کیا ہم پوری دُنیا میں الگ قوم ہیں؟

کیا ہم پوری دُنیا میں الگ قوم ہیں؟
کیا ہم پوری دُنیا میں الگ قوم ہیں؟

  

دُنیا کے مختلف ممالک کے ہوائی اڈوں پر بہت زیادہ رونق ہوتی ہے۔ جب ہمارا جہاز رن وے سے ٹکراتا ہے تو رن وے پر جا بجا مختلف پرچموں والے جہاز نظر آتے ہیں۔ جب ہم کسی جہاز سے اترتے ہیں تو ہمارے ساتھ مختلف ممالک کے رنگ برنگے مسافر اترتے ہیں۔ جب ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں تو اتنی زیادہ گہما گہمی دیکھ کر میلے کے سمے کا گمان ہوتا ہے۔ کہیں مسافر اگلے سفر کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں تو کہیں لوگ اگلے سفر کے لمبے انتظار میں سو رہے ہوتے ہیں۔ آنے اور جانے والے دونوں لاونجز میں بڑی بڑی ڈیوٹی فری دکانیں ہوتی ہیں اور ان کے اندر گاہکوں کا رش ہوتا ہے۔ ہر طرف کھانے پینے کی جگہیں کیفے وغیرہ ہوتے ہیں، جن میں مسافر بیٹھ کر کھاتے پیتے اور گپ شپ کرتے ہیں، جس جگہ آنے والے مسافروں کا سامان آرہا ہوتا ہے وہاں بیک وقت 8یا 10 سامان لانے والی بیلٹیں چل رہی ہوتی ہیں، جن کے اوپر ٹی وی سکرین پر لکھا ہوتا ہے کہ اس بیلٹ پر کہاں سے آنے والی کون سی فلائٹ کا سامان آرہا ہے۔ تمام مسافر ایک دوسرے کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے ہیں۔ جب ہم باہر نکلنے کی راہ لیتے ہیں تو سامنے لکھا ہوتا ہے۔ کہ کسٹم والے اس طرف اور جن کے پاس کسٹم والی کوئی چیز نہیں وہ دوسری طرف سے نکل جائیں، یعنی نان کسٹم مسافر سبز چینل سے گزر جائیں۔ شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوا ہو گا کہ گرین چینل سے گزرنے والے کسی مسافر سے کسی کسٹم ملازم نے کوئی سوال کیا ہو کہ آپ اپنا سامان چیک کرائیں۔ یہ اپنے مسافروں پر اعتماد کا بہترین مظاہرہ ہے۔ ایئرپورٹس کے اندر ٹیکسی، بس، ٹیوب اور ہر طرح کی ٹرانسپورٹ اور دوسری معلومات کا ڈیسک بنا ہوتا ہے۔ جب ہم ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہیں، تو مسافروں کا استقبال کرنے والے کچھ لوگ ہوتے ہیں، لیکن وہ مسافروں کی تعداد سے بہت کم ہوتے ہیں۔ باہر نکلنے کا راستہ کشادہ اور ہر طرح کی رکاوٹ سے پاک ہوتا ہے۔ ٹیکسیاں اپنے سٹینڈ پر قطار میں کھڑی ہوتی ہیں اور دوسری طرف بسوں کی قطار ہوتی ہے۔

لیکن جب ہم گھوم پھر کر اپنے وطن عزیز کے ہوائی اڈے پر اترتے ہیں اور اپنی سرزمین کا بوسہ لیتے ہیں۔ بوسے کے بعد سر اوپر کرتے ہیں تو رن وے سنسان ہوتا ہے۔ کبھی کبھار کہیں ایک قومی ایئرلائین یا کسی خلیجی ملک کا کوئی طیارہ ہوتا ہے۔ جب ہم ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ تو ہر طرف ہو کا عالم ہوتا ہے۔ البتہ مسافر ایک دوسرے سے آگے نکلنے اور امیگریشن کروانے کے لئے کچھ دھکم پیل کرتے ہیں۔ امیگریشن کے عملے کے چہروں پر کڑواہٹ اور اکتاہٹ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ ہر کوئی دوسرے کو شکی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ زیادہ تر ایک وقت میں ایک ہی جہاز اترتا ہے اور اندر ایک ہی بیلٹ پر سامان آتا ہے، لیکن پھر بھی سامان آنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ آنے والے مسافروں کے لئے کوئی ڈیوٹی فری شاپ ہے نہ کھانے پینے کی کوئی چیز ملتی ہے۔ آنے والے مسافروں میں ننانوے اعشاریہ پچاس فیصد پاکستانی ہوتے ہیں۔ اپنا سامان لے لینے کے بعد جب ہم سبز چینل کے راستے سے باہر نکلنے لگتے ہیں تو آگے کسٹم کا عملہ روک کر پہلے سوال پوچھتے ہیں۔ پھر سامان کو سکرین کرواتے ہیں۔ اس کے بعد ایک طرف لے جاکر سامان کھلواتے ہیں اور اندر سے سامان کی اتھل پتھل کرتے ہیں۔ پھر بھی اگر میرے جیسے مسافروں سے سوائے چند گندے کپڑوں کے کچھ نہ ملے تو سامان پیک کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ آپ کام کیا کرتے ہیں؟ میرے جیسا مسافر ان کا منہ تکتا ہے جیسے جوابی سوال کر رہا ہو کہ اگر میں کوئی کام وام کرتا ہوتا تو میرے سوٹ کیس سے گندے کپڑے کیوں برآمد ہوتے؟

