’میں فحش فلموں کی لت میں مبتلا لوگوں کا علاج کرتا ہوں، سب سے زیادہ ان لوگوں کو یہ فلمیں دیکھنے کی عادت ہوتی ہے جن کے والدین۔۔۔‘

’میں فحش فلموں کی لت میں مبتلا لوگوں کا علاج کرتا ہوں، سب سے زیادہ ان لوگوں ...
’میں فحش فلموں کی لت میں مبتلا لوگوں کا علاج کرتا ہوں، سب سے زیادہ ان لوگوں کو یہ فلمیں دیکھنے کی عادت ہوتی ہے جن کے والدین۔۔۔‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ پر فحش مواد کی آسان دستیابی نوجوانوں ہی نہیں، بچوں کی زندگیاں بھی تباہ کر رہی ہے۔ اب فحش فلموں کے عادی افراد کا نفسیاتی علاج کرنے والے ماہرین نے اس حوالے سے ایسے انکشافات کیے ہیں کہ آدمی سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق روب واٹ نامی برطانوی ماہر کا کہنا ہے کہ ”میں 13سال سے فحش فلموں کی لت میں پڑے لوگوں کا علاج کر رہا ہوں اور حالیہ کچھ سالوں سے کم عمر بچوں کی بڑی تعداد بھی علاج کے لیے ہمارے پاس لائی جا رہی ہے۔ میں اب تک کئی ایسے بچوں کا علاج بھی کر چکا ہوں جن کی عمریں 8سال سے بھی کم تھیں اور انہیں فحش فلموں کی ایسی لت پڑچکی تھی کہ وہ رات گئے تک بھی یہ فلمیں دیکھیں اور صبح اٹھ کر سکول جانے سے پہلے بھی یہ شرمناک کام کرتے تھے۔میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہہ رہاں ہوں کہ فحش فلموں کی لت زیادہ تر ان لوگوں کو پڑتی ہے جن کے والدین انہیں اپنے قریب نہیں رکھتے۔ جو بچے اپنے والدین سے قربت رکھتے ہوں وہ اس لت سے محفوظ رہتے ہیں۔“

روب واٹ نے مزید بتایا کہ ”شروع میں فحش فلمیں لوگوں میں جنسی توانائی کا احساس دلاتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ صورتحال سنگین تر ہوتی جاتی ہے۔ ہر بار ایسے لوگوں کو کچھ نئے اور زیادہ کی آرزو ہوتی ہے اور بالآخر ان کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔یہ لوگ شدید ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں سے اکثر تو زندگی سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔ میں نے کئی ایسے کیس بھی دیکھے ہیں جن میں لوگ اس شرمندگی کی وجہ سے خودکشی کی کوشش کر چکے تھے کیونکہ وہ اپنی اس لت سے مجبور ہو کر دفتر میں بھی فحش فلمیں دیکھتے تھے۔ حالیہ چند سالوں میں یہ لت اس قدر معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے کہ میرے پاس آنے والے مریضوں کی تعداد میں 100فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