یہ تصویر آپ نے ضرور دیکھی ہو گی مگر یہ جعلی ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس لڑکے کیساتھ کیا ہوا اور اس کے گھر والے کدھر ہیں؟ ایسی تشویشناک خبر آ گئی کہ ہر پاکستانی ہل کر رہ گیا، وہ کچھ ہو گیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا

یہ تصویر آپ نے ضرور دیکھی ہو گی مگر یہ جعلی ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ...
یہ تصویر آپ نے ضرور دیکھی ہو گی مگر یہ جعلی ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس لڑکے کیساتھ کیا ہوا اور اس کے گھر والے کدھر ہیں؟ ایسی تشویشناک خبر آ گئی کہ ہر پاکستانی ہل کر رہ گیا، وہ کچھ ہو گیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا کے دور میں پرائیویسی برائے نام ہی رہ گئی ہے اور ہر کوئی کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی طرح سے سوشل میڈیا صارفین کے عتاب کا شکار ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”ایک رات کی بکنگ کے کتنے پیسے ہیں۔۔۔؟“ صوفیہ حیات سے رمضان المبارک میں ہی یہ سوال پوچھ لیا گیا تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گئیں، ایسا جواب دیدیا کہ دن میں تارے دکھا دئیے، گفتگو کے سکرین شاٹس شیئر کر دئیے 

اجازت کے بغیر کسی کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کر دینا تو جرم ہے ہی مگر ان کو کچھ اس طرح ایڈیٹ کر دینا کہ مطلب ہی یکسر بدل جائے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اورایسا ہی کچھ اس طرح کیساتھ بھی ہوا جس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ ہاتھ میں گٹار پکڑے کھڑا ہے اور اس کے پیچھے وائٹ بورڈ پر لکھا ہے ”اگر مردوں کے برابر آنا ہے تو رمضان کے پورے روزے رکھ کر دکھاؤ۔“

یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر جانب سے شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا کیونکہ یہ بات ہی غیر اخلاقی اور نامناسب تھی لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اصل تصویر میں ایسا کچھ نہیں لکھا تھا مگر کسی نے ایڈیٹ کر کے متنازعہ جملہ لکھ دیا اور تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اس کے بعد لڑکے اور اس کی فیملی کیساتھ کیا ہوا؟ ایک ٹوئٹر صارف ”مناہل“ نے ایسا افسوسناک انکشاف کیا ہے کہ ہر پاکستانی ہل کر رہ گیا ہے ۔

مناہل کا کہنا ہے کہ یہ لڑکا اس کے دوست کا دوست ہے اور یہ سب کچھ اسی نے بتایا ہے۔ مناہل نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کیساتھ اصلی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ”میں اس تصویر کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں جو کچھ دن پہلے وائرل ہوئی۔ کسی نے اس تصویر کو ایڈیٹ کر کے آن لائن شیئر کروا دی۔ اس تصویر کے بیک گراﺅنڈ میں کوئی وائٹ بورڈ نہیں بلکہ ایک پراجیکٹر ہے اور یہ لڑکا اس سارے معاملے کی وجہ سے انتہائی مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔“

مناہل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لکھا ”جب تک اس کے گھر والوں کو معلوم نہیں ہوا تب تک سب کچھ ٹھیک تھا۔ وہ کسی نے بات نہیں کر رہا ہے اور اس تصویر کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔اس نے باہر نکلنا چھوڑ دیا ہے اور گھر والے اس کیساتھ انتہائی برا سلوک کر رہے ہیں جبکہ اس کا اپنے دوستوں کیساتھ بھی رابطہ ختم ہو چکا ہے۔ اس کے دوستوں کا ماننا ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مائل ہو رہا ہے۔“

”یہ لڑکا اور اس کے گھر والے کچھ دنوں سے کہیں چلے گئے ہیںاور ان کے موبائل فونز بھی بند ہیں۔۔۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اب یہ کدھر ہیں۔۔۔“

احریمہ نامی صارف نے کہا ”لیکن تم یہ سب کچھ انہیں بھی تو بتا سکتی ہو، کہ تصویر میں لکھا گیا جملہ کسی مارکر سے نہیں بلکہ ’ڈوڈل‘ آپشن کے ذریعے لکھا گیا ہے ۔ میں نے یہ آپشن استعمال کر رکھی ہے اس لئے میں بتا سکتی ہوں۔۔۔ یہ بہت افسوسناک ہے کہ سوشل میڈیا کس طرح ایک شخص کی زندگی تباہ کر سکتا ہے حتیٰ کہ اس نے کچھ بھی غلط نہ کیا ہو“

مناہل نے جواب دیا”اس نے باہر نکلنا، لوگوں سے بات کرنا چھوڑ دیا ہے اور اس کی فیملی بہت برا سلوک کر رہی ہے۔ میرے پاس واقعی الفاظ نہیں ہیں“

ایم عاصم امیر خان نے لکھا ”اس کی فیملی اتنا برا سلوک کیوں کر رہی ہے؟ یہ بہت افسوسناک ہے“

مناہل نے بتایا کہ ”تصویر وائرل ہونے کے بعد پیش آنے والی مشکلات اور حالات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے “

سوہا نے پوچھا ”تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہے؟“

مناہل نے بتایا ”وہ میرے ایک دوست کا دوست ہے۔ یہ اور اس کی فیملی بہت مشکل وقت سے گزر رہی ہے“

کوئی تصویر یا ویڈیو وائرل ہونے سے مشکلات کا سامنا کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ حکومت کو کوسنے والی خاتون کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تو انہیں ”آنٹی گورمنٹ“ کا خطاب دیدیا گیا اور کئی میمز بنائے گئے۔

بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ ان کا نام قمر ہے اور وہ کراچی کے علاقے مارٹن کوارٹرز کی رہائشی ہیں اور یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد رشتہ داروں کی جانب سے ان کا خوب مذاق اڑایا جاتا ہے۔

قمر کے بیٹے نے انکشاف کیا کہ اس کی والدہ کو بلند فشار خون کا مرض لاحق ہے جس کے باعث وہ خود پر قابو نہیں رکھ پاتیں اور ایسی صورت میں انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔

اس نے مزید بتایا کہ ہر کوئی میری ماں کا مذاق بناتا ہے۔ ہم نے خاندانی تقریبات میں بھی جانا چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہاں آئے لوگ تقریب کا لطف اٹھانے کے بجائے اپنی توجہ میری والدہ پر مرکوز کر لیتے اور کئی مرتبہ ہماری رشتہ داروں کیساتھ لڑائی بھی ہوئی جس کے نتیجے میں رشتہ داروں نے ہمارے گھر پر آنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تفریح