معاشی بحران کی ذمہ داری سابق حکومت تھی تو اسد کو کیوں ہٹایا گیا؟

معاشی بحران کی ذمہ داری سابق حکومت تھی تو اسد کو کیوں ہٹایا گیا؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

روزانہ کورس کے انداز میں کہا جا رہا ہے کہ ملک کی معاشی مشکلات کی ساری ذمہ داری سابق حکومت پر عائد ہوتی ہے، لیکن محسوس ایسے ہوتا ہے کہ ہزاروں بار یہ بات دہرائے جانے کے باوجود لوگ ہیں کہ مان کر ہی نہیں دے رہے، ورنہ اگر حکومتی وزرا کو یقین آجاتا کہ لوگ  ان کی باتوں کو درست مان چکے ہیں تو پھر ان باتوں کو دہرانے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ اب تو لوگ یہ سوال بھی کرنے لگے ہیں کہ اگر سابق حکومت ہی اس سارے بحران کی ذمے دار تھی تو پھر بے چارے اسد عمر کو کیوں ہٹایا گیا، جن کا پہلا تعارف یوں کرایا گیا تھا کہ وہ جادو گر معیشت دان ہیں اور چٹکیوں میں بگڑی ہوئی معیشت کا چہرہ سنوار دیں گے، ہمارا خیال ہے کہ انہوں نے اپنے طور پر کچھ کوششیں کیں بھی، لیکن ان کا کمال نے نوازی سے شرائط نرم کرانے کے چکر میں الجھے رہے۔

وہ شاید جانتے نہیں تھے اور اگر جانتے تھے تو سادہ لوحی کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ آئی ایم ایف دراصل ان کے ساتھ کوئی ڈیل فائنل کرنا ہی نہیں چاہتا تھا اس نے تو مذاکرات  کو غیر ضروری طور پر طویل اس لئے کیا کہ اسد عمر یہ سمجھتے رہیں کہ وہ شرائط نرم کرا رہے ہیں جبکہ آئی ایم ایف معاملے کو اس نہج پر لے جا رہا تھا کہ اسد عمر کو ناکام ثابت کرکے اس پردے میں اپنے لوگوں کو آگے بڑھا دیا جائے،جو اس کا ایجنڈا لے کر چلیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو مشیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک کو درآمد کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ آج جب تحریک انصاف کی حکومت اپنا بجٹ پیش کر رہی ہے تو یہ سطور لکھتے وقت یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کی روشنی میں تیار کئے گئے بجٹ کو پڑھ کر سنانے کی سعادت کون حاصل کرے گا۔ حفیظ شیخ کے حصے میں تو یہ نیکی نہیں آسکتی، کیونکہ وہ حلف اٹھائے بغیر مشیر خزانہ ہیں البتہ وزیراعظم خود یہ کام کرسکتے ہیں جو خزانے  کی وزارت کے اصل انچارج ہیں۔ یہ نوید سنائی جارہی ہے کہ فوج کی طرح سارے سویلین ادارے بھی  بچت کریں گے تو یہ پتہ بھی چل جائے گا کہ حفیظ شیخ کی مہارت پاکستان کے کس کام  آتی ہے۔

