قبائلی اضلاع میں صوبائی الیکشن کے التوا کی درخواست

قبائلی اضلاع میں صوبائی الیکشن کے التوا کی درخواست

خیبر پی کے کی حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ صوبے کے ان علاقوں میں، جو پہلے فاٹا کہلاتے تھے اور اب صوبے کا حصہ بن چکے ہیں، 2جولائی کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات 20دن کے لئے ملتوی کر دیئے جائیں،یہ علاقے 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے صوبائی نظم و نسق کا حصہ بن گئے تھے تاہم اس وقت ان علاقوں میں صرف قومی اسمبلی کے الیکشن ہوئے تھے اور یہ اعلان کیا گیا تھا کہ صوبائی انتخابات بعد میں ہوں گے اب الیکشن کمیشن نے ہر قسم کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور 2جولائی کو پولنگ ڈے ہے۔ جس کے لئے انتخابی مہم بھی جاری ہے، حکمران جماعت سمیت دوسری سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔ التوا کی اس درخواست میں جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ ہے اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ان علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جن میں دہشتگردوں نے فوجی افسروں کو نشانہ بنایا اور ان کے راستے میں بارودی سرنگیں بھی بچھائیں جن سے افسروں اور جوانوں کی شہادتیں بھی ہوئیں، الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خط ابھی موصول نہیں ہوا جونہی صوبائی حکومت کا خط آئے گا، آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا، تاہم خط سے پہلے ہر قسم کی تیاریاں طریقِ کار کے مطابق جاری ہیں۔

اس وقت خیبرپختونخوا صوبے کی اسمبلی اس لحاظ سے نامکمل ہے کہ اس میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کی کوئی نمائندگی نہیں، اگرچہ ان علاقوں کی نشستوں میں اضافے کا بل اپوزیشن کے تعاون سے قومی اسمبلی میں منظور ہو چکا ہے تاہم ابھی تک بل سینیٹ سے منظور نہیں ہو سکا اس لئے نشستوں میں اضافے کا معاملہ بھی رکا ہوا ہے بل جب ایوان بالا سے منظور ہو جائے گا تو پھر صدر مملکت کے دستخطوں سے قانون بنے گا اور نشستوں میں اضافہ ہو گا، لیکن اضافے کے بغیر جتنی نشستیں اس وقت طے شدہ ہیں ان کے لئے پہلے انتخابات تو شیڈول کے مطابق ہونے چاہئیں، صوبائی حکومت نے التوا کی جو درخواست دی ہے وہ کسی طور مستحسن نہیں سوال یہ ہے کہ التوا کی درخواست تو صرف بیس دن کے لئے کی گئی ہے، گویا اگر الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے اتفاق کرے تو 2جولائی کے انتخابات کا التواء زیادہ سے زیادہ 22جولائی تک ہو سکتا ہے کیا اس دوران امن و امان کی صورتحال میں کوئی جوہری تبدیلی آ جائیگی اگر واقعی ایسا ہے اور صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ بیس دن کے التوا سے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ بھی ٹل جائیگا اور سیاست دانوں کی جانوں کو اگر کوئی خدشات ہیں تو وہ بھی ختم ہو جائیں گے تو پھر بیس دن کا التوا گوارہ ہو سکتا ہے لیکن کیا صوبائی حکومت یہ ضمانت دے سکتی ہے کہ واقعی بیس دن کے بعد سارے خطرات ٹل جائیں گے اور سیاست دانوں کی زندگیاں کلی طور پر محفوظ و مامون ہو جائیں گی اور وہ بلا خوف و خطر گھوم پھر سکیں گے؟

ہمیں نہیں معلوم کہ صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے سے پہلے ان جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا ہے یا نہیں جو الیکشن کے لئے انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور اس لحاظ سے سٹیک ہولڈر ہیں، اگر تو یہ خط ان جماعتوں کی مشاورت سے لکھا گیا ہے اور انہوں نے بھی التوا پر کوئی اعتراض نہیں کیا تو پھر التوا کا تھوڑا بہت جواز موجود ہے تاہم ایسی صورت میں بھی الیکشن کمیشن کو یہ تسلی کرنی ہو گی کہ صوبائی حکومت کے موقف میں کتنی جان ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی کے نہاں خانہ دماغ میں انتخابی شکست کا خوف ہو اور اس خوف کی وجہ سے صوبائی حکومت نے التوا کا راستہ اختیار کیا ہو، جہاں تک خطرات کا تعلق ہے افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ کب نہیں تھا اور کیا یہ کبھی ختم بھی ہوا ہے؟اس کے باوجود اگر ماضی میں انتخابات وقت معینہ پر ہوتے رہے ہیں تو اب کیوں نہیں ہو سکتے۔

