وفاقی بجٹ 20-2019ء دوسرا حصہ

وفاقی بجٹ 20-2019ء دوسرا حصہ
وفاقی بجٹ 20-2019ء دوسرا حصہ

  

خبر کا پہلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کمپنیوں کیلئے ٹیکس ریٹ کا 20 فیصد کا تعین

فنانس ایکٹ 2014ءسے قبل کمپنیوں کیلئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد تھی،ٹیکسوں کی شرح میں ٹیکس سال 2014ءسے ٹیکس سال 2018ءتک ہر سال ایک فیصد کمی کر کے اسے 30 فیصد تک لایا گیا۔ کمپنیوں کیلئے ٹیکس ریٹ کو 2018ءمیں 30 فیصد سے ٹیکس سال 2023ءمیں 25 فیصد کم کرنے کی تجویز تھی، اس وقت ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے، چونکہ ٹیکس ریٹ میں پہلے ہی 35 فیصد سے 29 فیصد تک نمایاں کمی کی جا چکی ہے اور ملک کے معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز ہے کہ کمپنیوں کیلئے ٹیکس ریٹ کو اگلے دو سال کیلئے 29 فیصد تک فکس کر دیا جائے۔

گفٹ کی وصولی آمدن تصور ہو گی

غیر ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے اکٹھی ہونے والی دولت کو جواز فراہم کرنے کیلئے استعمال ہونے والے طریقوں میں سے ایک عام طریقہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کو کسی گفٹ کی وصولی ظاہر کیا جائے۔ اس حوالے سے ڈیٹا کے تجزئیے سے پتہ چلتا ہے کہ انکم ٹیکس گوشواروں کے مطابق تحائف کی مالیت 256 ارب روپے سے زائد ہے۔ اس لوپ ہول کے خاتمے کیلئے تجویز ہے کہ موصول ہونے والے گفٹ کو دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کے زمرے میں شامل کیا جائے تاہم قریبی رشتہ داروں سے وصول ہونے والے تحائف پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہو گا۔ سپر ٹیکس فنانس ایکٹ 2015ءکے ذریعے متعارف کروایا گیا تھا، یہ تمام بینکنگ کمپنیوں اور ایسے دیگر افراد پر لاگو ہوتا ہے جن کی آمدن 50 کروڑ روپے سے زائد ہو، سپر ٹیکس کیلئے واجب الادا رقم کے حساب کے وقت ڈیپریسی ایشن اور سابقہ کاروباری نقصانات کو شامل نہیں کیا جاتا تاہم بینکنگ کمپنیوں کی صورت میں انہیں شامل کیا جاتا ہے، ٹیکس کے حوالے سے ایک جیسے برتاﺅ کو یقینی بنانے کیلئے تجویز ہے کہ بینکوں کیلئے بھی قانون کو دوسرے اداروں کے مطابق کیا جائے۔

ٹیکس کریڈٹ میں کمی اور ٹیکس سال 2019ءکے بعد اس کا خاتمہ

اس وقت ایسے تمام صنعتی ادارے جو توسیع، وسعت، بیلنسنگ، ماڈرنائزنگ اور تبدیلی کیلئے مشینری خریدنے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، انہیں مشینری کی قیمت خرید کے 10 فیصد کے برابر ٹیکس کریڈٹ کی اجازت ہوتی ہے۔ ٹیکس کریڈٹ کی اس سہولت کو فنانس ایکٹ 2010ءکے ذریعے متعارف کروایا گیا تھا اور یہ 30 جون 2015ءتک دستیاب تھی، اگرچہ یہ سہولت پہلے ہی اپنی افادیت کھو چکی تھی، پھر بھی سابقہ حکومت نے اس میں 2021ءتک توسیع کر دی، ڈیٹا کے تجزئیے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ٹیکس کریڈٹ کا دعویٰ کئی ایسی کمپنیوں کی طرف سے بھی آیا ہے جو ان مراعات کے بغیر بھی مشینری پر سرمایہ کاری کرتی، تجویز ہے کہ ٹیکس سال 2019ءکیلئے مشینری کی قیمت خرید کے 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا جائے اور اس کے بعد اس کریڈٹ کو ختم کر دیا جائے تاہم اس کریڈٹ کی براڈ فارورڈ ایڈجسٹمنٹ جاری رہے گی اور صنعتوں کو انیشی ایل ڈیپریسی ایشن کی سہولت بھی میسر رہے گی۔

مقامی رائلٹی پر ٹیکس کی واپسی

کسی بھی نان ریذینٹ شخص کو رائلٹی کی رقم کی ادائیگی پر ودہولڈنگ ٹیکسز کی کٹوتی کی جاتی ہے تاہم کسی ریذیڈنٹ شخص کو رائلٹی کی رقم ادا کرنے کی صورت میں ایسا ودہولڈنگ ٹیکس نہیں کاٹا جاتا۔ اب مقامی اداروں کی نمود و ترقی میں اضافہ ہو گیا ہے جو کہ رائلٹی سے آمدن حاصل کر رہے ہیں لیکن ایسے افراد کی حقیقی آمدن کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس لئے تجویز ہے کہ رائلٹی کی مجموعی رقم پر 15 فیصد کی شرح سے ریذیڈنٹ افراد سے ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی جائے۔

رئیل سٹیٹ سیکٹر کیلئے ٹیکس نظام کی درستگی

فی الحال غیر منقولہ جائیداد پر کیپٹل گین کی جائیداد رکھنے کی مدت کی بنیاد پر علیحدہ طور پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ یہ تجویز دی جاتی ہے کہ کیپٹل گین سے ہونے والی آمدن پر عمومی ٹیکس کی شرح کے مطابق عام ٹیکس کے نظام کے تحت ٹیکس لگایا جائے۔ اس طرح یہ بھی تجویز کیا جا رہا ہے کہ کیپٹل گین کیلئے خالی پلاٹ کی صورت میں 10 سال کے اندر فروخت اور تعمیر شدہ مکانات کی صورت میں 5 سال کے اندر فروخت کی مدد مقرر کی جائے۔ پہلے سال میں فروخت کی صورت میں عام آمدن کے مطابق ٹیکس لاگو ہو گا، سال کے بعد فروخت کی صورت میں تین چوتھائی آمدن کا ٹیکس لیا جائے گا۔ اس وقت اگر غیر منقولہ جائیداد کا ایک خریدار جائیداد کی ڈی سی مالیت اور ایف بی آر مالیت کے مابین فرق پر تین فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے تو اس کیلئے ضروری نہیں کہ وہ رقم کے مذکورہ فرق پر سرمایہ کاری کی وضاحت کرے۔ یہ غیر ظاہر کردہ رقم کو سفید کرنے کا ایک مستقل طریقہ ہے جو بین الاقوامی ٹیکس کے اصولوں کے خلاف ہے اس لئے یہ تجویز پیش ہے کہ ایسی رقم پر تین فیصد کی شرح پر ٹیکس واپس لے لیا جائے۔ ایف بی آر نے بڑے شہروں میں غیر منقولہ جائیداد کے ویلیو ایشن ٹیبل متعارف کرائے ہیں۔ بورڈ کی طرف سے مختص کر دہ شرح اب بھی اصل مارکیٹ قیمت سے کافی کم ہے اس لئے یہ سمجھا جاتا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کیلئے ایف بی آر کی شرح اصل مارکیٹ قیمت کے قریب ہو یا تقریباً 80 فیصد لی جائے۔ جیسا کہ غیر منقولہ جائیداد کی ایف بی آر مالیت میں ہونے والے اضافے سے حقیقی خریدار اور فروخت کنندہ پر ٹیکس لگانے کی شرح میں اضافہ ہو گا، یہ تجویز ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2فیصد سے ایک فیصد تک کم کر دی جائے، اس وقت جائیداد کے خریدار پر ودہولڈنگ ٹیکس صرف اس صورت میں لگایا جاتا ہے جب جائیداد کی مالیت 40 لاکھ روپے سے زائد ہو ، اس ٹیکس سے بچنے کیلئے رقم کو توڑ کر 4 ملین روپے سے کم کیا جاتا ہے جبکہ جائیداد کی اصل قیمت چار ملین روپے سے زائد ہوتی ہے، اس حد کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے جائیداد کی قیمت کا لحاظ رکھے بغیر خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس لینے کی تجویز دی جا رہی ہے۔

نان فائلرز کیلئے کاروبار کرنے کی زیادہ لاگت کا تصور سب سے پہلے پہلے فنانس ایکٹ 2014ءمیں بھی متعارف کرایا گیا اور نان فائلرز کیلئے الگ اور زیادہ شرح کو مقرر کیا گیا تاہم اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی کہ اب نان فائلرز اپنی آمدنی کے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے کا انتخاب کر سکتا ہے اور اس طرح زیادہ ٹیکس جمع کرانے سے دستبردار ہو سکتا ہے، اگرچہ اس اقدام کا مقصد شائد فائلرز کی تعداد کو بڑھانا تھا مگر وقت کیساتھ اس اقدام سے اضافی ریونیو بڑھانے پر توجہ منتقل ہو گئی۔ اس کے علاوہ ایسے افراد جنہیں اپنے گوشوارے جمع کروانے کی ضرورت نہیں تھی یا جنہوں نے ابھی کاروبار شروع کیا تھا، انہیں بھی زیادہ ٹیکس جمع کرانے سے بچنے کیلئے گوشوارے جمع کروانے کی ضرورت تھی، اس غلط فہمی کو ختم کرنے کیلئے نان فائلرز زیادہ ٹیکس ادا کرنے اور مخصوص بے قاعدگیوں کو دور کرنے کے ذریعے کسی بھی مصیبت سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح انہیں نان فائلرز قرار دیا جاتا ہے، اس کی بجائے ایک نئی سکیم ایسے افراد پر توجہ مرکوز کرتی ہے جن کے نام فعال ٹیکس گزاروں کی فہرست اے ٹی ایل میں شامل نہیں، متعارف کروانے کی تجویز دی جاتی ہے، یہ سکیم اس وقت زیادہ ٹیکس دینے والے نان فائلرز کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی کی داعی ہے جس میں فعال ٹیکس گزاروں کی فہرست اے ٹی ایل میں شامل نہ ہونے پر ناصرف سزا دی جاتی ہے بلکہ ایسے افراد سے گوشوارے جمع کروانے کیلئے ایک موثر طریقہ کار بھی متعارف کرایا جاتا ہے، اس ضمن میں دسویں شیڈول کے عنوان سے ایک نیا شیڈول قانون متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس میں انگلینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کا وضع کردہ طریقہ اختیار کرنے کی پیشکش کی جائے گی تاکہ ایسے افراد گوشوارے جمع کروائیں جو آمدن تو کماتے ہیں مگر اپنی آمدن کے گوشوارے جمع نہیں کرواتے۔

موجودہ نظام کے تحت ٹزانزیکشنز میں شامل لوگوں کو اپنے اصل منافع پر ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں، اس کی بجائے ترسیلات زر پر جمع کردہ یا منہا کردہ ٹیکس کو ان کی ٹیکس کی حتمی ذمہ داری سمجھا جائے گا، چونکہ منہا کردہ ٹیکس ہی حتمی ٹیکس ہوتا ہے، اس لئے ایسے افراد آڈٹ کی جانچ پڑتال سے محفوظ رہتے ہیں، فی الوقت حتمی ٹیکس کے نظام، کمرشل درآمدکنندگان، برآمد کنندگان، اشیاءکے کمرشل سپلائرز، ٹھیکیدار، انعامات سے آمدن کمانے والے افراد، پیٹرولیم مصنوعات کے فروخت کنندگان، بروکریج یا کمیشن سے آمدن حاصل کرنے والے لوگ اور سی این جی سٹیشنز سے کمائی حاصل کرنے والے افراد کیلئے دستیاب ہے، ایسے افراد کو ٹیکس کے باقاعدہ نظام میں لانے کیلئے ان ٹرانزیکشنز سے جمع کردہ یا منہا کردہ ٹیکس کو ایکسپورٹرز، انعامات جیتنے والوں، پیٹرولیم مصنوعات کے فروخت کنندگان کے علاوہ کم از کم ٹیکس سمجھا جائے، یہ اقدام حتمی ٹیکس نظام کو مرحلہ وار نافذ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ڈیویڈنٹ سے آمدن پر ٹیکس کو الگ سے شمار کیا جاتا ہے اور یہ عمومی ٹیکس نظام کے تحت آمدن کا حصہ نہیں ہوتا۔ منافع سے آمدن کیلئے عموکی شرح 15 فیصد ہے جسے بہت کم خیال کیا جاتا ہے کیونکہ منافع پر آمدن حاصل کرنے کیلئے اعتراضات نہیں کئے جاتے، فی الوقت منافع پر آمدن پر بہت کم شرح سے ٹیکس لگایا جاتا ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کمپنیاں پہلے ہی مکمل شرح سے ٹیکس ادا کرتی ہیں تاہم ایسی کمپنیاں جو مستثنیٰ یا دستیاب ٹیکس کریڈٹ اور الاﺅنس کی وجہ سے ٹیکس ادا نہیں کرتیں، ان کیلئے تجویز کیا جاتا ہے کہ ایسی کمپنیوں سے حاصل کردہ منافع سے آمدن پر عمومی ٹیکس سے برعکس 25 فیصد ٹیکس لگایا جا سکے، عمارات کی عمومی زندگی کا دورانیہ 30 سال سے زیادہ ہوتا ہے تاہم ہر سال 10 فیصد کی شرح سے عمارات کی فرسودگی کی اجازت لی جاتی ہے اور پہلے اینیشیل ڈیپریسی ایشن کی 15 فیصد کی اجازت بھی دی گئی ہے، اس طرح عمارت کی کل لاگت کا 25 فیصد فرسودگی کے طور پر پہلے سال کلیم دعویٰ کیا جاتا ہے جو عمارات کی اصلی اور عمومی زندگی کے مکمل طور پر برعکس ہوتی ہے، اس لئے یہ تجویز دی گئی ہے کہ عمارات پر انیشیل ڈیپریسی ایشن کے الاﺅنس کو ختم کر دیا جائے۔

قرضے پر منافع کی آمدن پر ٹیکس

فی الحال قرضے پر منافع کی آمدن پر علیحدہ سے 5 ملین، 5 سے 25 ملین اور 25 ملین سے زائد قرض پر منافع پر بالترتیب 15,12.5,10 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ متعلقہ منافع پر 15 فیصد 17.5 فیصد اور 20 فیصد کی شرح سے نظرثانی کرنے کی تجویز ہے۔ قرض پر منافع کی کٹوتی کی شرح پر بھی نظرثانی کر کے10 فیصد سے 15 فیصد کا اضافہ کرنے کی تجویز ہے، مزید برآں مذکورہ بالا الگ شرحوں کو 36 ملین روپے تک قرض پر منافع پر اطلاق ہو گا اور 36 ملین روپے سے زائد قرض پر منافع کی رقم کل آمدن کا حصہ ہو گی اور عمومی شرح پر ٹیکس لگے گا۔ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مینوفیکچرز اپنے ساتھیوں کو کمیشن ایجنٹس، ڈیلرز مقرر کرتے ہیںجنہیں وہ اپنے اصل ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری سے اجتناب کرنے کیلئے زائد کمیشن کی شکل میں اپنے منافع کی رقم منتقل کرتے ہیں، اس لئے تجویز ہے کہ سپلائرز کو کل رقم کے 0.2 فیصد سے زائد ادا کردہ کمیشن کی رقم کی اجازت نہیں ہو گی جب تک یہ ڈیلرزسیلز ایکٹ 1990ءکے تحت رجسٹرڈ نہ ہو۔ فنانس ایکٹ 2018ءکے ذریعے 10 ملین روپے کی حد عائد کی گئی تھی تاکہ غیر ملکی ٹرانزیکشنز کی صورت 10 ملین روپے کے ذرائع پوچھنے کی اجازت نہیں تھی، چونکہ مزدورں کی بھیجی گئی رقم کا حجم بہت کم ہوتا ہے اس لئے یہ تجویز ہے کہ غیر ملکی آمدن کے ذریعے سرمایہ کاری کی وضاحت کرنے کیلئے حد 10 کروڑ روپے سے 5 کروڑ روپے کی جا رہی ہے۔

بینکنگ اور انشورنس کمپنیوں کی اصلاحات

بینکنگ اور انشورنس کے نظام میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو ان سیکٹرز کی حقیقی آمدن پر ٹیکس لگانے میں مدد ملے گی۔ جائیداد کی خریداری یا فروخت کے لین دین کی اصل قیمت جاننے کیلئے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں 50 لاکھ روپے سے زائد اور منقولہ جائیداد کی صورت میں 10 لاکھ یا اس سے زائد کی جائیداد کیلئے ضروری ہو گا کہ اسے بینک چیک کے ذریعے سے خریدا جائے۔ اس شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں ایسے اثاثوں پر ڈیپریسی ایشن بھی دستیاب نہیں ہو گی اور کیپٹل گین کیلئے اس کی قیمت خرید کو صفر تصور کیا جائے گا۔ قانونی کارروائی کے عمل کو آسان بنانے کی تجویز ہے اور یہ بھی تجویز دی جاتی ہے کہ قانونی کارروائی کے ذریعے سپیشل عدالت کی جج میں مقدمہ کیا جائے گا اور مذکورہ شخص کی گرفتاری بھی ممکن ہو سکے گی۔ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کیلئے معیشت کے مخصوص شعبہ جات کی جانب سے گوشوارے جمع کرانے اور قابل ادا ٹیکس کے تعین کے حوالے سے قواعد و ضوابط کو آسان اور سادہ بنانے کی ضرورت ہے، اس مقصد کیلئے ایک نئے شعبے کے قیام کی تجویز ہے، جو ٹیکس کے دائرہ کار اور ادائیگی، ریکارڈ کیپنگ کیلئے، مخصوص قواعد و ضوابط کی وضاحت کرنے، چھوٹے کاروبار، تعمیراتی کاروبار، میڈیکل پٹیشنرز، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور وفاقی حکومت کی جانب سے بتائے گئے کسی بھی شعبہ کے حوالے سے گوشوارے جمع کرانے اور تشخیص کیلئے طریقہ کار وضع کیا جا سکے گا۔ مخصوص شرائط کی تکمیل کے بعد غیر منافع بخش تنظیموں، ٹرسٹ اور ویلفیئر اداروں کو 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ دینے کی اجازت ہے، قانون کے تحت کمشنر کے ذریعے منظور شدہ غیر منافع بخش تنظیموں، این پی اوز کو 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ دینے کی اجازت ہے، جب این پی اوز کی منظوری کی شرط موجود ہو تو ٹرسٹ اور ویلفیئر اداروں کیلئے ایسی شرط کا اطلاق نہیں ہوتا، یہ تجویز دی جاتی ہے کہ ٹرسٹ اور ویلفیئر اداروں کو چاہئے کہ وہ 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی سہولت حاصل کرنے کیلئے این پی او سٹیٹس کی منظوری حاصل کریں، ٹرانسفر فار پرائسنگ ایک عمومی طریقہ ہے جس میں سسٹر کمپنیوں کے ذریعے منافع کم ظاہر کیا جاتا ہے، ایسی صورتحال میں لین دین میں اصل مارکیٹ کی قیمت کو یقینی بنانے کیلئے ڈیٹا کا جامع موازنہ کرنے کی ضرورت ہے، چونکہ اس قسم کا ڈیٹا آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا، اس لئے تجویز یہ ہے کہ کمشنر کو ایک خودمختار چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ فرم سے ایسا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے اختیار دینا چاہئے، موجودہ قانون کے تحت افراد کی ایسوسی ایشن کے تحت ایک رکن کی جانب سے قابل ادا ٹیکس ایسوسی ایشنوں سے وصول کیا جا سکتا ہے اس کے برعکس افراد کی ایسوسی ایشن کی طرف سے قابل ادا ٹیکس اس کے رکن سے وصول نہیں کیا جا سکتا، ٹیکس میں وصولی کو یقینی بنانے کیلئے یہ تجویز ہے کہ جہاں افراد کی ایسوسی ایشن کی جانب سے قابل ادا ٹیکس کسی بھی فرد سے وصول کیا جا سکتا ہے جو ایسوسی ایشن کا رکن ہو۔

آڈٹ اور تشخیص کی علیحدگی

یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ آڈٹ کی تکمیل اور رپورٹ کے اجراءکے عمل کو آڈٹ کی بنیاد پر آمدن کی تشخیص سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ قانون کے تحت آڈٹ اور تشخیص کی شرائط کو الگ کرنے کے ذریعے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ آڈٹ اور تشخیص کے فرائض کا الگ اور خودمختار افسران کے ذریعے انجام دئیے جائیں گے تاکہ سیلز ٹیکس گزاروں سے غیر جانبدار روئیے کو یقینی بنایا جا سکے۔ فی الوقت صرف ٹیکس گزاروں کو چاہئے کہ وہ ٹیکس کے مقاصد کے تحت بورڈ سے رجسٹرڈ ہوں، کاروبار سے آمدن حاصل کرنے والے افراد جو ٹیکس کے زمرے میں نہیں آتے، انہیں رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں، ایک قابل اعتماد ڈیٹا بیس تشکیل دینے کیلئے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ کاروبار سے آمدن کمانے والے ہر ایک شخص، حتیٰ کہ ٹیکس زمرے سے کم ہو، اسے چاہئے کہ وہ نادرا سہولت مراکز کے ذریعے بورڈ سے کاروباری لائسنس حاصل کرے، واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد کم آمدن والے کاروبار سے گوشوارہ او ر ٹیکس لینا نہیں بلکہ قومی معیشت کو ڈاکیومنٹیشن کرنا ہے۔

حکومت ملک کو مالیاتی مشکلات سے نکالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ مشکل کسی اور کی لائی ہوئی ہے، ایک آسان راستہ یہ بھی تھا کہ ہر مقامی اور بین الاقوامی ذریعے سے بہت زیادہ قرضہ پکڑ لیا جاتا مگر حکومت جلد بازی کے حل نہیں چاہتی بلکہ ہم نے ملک کی خاطر مشکل راہ کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ ہم نے مالی انتظام کے ہر شعبے، جیسا کہ میکرو پالیسی ریفارم سے لے کر بزنس فلو تک اور قرض کی وسط مدتی پالیسی تک ہر معاملے کا احاطہ کیا ہے، پہلے ایک آدھ سال سخت ہو گا مگر پھر پائیدار بنیادوں پر ہماری محنت کا پھل انشاءاللہ ملنا شروع ہو جائے گا، جس کا فائدہ سب لوگوں کو ہوگا، جیسا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا ہے کہ یقین، عزم اور کام کی لگن کیساتھ ایسا کچھ نہیں جو آپ حاصل نہ کر سکیں۔

مزید : قومی