جن مسافروں کے پاس کوئی تحفہ یا چھوٹی موٹی چیز ہوتی ہے ان کے ساتھ پھر بحث مباحثہ شروع ہو جاتا ہے۔ نہ کسٹم کی کوئی ریٹ لسٹ ہوتی ہے نہ کوئی اور معلومات نہ کوئی کمپیوٹر کی رسید ہوتی ہے۔ خیر جیسے تیسے ہم ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہیں۔ تو آگے مسافروں سے پانچ گنا زیادہ لوگ اپنے پیاروں کے منتظر ہوتے ہیں اور باہر نکلنے کا راستہ بھی بند کر کے راستے کے عین بیچ میں کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے پھلانگ کر نظریں بچھائے ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے اور پتیاں لئے اپنے عزیزوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ (اگر کوئی فلائٹ سعودی عرب سے آرہی ہو تو باہر ہر طرف گلاب کی پتیاں بکھری ہوتی ہیں) اگر کوئی مسافر ایئرپورٹ کے اندر سے سامان دھکیلنے والے قلیوں سے جان بچا کر نکل آئے اور مرکزی راستے میں کھڑے لوگوں سے بھی گھس کر نکل آئے تو آگے پھر سامان اٹھانے یا گاڑی میں رکھوانے والے مددگار گھیر لیتے ہیں۔ اگر وہ بائیں طرف ہوں تو دائیں اور سامنے ٹیکسی والوں کے ایجنٹ راستہ روک لیتے ہیں۔ ان تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد کار پارکنگ سے نکلنے کا مرحلہ آتا ہے۔

جس فلائٹ میں کوئی لیڈر بیرون ملک میں اپنی جائداد کی دیکھ بھال کر کے، اپنی صحت کی اوورہالنگ کروا کر، اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزار کر (ہمارے بڑے رہنماؤں کی فیملیاں ملک سے باہر ہی رہتی ہیں) یا پھر پاکستان کے ناپسندیدہ ماحول سے جان چھڑا کر کچھ مہینے یورپ کے مزے لے کر واپس آرہا ہو تو پھر تو ایئرپورٹ کے باہر استقبال کے لئے آنے والے کارکنوں کا سیلاب اور طوفان بدتمیزی ہوتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دوڑیں لگی ہوتی ہیں۔ اور مَیں پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ یہ صرف میرے پیارے وطن میں ہی ہوتا ہے۔ کسی دوسرے ملک میں نہیں۔ کیونکہ دوسرے ممالک کے سیاست دانوں کے پاس ایسی عیاشیوں کے لئے وقت ہوتا ہے نہ وہ چند دن سے زیادہ بیرون ملک رہ سکتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پھولوں سے استقبال صرف ایسے کھلاڑیوں کا ہوتا ہے جو کوئی ٹورنامنٹ جیت کر اور اپنے ملک کا نام روشن کر کے آئے ہوتے ہیں۔

پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم پوری دُنیا میں وکھری ٹائپ کے لوگ ہیں؟ کیا ہم دُنیا کے ساتھ نہیں چل سکتے؟ کیا ہمارے ملک میں سیاح نہیں آسکتے؟ کیا ہمارے ایئرپورٹس پر کام کرنے والوں کی تربیت نہیں ہو سکتی؟

نوٹ: اس کالم کا خیال برطانیہ سے علاج کروا کر اور اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزار کر واپس آنے پر شہباز شریف صاحب کے استقبال سے ذہن میں آگیا تھا۔

مزید : رائے /کالم