ملک کو درپیش مسائل کیوں حل نہیں ہورہے؟

ملک کو درپیش مسائل کیوں حل نہیں ہورہے؟
ملک کو درپیش مسائل کیوں حل نہیں ہورہے؟

  


مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار عید الفطر پاکستانیوں کے لئے جیسے تیسے گزر ہی گیا۔ جیسے تیسے اس لئے کہ محدود وسائل والے لوگوں کے پاس پیسے ہی نہیں تھے، جس کی وجہ سے کوئی تن ڈھانپ سکا تو کوئی پاؤں میں جوتی نہیں پہن سکا۔ جن کے پاس وسائل ہیں انہوں نے ہاتھ روکا ہوا تھا۔ بڑی بڑی مارکیٹوں میں بڑے دوکاندار بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔ سب ہی حیران تھے کہ گاہک ہی نہیں تھے اور جو گاہک تھے وہ ”دل کھول“ کر خریداری کرنے میں ”بخل“ سے کام لے رہے تھے۔ یہ بخل اس لئے ہے ملک کی معاشی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ ملک میں ٹیکسوں کی وصولی کا نظام اطمینان بخش نہیں ہے اور بر آمدات کی صورت حال بڑی حد تک غیر تسلی بخش ہے۔ ملک کو آئی ایم ایف کو سود کی مد میں ادائیگی کے لئے تو بڑی رقم باقاعدگی سے درکار ہوتی ہے۔ لوگوں کی پریشانی کی وجہ سے عام لوگ یہ تک کہہ جاتے ہیں کہ ماضی کے حکمران ہی بہتر تھے۔ موجودہ حکمرانوں کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔ حالانکہ ماضی کے حکمران کسی طرح بھی بہتر نہیں تھے۔ ان کی ہی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان آج کے حالات سے دوچار ہے۔ عام لوگوں کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ ماضی میں حکمران قرضوں پر قرضے حاصل کر کے ملک چلا رہے تھے۔ ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھا گیا تھا۔

عام لوگوں کو تو بس اپنے وسائل میں رہ کر اپنا وقت گزارنا ہے، جسے گزارنا ان کے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ موجودہ حکمران ماضی کی غلطیوں کو دہرانے میں تامل کا شکار تھے، لیکن جب ڈالر قابو میں نہ رہا تھا بالآخر آئی ایم ایف ہی کا سہارا لینا پڑا جو ان تمام لوگوں کے لئے تکلیف دہ صورت حال ہے جو ملک کو قرضوں سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان جس گرداب میں گھرا ہوا ہے اس کا حل تو ماضی کے حکمران ہی کیا بلکہ دنیا کے کسی بھی حکمران کے پاس نہیں ہے کہ قرضہ لئے بغیر اس ملک کی معیشت کس طرح چلائی جا سکتی ہے۔ سخت حالات میں سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ حکمران اس سے اجتناب برت رہے ہیں۔ حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات پر فوری طور پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا حجم مختصر کرنے کی ضرورت ہے۔ وزراء اور اعلی افسران پر آنے والے اخراجات میں کٹوتی کی ضرورت ہے۔ ملک میں پیٹرول کے استعمال کی راشن بندی کی ضرورت ہے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں، وزراء اور اعلی افسران کے غیر ملکی دوروں میں کمی کی ضرورت ہے۔ سرکاری دفاتر میں بجلی کے استعمال کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے صنعتی اداروں کو جو بر آمدات کا سامان تیار کرتے ہوں، ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، درآمدات کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان ضرورتوں کو فوری طور پر پورا نہیں کیا گیا تو ہمارا مستقبل غیر یقینی صورت حال سے ہی دوچار رہے گا۔ .

ویسے بھی پاکستان میں ملکی اقتدار میں شریک تمام عناصر کو احساس ہونا چاہئے پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن نے وہ کچھ نہیں دیا، جس کی اسے ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن ضرورت کے مطابق انتخابی اصلاحات کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان اصلاحات کو روکنے میں پارلیمنٹ کے اراکین کا کردار ہے جنہوں نے پارلیمنٹ کو خاندانی اجارہ داری کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہاں پارلیمنٹ کی رکنیت کو خاندانی میراث تصور کیا جاتا ہے۔ کہاں ہے ان لوگوں کی نمائندگی اور آواز جن کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ ان کو درپیش مسائل پر کوئی گفتگو نہیں کرتا۔ کوئی با مقصد قانون سازی نہیں کی جاتی۔ کیا بے آواز لوگوں کی آواز کے لئے پارلیمنٹ میں ان کی بامقصد نمائندگی نہیں ہونا چاہئے۔ محفوظ نشستیں انہیں با مقصد نمائندگی فراہم نہیں کرتی ہیں۔ صرف دکھاوے کی حد تک وفاقی اور صوبائی حکمران زبانی جمع خرچ سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو طفل تسلیوں میں مبتلا رکھتے ہیں۔ کوئی غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ ملک میں لوگوں کو درپیش ہر چھوٹے اور بڑے مسلہ کو پارلیمنٹ کے سامنے ہی پیش ہونا چاہئے اور اراکین کو کوئی واضح فیصلہ کرنا چاہئے۔

آج ملک کو اندرونی اور بیرونی مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے جنہیں حل کرنے کی تدابیر تلاش ہی کرنا ہوں گی، ان کے حل کے تلاش میں تا خیر، کوتاہی اور ناکامی ملک کی ہی ناکامی ہو گی۔ دنیا بھر میں کوئی اور ملک ہماری مدد نہیں کرے گا کیوں کہ یہ ہمارے ہی پیدا کردہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ قرضے حاصل کرلینا اور ادھار پر پیٹرول لینا، ہماری مشکلات میں کمی پیدا نہیں کریں گے۔ ہمارے معاشی اور سیاسی ماہرین ہمارے مسائل اور مشکلات کا حل پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ ہمیں ماضی کی تاریخ سنا نے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ کسی نہ کسی سبب کی وجہ سے کسی وجہ کو بنیاد بنا کر ماہرین اپنی جان چھڑاتے ہیں۔ آخر ایسے کب تک چلے گا۔ اگر موجودہ حالات کا حل تلاش نہیں کیا جاتا ہے تو طوالت ہمیں مزید خرابی سے دوچار کرے گی۔ مزید خرابی ہمیں ایسی جگہ لے جائے گی جہاں سے واپسی بہت ہی مشکل ہو جائے گی، پھر ہم کیا کریں گے۔ اس وقت سے ہمیں ڈرنا چاہئے۔ دولت مند افراداگر یہاں نہیں تو کسی اور ملک جا کر وقت گزار لیں گے، لیکن عام لوگ تو کہتے ہیں کہ جس طرح معیشت کا شکنجہ کسا جا رہا ہے اس کی وجہ سے پاکستان خانہ جنگی کا شکار نہ ہو جائے۔ بھوکے کو روٹی چاہیے ہوگی اور وہ روٹی حاصل کرنے کے لئے چھیننے سے گریز نہیں کرے گا۔ چھینا چھانی کی کارروائیوں کا بلا امتیاز سب ہی شکار ہو جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم