بہت طاقتور ہوچکے تھے۔ حسنہ نے محسن کو یہ بھی بتایا کہ جب 1977 ء کے انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوئے اور پی پی پی نے اْن حلقوں میں بھی واضح کامیابی حاصل کرنا شروع کردی جن میں اس کی پوزیشن مستحکم نہیں تھی تو بھٹو نے شکایتی لہجے میں کہا ’’ کوئی میرے ارکان کو سمجھائے کہ میری بیس سال کی محنت پر پانی نہ پھیریں۔ ‘‘ اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگاکر ملک گیر احتجاج شروع کردیا۔ اس کی وجہ سے جولائی 1977 ء میں مارشل لا گیا اور بھٹو حکومت ختم کردی گئی۔ 

جب بھٹو حکومت ختم ہوئی تو حسنہ لندن میں تھیں۔ اْنھوں نے جگنومحسن کو بتایا کہ بھٹو کی بڑی بیٹی، بے نظیر ( جو بعد میں وزیرِ اعظم بنیں) اْن سے سخت ناراض رہتیں لیکن بھٹو کے بیٹے ،مرتضیٰ کا اْن کے ساتھ سلوک بہت اچھا تھا۔ وہ اْن سے رابطے میں رہتا اور ملک اور اپنے والد پر بیتنے والے حالات سے آگاہ کرتا رہتا۔ جب ذوالفقارعلی بھٹو کو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں ملزم ٹھہرایا گیا تو حسنہ نے ایک مشہور برطانوی وکیل، جان میتھوز کی خدمات حاصل کیں، لیکن ضیا کی آمریت نے ایک برطانوی وکیل کو پاکستانی عدالت میں مقدمہ لڑنے کی اجازت نہ دی۔

مرتضیٰ نے اْنہیں بھٹو کی پھانسی کی اطلاع دی۔ شکستہ دل حسنہ نے خود کشی کرنے کا سوچا۔ لیکن پھر اْنھوں نے اپنی بیٹی کا سوچتے ہوئے خود کشی کا ارادہ ترک کردیا۔ یہ بیٹی، شمیم اْن کی بھٹو سے واحد بیٹی تھی۔ اس کے بعد وہ مستقل طور پر لندن میں ہی رہنے لگیں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس