”وچکار والی انگل“

”وچکار والی انگل“
”وچکار والی انگل“

  

سنا ہے کوٹ لکھپت کی ایک بیرک سے ہلکی ہلکی آواز آرہی ہے۔ تیرے آن تے کھڑاک بڑے ہون گے۔ مزے تے ماہیا ہن آون گے۔ ظاہر ہے ایک عرصہ بعد کرن ارجن کی جوڑی اکٹھی ہونے جارہی ہے۔ یقینا زرداری اپنے عزیز دوست سے ملتے گنگنائیں گے۔ ”توں وی بدنام میاں میں وی بدنام“ ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر دونوں نم آنکھوں سے کہیں پتہ اے مینو دواں دانئی چنگا انجام۔ کہتے ہیں دشمن مرے تو خوشی نہ کریئے اور ہماری تو اتنی اوقات بھی نہیں کہ اتنے اعلیٰ ارفع رہنماؤں سے دشمنی تو کجا دوستی کا بھی دعوی کرسکیں، کھتے مہر علی کھتے تیری ثنا، یا بہتر یہ ہے کہ کہاں راجہ بھوج اور کہاں میں گنگو تیلی۔

لیکن سوچتا ہوں اس بے تحاشہ دولت بنگلوں بینک اکاؤنٹس کا کیا فائدہ جو انسان کی عزت نہ کراسکیں۔ لیکن اقتدار میں شاید انسان اندھا بہرہ ہو جاتا ہے۔ آج ہم دیوالیہ پن کے قریب ہیں اور پچھلے 35سال سے ہم پر حکمرانی کرنے والے اربوں کھربوں کے مالک۔ سنتا سنگھ کہنے لگا دیسی گائے کا دودھ ہو کرنل کے چاول اور دیسی چینی۔ پھر ان کی کھیر بناؤں اور ٹھنڈی کرکے وچکار والی انگلی سے کھاؤں۔ سننے والا بولا تمہاری پاس کھیر کے لئے کیا کیا چیز ہے۔ سنتا سنگھ مسکرا کے بولا وچکار والی انگلی۔ بہت لکی ہے اپنا سنتا سنگھ وچکار والی انگلی رکھتا ہے ہمیں دیکھیں ہر پانچ سال بعد الیکشن کے نام پر اپنے ہاتھ کٹوا لیتے ہیں اور پھر سارا سال مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی کا رونا روتے ہیں۔

میرے شناختی کارڈ ہولڈر پاکستانیوں چوروں، ڈاکوؤں، شعبدہ بازوں کو اپنا رہنما منتخب کرو گے تو پھر مہنگائی کی چلتی بھٹی میں پاپ کارن کی طرح پھڑکتے ہی پھرو گے۔ وہ طیب اردگان تھا جس کے تحفظ کیلئے ترکی ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے تھے۔ یہاں 35سال سے رہنمائی کے ٹھیکیدار آپ کو جمہوریت و قیادت خدامت کی سجیاں کراکے لوٹ مار کی کھبیاں کراتے رہے۔ قوم کیسے اٹھے وہ تو پہلے ہی لم لیٹ ہے۔ ٹیچر نے کہا مچھر کو جملے میں استعمال کرو۔ سنتا سنگھ بولا قومی دولت ویکھ کے میرا دل مچھر گیا۔ جب آپ بنتا سنگھوں اور سنتا سنگھوں کو سنگھا سن پر بٹھاؤ گے تو انکا دل مچھرے گا ہی نا۔ چاہے عمران خان کے پیچھے بیگ گراؤنڈ میوزک چلتا رہے کہ چھوڑے گا نہیں مارے گا چن چن کے۔

لیکن ان آنی جانیو کا فائدہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم کا ہم کیا بگاڑ سکے؟ شرجیل میمن کا کیا ہوا؟ عزیر بلوچ کہاں گیا؟ عابد باکسر کا کیا بنا؟ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ شہبازشریف کی پرواز کون روک سکا۔ حمزہ کی حفاظتی ضمانت کیسے ہوئی؟ مریم کو سیاست کی اجازت کیسے ملی؟ ہے کوئی جواب۔ بے ایمانی کے کاموں میں بے ایمانی نہیں کرنی چاہئے۔ ٹیچر نے سنتا سنگھ سے پوچھا کل سکول نہیں آئے بولا باجی میں شدید بیمار تھا۔ وہ بولی کل آپ دوائیوں کا نسخہ لیکر آنا۔ بنتا سنگھ بولا باجی ”اسی دم کرایا سی۔

ہم بس دم کرانے والی قوم ہیں۔ بس ہمارے چہرے پر احتساب کی انصاف کی قانون کی پھونکیں مارے جاؤ۔ ہم اسے اپنا علاج سمجھیں گے۔ 2 جون کو اپنے تجزیئے میں عرض کی تھی عید کے بعد بڑے بڑے طوفان آئیں گے۔ بڑے بڑے مگرمچھ گرفتار ہوں گے۔ ایک پیش گوئی اور سن لیں حکومتی صفوں کی منجھی تھلے بھی ڈانگ پھرے گی۔ بکل دے چور بھی پکڑے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کی ڈرائی کلین مشین بھی ایک بار ری فریش ہونے والی ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ بس بچ کے موڑ توں۔

مزید : رائے /کالم