پنجاب حکومت کا قابل تحسین علم دوست اقدام

پنجاب حکومت کا قابل تحسین علم دوست اقدام

  

وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق سردار عثمان بزدار فروغ تعلیم کے لئے کوشاں

سرکاری خزانے سے ایک روپیہ خرچ کیے بغیر1227 سکولوں کی اپ گریڈیشن

پنجاب میں عرصہ دراز سے سینکڑوں سکول طلبا کی خاطر خواہ تعداد کے باوجود اپ گریڈیشن کے منتظر رہے۔ علاقے کے لوگ برسوں سفارشیں ڈھونڈا کرتے ہیں کہ کوئی اللہ کا بندہ ہمارے سکول کو اپ گریڈ کرا دے۔سکولوں کی اپ گریڈیشن اپنی جگہ ایک کارِ دشوار ہے۔ سرخ فیتے کی رکاوٹیں اور روایتی رویئے سکولوں کی اپ گریڈیشن میں حائل ہوا کرتی ہیں اور کہیں بجٹ کا پرابلم اور کہیں انسانی وسائل کی کمی۔۔۔بچوں کی تعلیمی ضروریات کا احساس کسی کو نہیں ہوتا تھا۔ قوم کے نو نہال علاقے کے سکول میں اگلے درجے کی کلاس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے اور یہ سلسلہ چند برس نہیں بلکہ دہائیوں سے چلتا آ رہا تھا اور اس معاملے میں سب سے زیادہ طالبات متاثر ہوا کرتی ہیں جو اپنے علاقے میں سیکنڈری یا ہائرسیکنڈری سکول نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑا بہت پڑھ کر گھر میں بیٹھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات سکول دور ہوتے ہیں اور آمدورفت کے لئے خاصے وسائل درکار ہوتے ہیں جو غریب والدین کے لئے مشکل امر ہے۔

عوام سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لئے سیاسی سفارشیں اور تعلقات ڈھونڈا کرتے تھے تاکہ سکولوں کو اپ گریڈ کروا کے اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرا سکیں۔ لیکن ہر شخص کے لئے یہ آسان کام نہیں ہوتا۔ سیاسی تعلق داری بھی بعض اوقات سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لئے ناکافی ثابت ہوتی اور طلبا و طالبات چند جماعتیں پڑھ کر سکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لئے ایسا طریق کار وضع کیا جائے کہ کسی سیاسی سفارش یا تعلق کے بغیر ہی سکول اپ گریڈ ہو جائیں اور بچے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق حکومت پنجاب صوبہ میں فروغ تعلیم کے لئے کوشاں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت نے پنجاب میں تعلیم کی بہتری کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے۔ پالیسی سازی پر توجہ دی تاکہ مستقل بنیادوں پر تعلیمی امور کو بہتری کی راہ پر استوار کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیرتعلیم ڈاکٹرمرادراس، سیکرٹری ایجوکیشن سائرہ اسلم اور ان کی ٹیم نے سکولوں کی اپ گریڈیشن پر ورکنگ کی اور ایسا طریق کار وضع کیا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سینکڑوں سکول اپ گریڈ ہو رہے ہیں اور اس کے لئے نہ کسی سیاسی سفارش کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی تعلق داری کی۔۔۔ میرٹ اور محض میرٹ کی بنیاد پر سکولوں کو اپ گریڈ کیاجا رہا ہے اور ایسا پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سکول اپ گریڈ ہو رہے ہیں اور ان کی اپ گریڈیشن میں کسی سفارش کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یہی وہ میرٹ ہے اور یہی وہ پالیسی ہے جس کے لئے قوم عرصہ دراز سے منتظر تھی۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ آفس میں ایک خصوصی اعلیٰ سطح اجلاس وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزار کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سکولوں کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی گئی۔

پنجاب میں پہلی مرتبہ سرکاری خزانے سے ایک روپیہ خرچ کیے بغیر1227 سکولوں کی اپ گریڈیشن کردی گئی ہے اور شاید ملک کی تاریخ میں بھی ایسی مثال نہ ملے کہ سکول اپ گریڈ ہوئے ہیں اور سرکاری خزانے سے کوئی پائی پیسہ خرچ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ سکول ایجوکیشن نے سکولوں کی اپ گریڈیشن کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لئے یونیورسل پالیسی بنائی گئی ہے جس کے تحت ایسے سکول جہاں چھٹی کلاس میں 20یا 20 سے زیادہ تعداد ہو۔ ساتویں کلاس میں 17یا 17سے زیادہ تعداد ہو اور آٹھویں کلاس میں 15یا15 سے زیادہ بچے موجود ہوں۔ مجموعی طور پر چھٹی سے آٹھویں کلاس تک 52 سے 150تک بچے موجود ہوں اور مذکورہ سکول میں 6یا 6سے زیادہ ای ایس ٹی اساتذہ موجود ہوں اور 4یا 4سے زیادہ ای ایس ٹی کی آسامیاں پرُ ہوں انہیں اپ گریڈ کر دیا جائے گا اور اسی طرح اپ گریڈیشن کے لئے مذکورہ سکول میں 9سے زائد کمرے ہونا ضروری ہیں۔ لائحہ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں 1227سکول اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت شامل کئے گئے ہیں۔ ان میں طالبات کے 606اورطلبہ کے 621ایلیمنٹری سکول سیکنڈری لیول تک اپ گریڈ کیے جائیں گے۔ اپ گریڈ کئے جانے والے سکولوں میں بچیوں کے سکولوں کا تناسب 49فیصد اور بچوں کے سکولوں کا تناسب 51فیصد ہے۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ انہی ایلیمنٹری سکولوں میں موجود اضافی سٹاف جو ریشنلائزیشن کی پالیسی کی وجہ سے دوسرے سکولوں میں تبادلے کی زد میں آ رہا تھا اور اساتذہ کے لئے قدرے بے چینی کا باعث بھی تھا، حکومت پنجاب نے ایک قابل تحسین پالیسی مرتب کی اور ان اضافی اساتذہ کو ان کی قابلیت کے مطابق سیکنڈری کلاسز کی ذمہ داریاں سونپ دی جائیں گی اور اب وہ تبادلے کی فکر سے بھی آزاد ہو جائیں گے اور یکسوئی سے اپنے ہی علاقے میں خدمات سرانجام دے سکیں گے جس سے یقینا معیار تعلیم میں بہتری بھی آئے گی اور لاکھوں طلبا اور طالبات کو آگے تعلیم کے مواقع میسر نہ ہونے کے عذر کی وجہ سے سکول چھوڑنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔ اس طرح صوبہ بھر کے ایلیمنٹری سکولوں کے اضافی 3315اساتذہ اپ گریڈیشن کے بعد انہی سکولوں میں خدمات سرانجام دیں گے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن نے دستیاب اعدادو شمار کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ایلیمنٹری سکولوں میں اضافی 3933 کلاس روم موجود ہیں۔ انہی کمروں میں اب سکینڈری کلاس روم قائم ہوں گے اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سکولوں میں موجود اضافی ٹیچنگ سٹاف ٹرانسفر کرنے کی بجائے اسی سکول میں خدمات سرانجام دے گا۔ سکولوں میں اضافی کلاس رومز کو سکینڈری ایجوکیشن کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ دستیاب وسائل کو بروئے کارلانے سے 16ارب روپے بچائے گئے ہیں۔ایلیمنٹری سکولوں کو سکینڈری لیول تک اپ گریڈکرنے سے ایک لاکھ سے زائد طلبہ اورطالبات مستفید ہوں گے۔ دوسرے مرحلے میں سکینڈری سکولوں کو ہائر سکینڈری لیول پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اپ گریڈ ہونے والے سکولوں میں ضلع اٹک کے 22سکولز شامل ہوں گے۔ بہاولنگر کے 36 اور بہاولپور کے 28 ہوں گے۔ بھکر کے 16 اور چکوال کے 25سکول شامل ہوں گے۔ چنیوٹ کے 4سکول شامل کئے جا رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے 20، فیصل آباد کے 58، گوجرانوالہ کے 37، گجرات کے 34 اور حافظ آباد کے 3سکول شامل ہیں۔ مجوزہ سکولوں میں جھنگ کے 33، جہلم کے 33، قصور کے 54، خانیوال کے 45 اور خوشاب کے 14سکول شامل ہوں گے۔ اپ گریڈ کئے جانے والے سکولوں میں لاہور کے 49سکول بھی شامل ہیں۔ ان سکولوں میں لیہ کے 26، لودھراں کے 13، منڈی بہاؤالدین کے 16، میانوالی کے 18، ملتان کے 34، مظفر گڑھ کے 41، ننکانہ صاحب کے 18، نارووال کے 20، اوکاڑہ 52، پاک پتن کے 28، رحیم یار خان کے 58، راجن پور کے 12، راولپنڈی کے 65، ساہیوال کے 66، سرگودھا کے 79، شیخوپورہ کے15، سیالکوٹ کے 52، ٹوبہ ٹیک سنگ 53 اور وہاڑی کے 50سکول تجویز کئے گئے ہیں۔ ان اضلاع میں دستیاب اضافی اساتذہ کی تعداد 4سے 239 تک ہے اور دستیاب اضافی کمروں کی تعداد 13 سے 293تک ہے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی زیرنگرانی صرف یہی نہیں بلکہ متعدد اچھے اقدامات کر چکا ہے جن میں ای ٹرانسفر پالیسی کا کامیاب نفاذ شامل ہے جس کے تحت 2لاکھ سے زائد ٹرانسفر اکی درخواستوں پر کارروائی کی گئی اور اس ضمن میں وصول کی جانے والی ڈھائی ارب سے زائد سالانہ رشوت کا خاتمہ کیا گیا۔ محکمہ تعلیم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے معاونت حاصل کرنے کے لئے آئی ایم آئی ایف سسٹم متعارف کرایا۔ پنجاب کے 22اضلاع میں انصاف آفٹرنون سکولز پروگرام کا آغاز کیا گیا جس کی وجہ سے 21ہزار سے زائد بچوں کو سکولوں میں واپس لانا ممکن ہوا۔ انصاف پرائمری سکولز پروگرام کے تحت کرائے کی عمارتوں میں 100پرائمری سکول قائم کئے گئے ہیں جن کا مقصد علاقے میں موجود طلبا کو ان کے گھر کے قریب ہی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ حکومت پنجاب نے خانہ بدوش ٹائپ بچوں کو تعلیم دینے کے لئے انصاف موبائل سکول پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت بنے بنائے کلاس روم میں تربیت یافتہ اساتذہ بلا معاوضہ پڑھاتے ہیں۔ پنجاب کے 11اضلاع میں 110ماڈل سکولوں کی تعمیرو بحالی کا کام اسی سال کے آخر میں متوقع ہے۔ 13اضلاع کے سکولوں میں 2ہزار نئے کلاس رومز بنائے جا رہے ہیں اور ان میں ایک ہزار کلاس رومز کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ 4سو نئی لائبریریوں کی تعمیر کا کام بھی اسی سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ ایک ہزار سائنس لیب اور ایک ہزار آئی ٹی لیب کی تعمیر کا کام بھی اسی سال ستمبر میں مکمل ہو گا۔ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ دانش سکولوں میں بہتری لائی جا رہی ہے اور ان کی لیبارٹریزاور لائبریریز میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت 36اضلاع کے سکولوں میں 1270واش رومز بنائے گئے ہیں۔ 1500سرکاری سکولوں میں واش کلب قائم کئے گئے ہیں۔ 31لاکھ سے زائد پودے بھی شجرکاری مہم کے تحت لگائے گئے ہیں۔تعلیم گھر کے نام سے خصوصی ایپ لانچ کی گئی ہے۔ تعلیم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے منشورمیں سرفہرست ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تعلیم کے شعبہ میں جوہری تبدیلیوں کے لئے کوشاں ہے۔

