کیا ٹیکس دینے کا وقت آ گیا؟

کیا ٹیکس دینے کا وقت آ گیا؟
کیا ٹیکس دینے کا وقت آ گیا؟

  


وزیراعظم عمران خان نے دوسری بار قوم کے نام اپنا وڈیو پیغام جاری کیا، جس میں ایک مرتبہ پھر ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ ساتھ ہی یہ ملفوف پیغام بھی دیا کہ حکومت کے پاس تمام معلومات آ چکی ہیں، جو اس سے فائدہ نہیں اٹھائے گا، پچھتائے گا۔ ٹی وی پر مسلسل اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے اشتہارات بھی چل رہے ہیں، لیکن اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دس روز گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس سکیم سے کسی نے فائدہ نہیں اٹھایا، جبکہ حکومت اس سکیم سے 200ارب روپے کے ٹیکس اکٹھا کر لینے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والی قوم ہیں، مگر ٹیکس سب سے کم دیتے ہیں، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اُدھر یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ 30 جون کے بعد کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر لی گئی ہے۔ ایف بی آر اور ایف آئی اے علیحدہ علیحدہ منصوبہ بندی کر چکی ہیں۔ اگر یہ دعوے نہیں، بلکہ کوئی حقیقی منصوبے ہیں تو پھر ملک میں ایک بڑا طوفان آنے والا ہے۔ ٹیکس کے نام سے عوام کی آڑ میں چھپے ہوئے بڑے بڑے سیٹھ، تاجر، صنعت کار، ڈاکٹر، بلڈرز، سیاستدان اور نودولتیے لٹھ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کے کالے پیلے ہاتھ ہر جگہ موجود ہیں۔ کوئی قدم اٹھائیں تو سہی پھر ہڑتالیں دیکھیں، احتجاج ملاحظہ فرمائیں اور حکومت کے خلاف ان کا گٹھ جوڑ بنتا دیکھیں۔

حکومت جتنا بھی شور مچالے، وزیراعظم عمران خان ٹی وی پر آکر جتنے بھی پیغامات دیں، جو سات دہائیوں سے بگڑے ہوئے ہیں، وہ قابو نہیں آئیں گے، قابو میں اس لئے بھی نہیں آئیں گے کہ ایسی ایمنسٹی سکیموں کا حشر پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، اس سے پہلے جو سکیمیں لائی گئیں، ان میں صرف ایک بار ٹیکس بھرنے کی مجبوری تھی، لیکن اس بار تو ایمنسٹی سکیم کے نام پر ٹیکس نادہندگان اور کالے دھن کے پردھان لوگوں کے خلاف شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ ایک بار جس نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا لیا، وہ ٹیکس کے جال میں آ گیا۔ پہلے لوگ صرف اپنی دولت اور جائیدادوں کا بتا کر مقررہ شرح سے ٹیکس ادا کرکے اپنے مال کو سفید کرا لیتے تھے۔ اس کے بعد ان سے کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ ہر سال کتنا ٹیکس دیا، مگر اس بار اثاثے عملاً ظاہر کرنا ضروری ہے۔ ظاہر ہے جو اثاثے ظاہر کرے گا،وہ ٹیکس نیٹ میں بھی آ جائے گا، فائیلر بھی بنے گا۔سنا ہے کہ ایف بی آر فائیلرز کی تعداد کو پچاس لاکھ تک لے جانا چاہتا ہے۔ یہ بہت مشکل ٹاسک ہے، کیونکہ اس وقت صرف سات لاکھ فائیلرز ہیں۔ فائیلر بننے کا مطلب ہے آپ ٹیکس گزار بن چکے ہیں۔ ٹیکس کے نام سے ہمارے خواص ایسے بدکتے ہیں، جیسے سانپ دیکھ لیا ہو۔ ابھی حال ہی میں یہ اعداد و شمار سامنے آئے کہ پاکستان سے عمرے پر جانے والوں کی تعداد ٹیکس گزاروں سے کہیں زیادہ رہی۔ اربوں روپے اس مد میں خرچ کرنے والے قومی خزانے میں ٹیکس جمع کرانے کو تیار نہیں ہوتے۔ پاکستان کا متمول طبقہ اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس ادا کرے تو شاید ہر شے پر جنرل سیلز ٹیکس لگانے کی ضرورت پیش نہ آئے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے اور ایک عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں ہمیشہ براہ راست ٹیکس لگانے میں ناکام رہی ہیں، اسی لئے آسان راستہ یہی ڈھونڈتی ہیں کہ اشیا اور خدمات پر سیلز ٹیکس نافذ کر دیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی اسی فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے، جس سے عام آدمی زیادہ پستا ہے۔

حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے اشتہارات ہوں یا وزیراعظم عمران خان کے پیغامات، ایک چیز واضح ہے کہ خوف پھیلانے کا عنصر موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس خوف سے فائدہ کون اٹھائے گا؟ مجھے کئی بار تاجروں اور صنعت کاروں کے نمائندوں سے ٹیکس نہ دینے کے حوالے سے گفتگو کا موقع ملا۔ اکثریتی رائے یہی سننے کو ملی کہ ہم ٹیکس دینے کو تیار ہیں، مگر جس طرح ایف بی آر کا عملہ خوف و ہراس پھیلا کر انہیں لوٹتا ہے، اس کی وجہ سے وہ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں آیا ہی نہ جائے۔ اس میں کبھی کسی کو شبہ نہیں رہا کہ ایف بی آر میں ہر سال اربوں نہیں، کھربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ یہ کرپشن کیسے ہوتی ہے، سب کو معلوم ہے۔ خود ایف بی آر کا عملہ صنعت کاروں اور تاجروں کو ٹیکس نہ دینے کی ترغیب دیتا ہے اور مک مکا کے ذریعے معاملات طے کر لیتا ہے۔ ایسا صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ٹیکس کا نظام شفاف نہیں، چیئرمین ایف بی آر شبررضا رضوی کہہ چکے ہیں کہ موجودہ ٹیکس نظام ملک کو آگے نہیں لے جا سکتا، البتہ ڈبو ضرور سکتا ہے۔

اب حکومت یک نکاتی ایجنڈے کے ذریعے ٹیکسوں کو بڑھانا چاہتی ہے۔ فائیلرز کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم لائی ہے اور ساتھ ہی وزیراعظم بار بار تنبیہ کر رہے ہیں کہ اس سکیم سے فائدہ اٹھایا جائے، وگرنہ مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر کیا اس کے لئے ایف بی آر کی بھل صفائی بھی کی گئی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیسے پنجاب حکومت کہے کہ وہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال مثالی بنا دے گی۔ عدل و انصاف کو یقینی بنائے گی، لیکن پولیس کی اصلاح نہیں کرے گی۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے عہدہ سنبھالتے ہی چند احکامات جاری کئے کہ اب کسی اکاؤنٹ کو سیل نہیں کیا جائے گا۔ ایف بی آر کا عملہ تاجروں کے پاس نہیں جائے گا، خوف و ہراس نہیں پھیلائے گا،وغیرہ وغیرہ، مگر اب ساتھ ہی ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے ڈرا دینے والے پیغامات بھی دیئے جا رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ دس روز گزر جانے کے باوجود اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے کیوں نظر نہیں آ رہے، جبکہ بڑے شہروں کی پوش کالونیوں، بڑے بڑے بازاروں اور فیکٹری مالکان کے رہنے سہنے پر نظر ڈالیں تو صاف لگے گا کہ ہزاروں نہیں، لاکھوں ایسے افراد موجود ہیں، جنہیں ٹیکس نیٹ میں ہونا چاہیے تھا، مگر وہ نہیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اپنے سامنے کی چیز کو نظروں سے اوجھل کون کرتا ہے اور اس کے عوض کیا لیتا ہے؟ اگر عمران خان نے ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ نہ کی اور ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کے خلاف اسی ایف بی آر کے کارندوں کے ذریعے آپریشن شروع کر دیا تو خزانے میں چاہے کچھ آئے نہ آئے، اس محکمے کے افسروں کی چاروں گھی میں چلی جائیں گی۔ حکومت کو اپنی انٹیلی جنس اس مقصد کے لئے بھی استعمال کرنی چاہیے کہ ایف بی آر میں کون کون ایسا کر رہا ہے کہ سکیم ناکام ہو جائے، البتہ اس کے خوف سے لوگ پہلے سے زیادہ رشوت دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔ حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے ایمنسٹی سکیم تو نافذ کر دی، مگر نئے ٹیکس قوانین نہیں بنائے۔ اس وقت بھی ہزاروں مقدمات ایسے چل رہے ہیں، جن میں لوگوں نے اربوں روپیہ ٹیکسوں کی مد میں دینا ہے، لیکن انہوں نے عدالتوں سے حکم امتناعی لے رکھا ہے۔ سال ہا سال تک معاملات لٹکتے رہتے ہیں اور بالآخر ختم ہو جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایف بی آر کی بیورو کریسی ٹیکس نظام کو سادہ ہونے نہیں دیتی، کیونکہ اگر یہ نظام سادہ ہو گیا تو اس کے صوابدیدی اختیارات بھی ختم ہو جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا ہے کہ پاکستان میں خیرات سب سے زیادہ دی جاتی ہے، لیکن ٹیکس سب سے کم، اس کی وجہ یہ ہے کہ خیرات اللہ کے نام پر دی جاتی ہے جو نہ مانگتا ہے اور نہ خیرات دینے سے روکتا ہے، لوگوں کو اتنا یقین ضرور ہوتا ہے کہ خیرات دی ہے تو اس کا اجر ضرور ملے گا، جبکہ ٹیکس دیتے ہوئے وہ پہلے تو اس خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ نجانے ان پر اور کتنا ٹیکس لگ جائے، دوسرا انہیں اس بات کا بھی یقین نہیں ہوتاکہ وہ جو ٹیکس دے رہے ہیں، وہ ملک و قوم پر خرچ ہو گا، انہیں تو یہی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ قومی خزانے سے اربوں روپے لوٹ لئے گئے، مگر کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ کیا خالی خزانہ اسی طرح ہمیں کشکول پکڑ کر بھیک مانگنے پر مجبور کرے گا؟ ظاہر ہے ایسا کب تک چل سکتا ہے، کبھی نہ کبھی تو ہمیں ٹیکسوں کی کڑوی گولی نگلنا ہو گی اور ہر شخص کو اپنی حیثیت کے مطابق ٹیکس دینا ہو گا۔ کیا وہ وقت آ نہیں گیا۔

مزید : رائے /کالم