ہمارے خیال میں صوبائی حکومت، الیکشن کمیشن اور امن و امان کے ذمے دار اداروں کو بیٹھ کر اس معاملے پر اچھی طرح غور کر لینا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے لینا چاہئے۔ جن علاقوں میں اس وقت الیکشن ہو رہے ہیں، یہ قبائلی کلچر کی وجہ سے ایک مخصوص مزاج رکھتے ہیں اور بدقسمتی سے ان دنوں بعض علاقوں میں بدامنی بھی ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ فوج کے افسروں پر بھی حملے ہوئے ہیں ایسے حملے ماضی میں بھی ہو چکے ہیں اور فوجیوں کی شاندار قربانیوں کی وجہ ہی سے ان علاقوں میں امن قائم ہوا ہے۔ اب اگر کسی وجہ سے دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے تو بھی اس کا مقابلہ ہماری بہادر مسلح افواج ہی نے کرنا ہے التوا کی درخواست سے پہلے فوج سے بھی مشاورت ضروری تھی اور ممکن ہے ایسا کیا بھی گیا ہو کیونکہ الیکشن والے دن امن و امان کی ذمہ داری فوج ہی نے سنبھالنی ہوتی ہے، الیکشن وقت مقررہ پر ہوں یا صوبائی حکومت کی درخواست پر ملتوی ہو جائیں اور نئی تاریخ کا اعلان ہو دونوں صورتوں میں یہ فریضہ فوج ہی نے ادا کرنا ہے اس لئے فوج سے مشاورت از بس ضروری ہے۔ لیکن بظاہر لگتا ہے کہ صوبائی حکومت کی اپنی تیاریاں نامکمل ہیں جس کی وجہ سے اس نے التوا کی درخواست کر دی ہے اگر ایسا ہے تو اسے حکومت کی نا اہلی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ تقریباً دس ماہ سے برسر اقتدار صوبائی حکومت اس عرصے میں اتنے انتظامات بھی نہیں کر سکی کہ چند اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر بروقت انتخابات ہی کرا سکے۔

ضم شدہ فاٹا علاقوں کو صوبائی اسمبلی میں جلد نمائندگی ملنی چاہئے جو اس وقت صفر ہے ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان علاقوں کے عام لوگوں کی آواز کہاں اور کس پلیٹ فارم پر سنی جا رہی ہے جو صدیوں کے قبائلی کلچر سے تازہ تازہ آزاد ہوئے ہیں اور ظاہر ہے وہ چاہیں گے کہ ان کی آواز جلد سے جلد موثر ثابت ہو، وفاقی حکومت بار بار اعلان کر رہی ہے کہ فاٹا کے سابق علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائیگا اور اس مقصد کے لئے صوبوں سے بھی تعاون مانگا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والی رقم کے ایک حصے سے دستبردار ہو جائیں تاکہ یہ رقم ضم شدہ قبائلی علاقوں پر خرچ کی جائے اور انہیں جلد سے جلد ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائے، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت کو احساس ہے کہ ان علاقوں کے مسائل زیادہ ہیں اور یہ ترجیحی بنیادوں پر حل ہونے چاہئیں لیکن ان مسائل کی نشاندہی کون کرے گا، صوبائی منتخب نمائندے تو ہیں نہیں اور حکومت الیکشن کا التوا مانگ رہی ہے ایسے میں ترقیاتی کاموں کی نوعیت کا فیصلہ کیا سابق ملک کریں گے؟جو قبائلی نظام کے سب سے بڑے بینی فشری چلے آ رہے ہیں اور ان کے ذریعے ہی قبائلی عوام کی آواز کو دبا کر رکھا گیا تھا اب اگر صدیوں کے بعد یہ علاقے صوبے کا حصہ بنے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ بروقت انتخابات ہوں تاکہ عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے اسمبلی میں بھیج سکیں اور ان کے ذریعے اپنی آواز بھی اعلیٰ ایوانوں میں ریکارڈ کرا سکیں، بیس دن کے التواء کی یہ درخواست مناسب نہیں ہے، الیکشن کمیشن کو اس کے ہر پہلو پر غور کر کے ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہئے، اگر التوا ہوا تو ساری تیاریاں دھری رہ جائیں گی اور نئی تاریخ کے بعد سب کچھ از سر نو کرنا ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