٭٭٭

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بغیر سفارش میرٹ پر

سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے

ایلیمنٹری سکولوں کی اپ گریڈیشن سے ایک لاکھ سے

زائد طلبہ اورطالبات مستفید ہوں گے

ایک لاکھ طلباپر سیکنڈری ایجوکیشن کے حصول کے بعد

اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھلیں گے

طالبات کے 606اورطلبہ کے 621 ایلیمنٹری

سکول اپ گریڈ ہوں گے

محکمہ سکول ایجوکیشن نے اپ گریڈیشن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

ایلیمنٹری سکولوں میں میسر اضافی 3933 کمروں میں سکینڈری کلاس روم قائم ہونگے

ایلیمنٹری سکولوں کے اضافی اساتذہ ٹرانسفر کی بجائے

اسی سکول میں پڑھائیں گے

ایلیمنٹری سکولوں کو فوری طور پر سیکنڈری سکول کا درجہ دے دیا گیا ہے

دوسرے مرحلے میں سکینڈری سکولوں کو ہائر سکینڈری اپ گریڈ کیا جائے گا

اپ گریڈیشن کے لئے دستیاب وسائل استعمال کرنے

سے 16ارب روپے بچائے گئے

بچیوں کے اپ گریڈڈسکولوں کا تناسب 49فیصد اور

بچوں کے سکولوں کا تناسب 51فیصد

مزید :

ایڈیشن 1 -