چاند، سائنس اور وزیر

چاند، سائنس اور وزیر

ڈاکٹرعطا ء الرحمٰن نے سن 2000ء میں وزارت سائنس اینڈٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر کا عہدہ سنبھالا۔ بعدازاں آپ وزیر اعظم کے مشیر سائنس رہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اگر آپ کا برین چائلڈ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔آپ اس کے بانی چئیر مین تھے۔ آپ کے دور میں پاکستان کی پہلی آئی ٹی پالیسی ترتیب دی گئی۔ انٹرنیٹ 29 شہروں سے 1000 شہروں اور بستیوں میں پھیل گیا۔ فائبرنیٹ ورک 40 سے 400 شہروں میں پہنچا دیا گیا۔ ٹیلی کام کے شعبے میں انقلاب آ گیا۔ سیٹلائٹ پاک سیٹ 1 فضا میں چھوڑا گیا۔ یونیورسٹیز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ معیارتعلیم بلند ہوا۔ فنڈز میں اضافہ کیا گیا۔طلبہ کے لیے سکالر شپس کا اجراء ہوا۔ ریسرچ پیپرز اور جدیدتحقیق کے رجحان کی پرورش کی گئی۔ ماہرین، سائنس اور تعلیم کے میدان میں ڈاکٹرعطا الرحمٰن کے دور کو پاکستان کا سنہری دور قرار دیتے ہیں۔

پاکستان سٹینڈرڈ ز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی وزارت سائنس کے ماتحت ہے۔اب تک پاکستان میں صرف 107 سٹینڈرڈ زکو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ گویا تجارت، خدمات اور صنعت کے شعبے کوالٹی سٹینڈرڈ ز کے بغیر شتر بے مہار کی مانند دوڑ رہے ہیں اور نتیجہ سامنے ہے۔ 2019 ء میں پاکستان کی لگ بھگ ایک سو یونیورسٹییز میں سے صرف دو پہلی پانچ سو کی عالمی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں سے ایک نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) ہے جووزارت سائنس کے ماتحت ہے۔کیا نسٹ کو پہلی پچاس یونیورسٹییز کی فہرست میں لے کرآنا فواد چودھری کی ترجیحات میں شامل ہے؟ نوے ہزار میں ہوائی جہاز تیار کرنے والے پاک پتن کے انڈر میٹرک محمد فیاض کے صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی کوئی سکیم فواد چودھری کے پاس ہے؟وزیر سائنس اگر چاند دیکھنے کی بجائے وزارت سائنس کو دیکھ لیں تو پاکستان ترقی کی منازل طے کر لے۔

فواد چودھری نے پورے ملک میں رمضان اور عیدوں کے تعین کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فواد چودھری نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے آئندہ پانچ برس کا قمری کیلنڈر بنالیا ہے۔ سعودی عرب نے 1420ہجری میں آئندہ تیس برس کا قمری کیلنڈر بنا لیا تھا۔ یہ کیلنڈرتقویم ام القری کی ویب سائٹ پر دیکھاجا سکتا ہے۔ کیلنڈر کے باوجود رمضان، شوال اور حج وغیرہ کا اعلان حقیقی رؤیت ہلال اورعینی گواہیوں کے بعد سعودی عرب کی سپریم علماء کونسل کرتی ہے۔سعودی عرب غالبا واحد اسلامی ملک ہے جس میں کاروبار حیات شمسی کیلنڈر کے مطابق نہیں قمری کیلنڈر کے مطابق چلتا ہے۔

نمازٹائم ٹیبل مسجد میں آویزاں ہو یا ڈیجیٹل ڈیوائس کی صورت میں ہو۔ اس لئے قابل اعتماد ٹھہرا کہ عمومی طور پر سارا سال اس کی تصدیق ممکن ہے۔ مثلا اگر کسی روز ہم نمازمغرب کے وقت کی تصدیق چاہتے ہیں۔ تو غروب آفتاب کے وقت کو نوٹ کر کے ہم نمازٹائم ٹیبل کو ویریفائی کر سکتے ہیں۔ جبکہ فواد چودھری کے کیلنڈرکے مطابق اگر چاند دن میں کسی وقت پیدا ہوچکا اور ہم ویریفائی کرنے کے لیے نومولود چاند دیکھنا چاہتے ہیں تو جواب آتا ہے کہ آج چاند دیکھنا ممکن نہیں۔ بلکہ یہ کہاجاتا ہے کہ چاند سعودی عرب اور دیگر ممالک میں دکھائی دے چکا ہے، تو اب تصدیق کی کیا ضرورت ہے۔ عرض ہے کہ یا تو چاند اور سورج (اوقات نماز) دونوں سے متعلق سعودی عرب کی پیروی کر لیں۔و گرنہ اصولی طور پر ہم چاند اور سورج (اوقات نماز) دونوں سے متعلق سعودی عرب کے پابند نہیں۔ فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ایپ بتا دے گی کہ چاند اس وقت کس زاویے پر اورکہاں ہے۔ پھر آپ اپنے علاقے میں آسانی سے دیکھ سکیں گے کہ چاند کہاں ہے۔لاہور،کراچی اور گوادر کے مابین غروب آفتاب اور اوقات نماز میں سارا سال (حسب موسم) 15 سے 50 منٹ کا فرق رہتا ہے۔ممکن ہے فواد چودھری آئندہ سورج دیکھنے کے لیے بھی ایپ بنائیں تاکہ اہل پاکستان ایپ کے سورج کو دیکھ کرسٹینڈرڈ وقت پرنمازیں ادا کر لیں۔

