سعودی عرب سے ایک ایسی چیز امریکہ پہنچ گئی کہ امریکی دیوانے ہوگئے، دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگی، یہ کیا چیز ہے؟ جان کر پاکستانیوں کا دل کرے گا یہ کام شروع کردیں

سعودی عرب سے ایک ایسی چیز امریکہ پہنچ گئی کہ امریکی دیوانے ہوگئے، دھڑا دھڑ ...
سعودی عرب سے ایک ایسی چیز امریکہ پہنچ گئی کہ امریکی دیوانے ہوگئے، دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگی، یہ کیا چیز ہے؟ جان کر پاکستانیوں کا دل کرے گا یہ کام شروع کردیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)عام طور پر تو امریکا کی مصنوعات ترقی پزیر ممالک میں دھڑا دھڑ بکتی دکھائی دیتی ہیں لیکن سعودی کسان ولید عبدالوہاب اپنے ملک سے ایک ایسی پراڈکٹ لے کر سعودی عرب جا پہنچے کہ ہر کوئی اس کا دیوانہ ہو گیا ہے۔ ان کمپنی ’ڈیزرٹ فارم‘ کے سر امریکہ میں اونٹنی کا دودھ متعارف کروانے کا سہرا ہے، جس نے دنیا کے امیر ترین ملک کے طول و عرض میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی ہے۔

عرب نیو زکے مطابق عبدالوہاب کی کمپنی نے امریکہ میں دودھ کی مارکیٹ کو گویا فتح کرلیا ہے ۔ عبدالوہاب کا کہنا ہے کہ امریکی عوام اپنی صحت کی بہت فکر کرتے ہیں۔ وہ ہر چیز خالص اور صحت بخش پسند کرتے ہیں تو ایسے میں انہیں خیال آیا کہ کیوں نا اپنے ملک کی مشہور سوغات اونٹنی کا دودھ امریکہ میں متعارف کروایا جائے کیونکہ اس سے بڑھ کر خالص اور صحت بخش غذا کیا ہوسکتی ہے۔

سعودی عرب میں اونٹوں کی تعداد کروڑوں میں ہے لیکن اس سے پہلے اونٹنی کا دودھ ملک سے باہر درآمد نہیں کیا جارہا تھا۔ اونٹنی کے دودھ میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ ، چکنائی، ضروری وٹامن سمیت وہ تمام اجزاءپائے جاتے ہیں جن کی انسانی جسم کو صحت مند رہنے کیلئے ضرورت ہوتی ہے۔ گائے کے دودھ کی نسبت اس میں وٹامن سی کی مقدار تین گنا زیادہ ہوتی ہے جبکہ الرجی پیدا کرنے والی پروٹین بیٹا لیکٹو گلوبلنگ بھی اس میں نہیں ہوتی۔ اس میں لیکٹوز کی مقدار بھی اتنی کم ہوتی ہے کہ دیگر اقسام کے دودھ میں لیکٹوز کی وجہ سے اسے ہضم نہ کرنے والے افرا دبھی اونٹنی کے دودھ کو باآسانی ہضم کرسکتے ہیں۔

اونٹنی کے دودھ کی انہی خوبیوں کے باعث عبدالوہاب نے اسے امریکہ میں متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔ یہ دودھ دیکھتے ہی دیکھتے بے پناہ مقبول ہوگیا اور اب ان کی کمپنی ڈیزرٹ فارم نہ صرف اونٹنی کا کچا دودھ فروخت کرتی ہے بلکہ منجمد دودھ، پیسچرائزڈ دودھ اور اونٹنی کے دودھ کو پاﺅڈر کی شکل میں بھی فروخت کررہی ہے۔ عبدالوہاب کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں دنیا کا سب سے بڑا کیمل ڈیری فارم قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے ملک کو دنیا بھر میں اونٹنی کا دودھ سپلائی کرنے کیلئے ایک پاور ہاﺅس بنانے کا خواب رکھتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی