4 ماہ میں 309 فلسطینیوں کو اسرائیلی عدالتوں سے انتظامی قید کی سزائیں

4 ماہ میں 309 فلسطینیوں کو اسرائیلی عدالتوں سے انتظامی قید کی سزائیں
4 ماہ میں 309 فلسطینیوں کو اسرائیلی عدالتوں سے انتظامی قید کی سزائیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

غرب اردن (صباح نیوز)فلسطینی اسیران سٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ15فروری 2018 سے اب تک اسرائیلی عدالتوں سے 309 فلسطینی شہریوں کو انتظامی قید کی سزائیں دی گئیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق15فروری سے انتظامی قیدیوں نے بطور احتجاج اسرائیلی عدالتوں کا مسلسل بائیکاٹ جاری رکھا ہوا ہے۔اسیران سٹڈ ی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے ایک بیان میں بتایا کہ صہیونی حکام انتظامی قید کی سزائیں دے کر فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کی مجرمانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے 3سال کے دوران اسرائیلی عدالتوں سے بغیر کسی الزام کے قید 4 ہزار فلسطینیوں کو انتظامی قید کی سزائیں دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران 459 فلسطینیوں نے انتظامی قید کی سزائیں دی گئیں اور ان میں سے بیشتر کی سزاوں میں بار بار تجدید کی گئی۔انتظامی قیدیوں کو عدالتوں پیش کرنے، انہیں اپنے دفاع کے لیے وکلا کی خدمات حاصل کرنے اور دیگر بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدو جہد کا کوئی حق نہیں۔ بغیر کسی الزام کے محض شبے کی بنیاد پر فلسطینیوں کی مدت حراست میں بار بار کی توسیع کی جاتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی