حفیظ شیخ نے بجٹ پیش کیوں نہیں کیا، کس قانون کے تحت وہ اسمبلی میں تو بیٹھے رہے لیکن بجٹ تقریر نہیں کرسکے؟ اہم آئینی نکات آپ بھی جانئے

حفیظ شیخ نے بجٹ پیش کیوں نہیں کیا، کس قانون کے تحت وہ اسمبلی میں تو بیٹھے رہے ...
حفیظ شیخ نے بجٹ پیش کیوں نہیں کیا، کس قانون کے تحت وہ اسمبلی میں تو بیٹھے رہے لیکن بجٹ تقریر نہیں کرسکے؟ اہم آئینی نکات آپ بھی جانئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے آئندہ مالی سال 2019-20 کا بجٹ پیش کردیا ہے۔ یہ بجٹ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں وزارت خزانہ کی ٹیم نے تیار کیا ہے لیکن منتخب نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے وہ ووٹ کا حق نہیں رکھتے اس لیے اسمبلی میں بجٹ پیش نہیں کرسکے۔

سینئر تجزیہ کار اور عدالتی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے سعید چوہدری کہتے ہیں آئین کا آرٹیکل 93وزیراعظم کو 5مشیر رکھنے کی اجازت دیتاہے ، یہ مشیر آئین کے آرٹیکل57کے تحت پارلیمنٹ سے خطاب بھی کرسکتے ہیں لیکن ووٹ کا حق نہیں رکھتے، اس کا مطب ہے یہ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہوتے لیکن پارلیمنٹ سے وزیر اعظم کی دعوت پر خطاب کرسکتے ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 93 کیا کہتا ہے؟

” آئین کے آرٹیکل 93 کے تحت صدر، وزیر اعظم کے مشورے پر ، ایسی شرائط پر جو وہ متعین کرے ، زیادہ سے زیادہ 5 مشیر مقرر کرسکے گا۔ آرٹیکل 93 کی ذیلی شق کے مطابق آرٹیکل 57 کے احکام کا کسی مشیر پر بھی اطلاق ہوگا“۔

آئین کا آرٹیکل 57 کیا کہتا ہے؟

”وزیر اعظم کسی وفاقی وزیر ، کسی وزیر مملکت اور اٹارنی جنرل کو کسی بھی ایوان یا ان کے کسی مشترکہ اجلاس یا ان کی کسی کمیٹی میں جس کا اسے رکن نامزد کردیا جائے ، تقریر کرنے اور بصورت دیگر اس کی کارروائی میں حصہ لینے کا حق ہوگا لیکن اس آرٹیکل کی بنا پر ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا“۔

سعید چوہدری کے مطابق بجٹ بھی قانون ہوتا ہے جسے قومی اسمبلی سے فنانس ایکٹ کے نام سے اسمبلی سے بذریعہ ووٹ منظور کرایا جاتا ہے، چونکہ مشیر ووٹ دے نہیں سکتا تو ووٹ لے بھی نہیں سکتا اس لیے حفیظ شیخ کے بجٹ پیش کرنے میں یہ آئینی قدغن بھی موجود تھی اس لیے ان کی جگہ منتخب وزیر حماد اظہر نے بجٹ تقریر کی اور اس پر ووٹ حاصل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ وزیر اعظم کی دعوت پر اٹارنی جنرل کی طرح اسمبلی میں بیٹھ بھی سکتے ہیں اور خطاب بھی کرسکتے ہیں اسی لیے وہ بجٹ اجلاس میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے۔

کیا عبدالحفیظ شیخ بجٹ پیش کرسکتے تھے؟

اگر حکومت چاہتی کہ بجٹ تیار کرنے والے عبدالحفیظ شیخ ہی بجٹ پیش کریں تو انہیں آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 9 کے تحت وزیر کا درجہ دینا پڑنا تھا۔ یہ آپشن مسلم لیگ ن کی حکومت نے مفتاح اسماعیل کے وقت استعمال کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے یہ آپشن ا س لیے استعمال نہیں کیا کیونکہ اس کو کوئی بھی پارلیمنٹ صرف ایک بار ہی استعمال کرسکتی ہے اور ابھی موجودہ حکومت کا 4 سال سے بھی زائد کا عرصہ باقی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 9 کیا کہتی ہے ؟

”کوئی وزیر جو مسلسل 6 ماہ کی مدت تک قومی اسمبلی کا رکن نہ رہے، مذکورہ مدت کے اختتام پر وزیر نہیں رہے گا اور مذکورہ اسمبلی کے توڑے جانے سے قبل اسے دوبارہ وزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ وہ اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہوجائے ، مگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں شامل کسی امر کا ایسے وزیر پر اطلاق نہیں ہوگا جو سینیٹ کا رکن ہو“۔

تجزیہ کار سعید چوہدری کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 9 کے تحت کسی بھی شخص کو وزیر بنایا جاسکتا ہے ،ایسا پارلیمنٹ کے عہد میں صرف ایک بار ہوسکتا ہے، مذکورہ شخص 6 ماہ تک رکن اسمبلی منتخب نہ ہونے پر وزارت سے فارغ ہوجائے گا۔ جب ایسے شخص کو وزیر بنایا جاتا ہے تو اس کے بعد وہ الیکشن لڑے اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر باقاعدہ طور پر وزارت سنبھالے ، اگر وہ الیکشن نہیں لڑ سکتا یا الیکشن ہار جاتا ہے تو 6 ماہ کے بعد خود کار طریقہ کے تحت وزارت سے فارغ ہوجائے گا اور جس اسمبلی نے اسے وزیر بنایا تھا اس کی تحلیل تک دوبارہ وزیر نہیں بن سکے گا۔

انہوں نے کہا یہ حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ آئینی خلا پر کرنے کیلئے کسی بھی شخص کو وزیر بنادے ، مسلم لیگ ن کی حکومت کے عہدِ عباسی میں حکومت نے مفتاح اسماعیل کو اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ بنایا تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /بجٹ