لاک ڈاؤن: 3ماہ میں 200نشئی بھوک اور طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث دم توڑ چکے

  لاک ڈاؤن: 3ماہ میں 200نشئی بھوک اور طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث دم توڑ چکے

  

 لاہور(خبرنگار)صوبائی درالحکومت میں کورونا کے دوران لاک ڈاؤ ون کے باعث گزشتہ تین ماہ کے دوران 200سے زائد نشے کے عادی افرادزندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔ جس میں کوروناکے دوران لاک ڈاؤن کے باعث نشہ کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی سہولت سمیت خوراک اورپانی نہ ملنے کی وجہ بتائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کورونا کے دوران لاک ڈاؤن کے باعث جہاں معیشت بری طرح متاثرہوئی ہے وہاں زندگی کا پہیہ جام ہونے کے باعث نشے کے عادی افراد بھی بری طرح متاثرہورہے ہیں اورلاک ڈاؤن کے دوران نشہ نہ ملنے کے ساتھ ساتھ میڈ یکل کی سہولت سمیت خوراک اورپانی کی شدیدکمی کی وجہ سے ا موات کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ پولیس اورانسداد منشیات سیل کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن سے قبل لاہورسمیت صوبہ بھر میں منشیات کے عادی افراد کی شرح اموات روزانہ کی بنیاد پر 30سے 40تھی اوراس میں لاہور میں 5سے 6 افراد جبکہ زیادہ سے زیادہ 6سے 8افراد نشہ کی زیادتی کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے تھے۔ اب چونکہ کوروناکے باعث لاک ڈاؤن سے جہاں نشہ کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے وہاں نشے کے عادی افراد کو خوراک اورپانی سمیت علاج معالجہ کی شدیدمشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث گزشتہ تین ماہ کے دوران نشے کے عادی افراد کی شرح اموات میں 200فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس میں مسافراڈوں، ریلوے سٹیشن،فٹ پاتھ اورپارکوں سمیت لاہورکے 300سے زائد مقامات پرنشے کے عادی افراد سب سے زیادہ متاثرہوئے ہے اوران کی شرح اموات 30سے 40فیصد سے بڑ ھ کر200فیصد ہوگئی ہے۔ شعبہ انسداد منشیات سیل کے سربراہ سید ذوالفقارعلی شاہ نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں شیشہ اورای سیگریٹ کا استعمال زیادہ بڑھا ہے جس سے بالخصوص شوگر اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا نشے کے عادی افراد کورون کا شکارہورہے ہیں اس پر حکومت اورمتعلقہ اداروں کو کردار ادا کرناچاہیے۔

مزید :

علاقائی -