مہنگائی کے نئے سونامی کا خوف

مہنگائی کے نئے سونامی کا خوف

پاکستانی قوم نے رمضان المبارک اور عیدالفطر کے موقع پر مہنگائی کے ”سونامی“ سے کسی نہ کسی طرح عہدہ برآ ہو لیا اور اب یہ توقع کر رہی ہے عیدالفطر گذر جانے کے بعد رمضان سے پہلے والے حالات لوٹ آئیں گے اور مصنوعی مہنگائی کا بحران ختم ہو جائے گا اور پھر اتنی مہنگائی رہ جائے گی، جتنی حکومت نے عوام کی چیخیں نکلوانے کے لئے پٹرولیم اور بجلی کے نرخ بڑھا کر کی تھی، اس کے باوجود عوام کو یہ خوف بھی لاحق ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں 5550ارب روپے کے جو نئے ٹیکس لگانے اور بجلی، گیس کے نرخ مزید بڑھانے کا فیصلہ کرے گی وہ مہنگائی سے ٹوٹی کمر مزید توڑ دے گا اور کم از کم نچلے طبقے اور مقررہ آمدنی والے(تنخواہ دار سرکاری و غیر سرکاری) لوگ مزید دب کر رہ جائیں گے،وہ بجلی اور گیس کے بل دینے سے بھی معذور ہوں گے۔ یہ سارا خوف خود حکمران طبقے پھیلا رہے ہیں، خود سرکاری مراعات سے مستفید ہوتے ہوئے ان کو کسی قسم کی فکر نہیں، لیکن جن عوام کے ووٹوں سے حکمران بننے کے دعویدار ہیں، ان کو ختم کرنے کے در پے ہیں۔ عوام تو حکومت سے یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ضرورتیں پوری کرنے کے لئے عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالیں ایسا ہو گا تو ملکی ماحول خراب ہو گا، ہماری بھی درخواست ہے کہ زبانی کہا نہ جائے،بلکہ حقیقی معنوں میں عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