ڈکٹیٹر کی بلائیں جبکہ میرے بنیادی حقوق سلب کئے جارہے ہیں، خواجہ حارث نے ریفرنس کی پیروی سے انکار کردیا ، کوئی وکیل مقدمے کی پیروی کیلئے تیار نہیں:نواز شریف

ڈکٹیٹر کی بلائیں جبکہ میرے بنیادی حقوق سلب کئے جارہے ہیں، خواجہ حارث نے ...
ڈکٹیٹر کی بلائیں جبکہ میرے بنیادی حقوق سلب کئے جارہے ہیں، خواجہ حارث نے ریفرنس کی پیروی سے انکار کردیا ، کوئی وکیل مقدمے کی پیروی کیلئے تیار نہیں:نواز شریف

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈکٹیٹر کی بلائیں لی جار رہی ہیں اورمیرے بنیاد ی حقوق سلب کئے جارہے ہیں اور سپریم کورٹ کی جانب سے کڑی شرائط پر خواجہ حارث نے میرے ریفرنس کی پیروی سے انکار کردیا ہے اورکوئی وکیل بھی میرے کیس کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ میرا مقدمہ احتساب عدالت میں چل رہاہے لیکن ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جا رہی ہیں۔

لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی طرف نیب ریفرنسز کی روزانہ سماعت کی ہدایت پر میر ے وکیل خواجہ حارث میرے ریفرنس سے دستبردار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مجھے احتساب عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ میں نیا وکیل کرلوں لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی وکیل اتنی کڑی شرائط اور اتنی دستاویزات کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے میری کیس کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے اور یہ شفاف ٹرائل کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہے ۔ کوئی وکیل چھٹی کے بغیر مقدمہ نہیں لڑسکتا ۔ میرے بنیادی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول بنادیا گیا ہے کہ کوئی وکیل میرے کیس کی پیروی کرنے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت میں اور بھی کئی کیسز ہیں لیکن کوئی کیس ایسا ہے جس کی اس طرح مانیٹر نگ کوئی جج کر رہاہواور اس کا وکیل کوئی چھٹی کئے بغیر پیش ہور ہا ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب مقدمہ ہے کہ کیس نیب عدالت میں چل رہاہے لیکن ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جا رہی ہیں اس لئے اب میں اپیل لے کر کس کے پاس جاﺅں۔ انہوں نے کہا کہ کیس میں تاخیرکی وجہ استغاثہ پر ہے ۔جب وقت مانگا نیب کی طرف سے مانگا گیا ۔ میرے وکیل نے کبھی چھٹی نہیں مانگی ۔ گزشتہ روز چیف جسٹس نے کہا کہ میں تشہیر کیلئے بیوی سے ملنے کیلئے چھٹی کی بات کرتا ہوں،اس پر مجھے بہت افسوس ہوا ۔ یہ ظلم کو آخری قسط ہے ۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ قوم کوپتہ چلنا چاہئے کہ جے آئی ٹی کیسے بنی اور جے آئی ٹی نے کہاں کہاں گل کھلائے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو ایک اقامہ نکالا گیا اور اس کی بنیاد پر مجھے وزیر اعظم ہاﺅس سے نکال دیا گیا ۔تین ریفرنسز بنائے گئے اور جب اس پر بات نہ بنی تو ضمنی ریفرنسز لائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے فیصلے میں کس چیز کا انتظار کیا جارہاہے ۔ باربار موقف بدلے گئے اورہماری تمام درخواستیں رد کی گئیں لیکن استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔ ہماری یہ درخواست رد کردی گئی کے تینوں ریفرنسز ساتھ سنے جائیں لیکن بعد عدالت نے اپنے موقف سے خود ہی انحراف کرلیا اور کہا کہ تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ ہی ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضے اہم ہیں کہ الیکشن سے پہلے فیصلہ !سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے حق دفاع سے محروم کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا اور کوئی وکیل اتنے تھوڑے وقت میں میرے کیس کی پیروی کیلئے تیار نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ڈکٹیٹر کی بلائیں لی جارہی ہیں جس نے آئین توڑا اور آرٹیکل 6کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ کہوں گا کہ اگر میر ے خلاف کوئی فیصلہ کرنا ہی ہے تو کردیجئے لیکن یہ آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہوگا ۔

مزید : اہم خبریں /قومی