فواد چودھری کا کہنا ہے" فکر نہ کریں، یہ بات سمجھاتے دو سو سال لگے کہ پرنٹنگ پریس حرام نہیں ہے، نہ ہی ٹرین کا سفر اور نہ ہی لاؤڈ سپیکر کفر ہیں، یہ موضوع تو ابھی شروع ہوا ہے زیادہ عرصہ نہیں درکار ان شا اللہ۔" پرنٹنگ پریس، ٹرین کا سفر اور لاؤڈ سپیکر سے متعلق یہ باتیں نجانے فواد چودھری نے کس سے سنیں۔ عصر حاضرمیں کیا کسی عالم یا سکالر نے کمپیوٹر، کار، موبائل یاموٹر بائیک کو حرام قرار دیا ہے؟ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش کی کچھ صورتیں جائز ہیں اور کچھ ناجائز ہیں۔ نہ اندھا دھندسائنس کی پیروی ہے، نہ اس سے الرجی اور عداوت ہے۔ اسلامی دنیا میں علماء کی کمیٹیاں ماہرین فن سے مشورے کے بعد جدید سائنسی ایجادات پر رائے پیش کرتی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل (پاکستان)، بین الاقوامی اسلامی فقہ اکادمی (او آئی سی)، اسلامی فقہی اکیڈمی(رابطہ عالم اسلامی) کا یہی طرز تحقیق ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ کیلنڈر حقیقی رؤیت کے امکان پر مبنی ہوگا یا کسی فارمولے پر؟ اگر حقیقی رؤیت کے امکان پر مشتمل کیلنڈر بنایا جاتا ہے اور ہمارا ملک کسی قمری ماہ کی 29 تاریخ کو امکان رؤیت کے غیر واضح خطے میں آتا ہو تو اس صورت میں کیلنڈر ناکام ہوگا۔ اگر حقیقی رؤیت کے امکان پر مشتمل کیلنڈر نہیں بنایا جاتا تو یہ رسول اللہؐ کی تعلیمات کے منافی ہے۔نئے چاند کا پیدا ہونا (برتھ آف مون) اورنئے چاند کا دکھائی دینا دو مختلف امور ہیں۔غروب آفتاب کے بعد اگر چاند مطلع پر ہے تو اس کادکھائی دینا کئی ایک عوامل پر مشتمل ہے، مثلا: نئے چاند کی عمر، چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ، چاند کی بلندی، چاند کا زمین سے فاصلہ ان میں مطلع کی کیفیت، فضا کی شفافیت، مقام مشاہدہ کی کیفیت وغیرہ۔

آرتھوڈاکس (راسخ العقیدہ) عیسائی کرسمس کو قدیم جولین کیلنڈر کے مطابق مناتے ہیں جسے جولیس سیزر نے نافذ کیاتھا۔ 2019ء میں (17 کے لگ بھگ ممالک میں) کروڑوں آرتھوڈوکس عیسائیوں نے کرسمس 7 جنوری کو منایا جبکہ آرمینیا کے عیسائیوں نے اسے 6 جنوری کو منایا۔ کیا میڈیا پر یہ بحث ہوئی کہ پوری دنیا کے عیسائی دو ہفتے پہلے 25 دسمبر کو کرسمس منا چکے ہیں؟ اسی طرح یہودی آج بھی عبرانی کیلنڈر کے مطابق اپنے مذہبی تہوار مناتے ہیں۔ یہ بیک وقت چاند اور سورج کی گردش کو ملا کر بنایا جانیوالا کیلنڈر ہے۔ اسی لیے یہودی مذہبی تہوار جیسے یوم کپور(عید غفران) وغیرہ ہر سال مختلف دنوں میں ہوتے ہیں۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی برسوں سے قائم ہے۔ جہاں ضرورت ہوتی ہے وہ محکمہ موسمیات اورسپارکو سے تعاون حاصل کر لیتے ہیں۔خیبر پختون خواہ کے علماء نے شہادتوں کی بنیاد پر کئی بار مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے ایک دن پہلے عید منانے کا اعلان کیا ہے۔ بہتر کہ علماء کی مجلس میں گفت و شنید کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا جائے۔ یاد رہے کہ ایک ریاست میں اگر مطالع مختلف ہونے کے سبب دو عیدیں ہوجائیں تو حرج نہیں۔صحیح مسلم کی روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت کریب نے دمشق میں جمعہ کی رات کو رمضان المبارک کا چاند دیکھا اور جب میں وہ مدینہ منورہ پہنچے توحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم نے مدینہ میں ہفتہ کی شب چاند دیکھا۔ ہم اس کے مطابق روزے اور عید کو اختیار کریں گے۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے۔جہاں تک اتفاق و اتحاد کے بیانیے کا تعلق ہے تو اگر پاکستان میں دو سربراہ (وزیر اعظم وصدر)، دو زبانیں (انگریزی اور اردو)، چھے سے زائد علاقائی قومیتیں (پنجابی، بلوچی، سندھی، پشتون، سرائیکی، مہاجر)، بیسیوں سیاسی جماعتیں اور منشور ہونے کے باوجود مسلمانان پاکستان کا اتفاق و اتحاد قائم ہے تو دو عیدیں اس میں رخنے کا علماء باعث نہیں ہو سکتیں۔

مزید : رائے /کالم