ویسے ان کے آبائی علاقے میں مشہور ہے کہ وہ بچت کے بادشاہ ہیں اور اپنے چھوٹے بھائی کی شادی کے موقع پر انہوں نے  دعوت ولیمہ میں اس کا خوب مظاہرہ کیا تھا۔ شادی کے مہمانوں کے کھانے کے لئے روایتی باورچیوں سے مشورہ کیا گیا تو انہوں نے پوچھا کہ کتنے مہمانوں کے لئے کھانا تیار کرنا ہے۔ انہیں مہمانوں کی تعداد بتائی گئی تو انہوں نے حساب لگا کر بتا دیا کہ کھانے میں چاول کی اتنی دیگیں پکیں گی اور سالن کی اتنی، یہ حساب جب حفیظ صاحب تک پہنچا تو انہوں نے اپنے علم معیشت کے حساب سے یہ نتیجہ نکالا کہ جو حساب باورچی نے لگایا ہے اس میں کھانا بہت زیادہ بتایا گیا، جبکہ مہمانوں کے حساب سے اس سے نصف مقدار میں بھی کھانا کافی ہوگا۔ چنانچہ باورچی کو جو کھانا پکانے کے لئے کہا گیا وہ اس کے اندازے کے نصف سے بھی کم تھا۔ بے چارے باورچی نے کہا بھی کہ صاحب یہ کھانا کم پڑ جائے گا، لیکن اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا گیا کہ مہمان ہمارے ہیں، کھانا بھی ہم نے کھلانا ہے۔ کم پڑا تو سبکی بھی ہماری ہوگی۔ اس لئے تمہیں جو کہا جا رہا ہے وہی کرو۔ باورچی نے حکم پر عمل کیا اور اتنی دیگیں تیار کر دیں جتنی کی ہدایت انہیں کی گئی تھی۔ مہمان آئے، کھانا شروع ہوا تو تھوڑی ہی دیر میں میزبانوں کو اندازہ ہوگیا کہ کھانا کم پڑ جائے گا۔

وہ بھاگم بھاگ حفیظ شیخ صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے تسلی دی کہ ایک مہمان ایک پاؤ سے زیادہ گوشت نہیں کھا سکتا اس لئے مطمئن رہیں ہمارا پکایا ہوا کھانا بھی بچ جائے گا، لیکن پھر جب مہمان کھانے کے لئے آئے تو تھوڑی ہی دیر میں کبھی چاول اور کبھی سالن کی طلب شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ کھانا تو کم پڑ جائے گا۔ چنانچہ مہمانوں کی ایک بڑی تعداد کو دوسری جگہ بٹھایا گیا کہ ان کے لئے کھانا آرہا ہے اور پھر سب نے  دیکھا کہ منتظمین  کے کارندے گھر میں جہاں سے جو برتن ملا وہ اٹھا کر شہر کے ہوٹلوں اور ریستورانوں کا رخ کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہاں سے جو ملا اور جہاں سے بھی  وہ مہمانوں کے سامنے لاکر رکھ دیا گیا، گویا صحیح معنوں میں ”ماحضر“ کا منظر تھا۔ حفیظ صاحب پھربھی کہتے رہے کہ ان کا حساب غلط نہیں ہوسکتا، اب اگر وہ سویلین محکموں میں بھی اسی طرح بچت کرنا چاہتے ہیں جس طرح انہوں نے اپنے بھائی کی شادی کے موقع پر کی تھی تو بہتر ہے ایک بار پھر حساب لگا لیں اور محکموں کی اتنی ہی کٹوتی کریں جن سے کام بھی چلتا رہے اور کچھ نہیں تو ملازمین کی تنخواہیں تو نکلتی رہیں۔

ایسا نہ ہو کہ ان محکموں کے ملازمین اور پنشنرز بچت کی زد میں آجائیں اور تنخواہوں اور پنشنوں کی تلاش میں مارے مارے پھریں۔ دراصل بات یہ کرنا تھی کہ اگر معیشت کی ساری خرابیاں سابق حکومت کی پیدا کردہ ہیں تو اسد عمر کو کس خوشی میں قربانی کا بکرا بنایا گیا اور اگر انہیں درست طور پر ہی نکالا گیا اور معیشت کی خرابی میں ان کا بھی کوئی حصہ تھا تو اب انہیں دوبارہ کابینہ میں لانے کی کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں؟ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر تھے اور تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی معاشی پالیسیوں کی ناقد بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے وزیر کی حیثیت سے درست پالیسیاں نہیں بنا سکے تھے تو آج کیسے بنائیں گے۔ بجٹ میں ان کا سارا ہنر سامنے آجائے گا۔ ہماری دعا البتہ یہ ہے کہ بجٹ کا حشر ان کے بھائی کی دعوت ولیمہ جیسا نہ ہو۔

مزید : تجزیہ /رائے