نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہوا،مذہبی رواداری ٹاسک فورس کیوں نہیں بنائی ؟ سپریم کورٹ برہم 

نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہوا،مذہبی رواداری ٹاسک فورس کیوں نہیں ...
نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہوا،مذہبی رواداری ٹاسک فورس کیوں نہیں بنائی ؟ سپریم کورٹ برہم 

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ میں پشاور چرچ حملہ کیس کی سماعت میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر چیف جسٹس نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے استفسار کیا کہ نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لئے نیشنل ایکشن پلان کا کیا بنا؟۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے چرچ حملہ عمل درآمد کیس کی سماعت کی، درخواست گزار ثاقب جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ 2014ءمیں سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں ہوا، انہوں نے بتایا کہ مذہبی رواداری کے فروغ ،انتہا پسندی کے خاتمے اور نفرت پر مبنی مواد کو نہیں روکا گیا، پنجاب اور کے پی کے میں نصاب سے نفرت انگیز مواد کافی حد تک دور کر دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں کوئی اقدامات نہیں ہوئے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئرعباس رضوی سے استفسار کیا کہ 4سال گزر گئے مگر عدالتی فیصلے پر عملدرآمدکیوں نہیں ہوا؟آ گاہ کیا جائے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی اقلیتی کونسل کیوں نہیں بنائی گئی؟ بتایا جائے کہ مذہبی رواداری ٹاسک فورس کیوں عمل میں نہیں لائی گئیں؟جسٹس عمر عطا ءبندیال نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے، عدالت نے 15یوم میں عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت کریں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور