تونسہ پولیس کی جانب سے وکلا برادری کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر پنجاب بار کونسل کی مذمت

تونسہ پولیس کی جانب سے وکلا برادری کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر پنجاب بار ...

  

لاہور(نامہ نگار)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے حلقے میں تونسہ پولیس کی جانب سے وکلا برادری کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر پنجاب بار کونسل نے مذمت کی ہے۔معلوم ہواہے کہ تونسہ پولیس نے قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر بیرسٹر امام قیصرانی اور ان کے کزن سابق جوائنٹ سیکریٹری تونسہ بار ایسوسیشن میر علی شیر قیصرانی کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کر کے اْن کے وراثتی رقبہ موضع جاڑا تحصیل تونسہ میں نا جائز قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ رقبہ پر کپاس کی کاشت کرتے ہوئے 16 افراد کوحراست میں لے لیا گیا۔ اگلے ہی روز مجسٹریٹ کورٹ تونسہ نے پولیس کے اس عمل کو“قانون کا مذاق”قرار دیتے ہوئے تمام گرفتار افراد کو مقدمہ سے بری کر دیا، پولیس اور قبضہ مافیا نے فیصلہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں اپیل دائر کی گئی جس کو عدالت عالیہ نے خارج کرتے ہوئے مجسٹریٹ کے فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے ہدایت کی پولیس کو ہدایت جاری کی کہ وکلا کی وراثتی ملکیتی و مقبوضہ زمین پر کسی قسم کی دراندازی نہ کی جائے۔

عدالت عالیہ کے فیصلہ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس نے دن دیہاڑے قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر دوبارہ زمین پر قبضہ کی کوشش کی جس پر تونسہ کی وکلا برادری سراپا احتجاج ہے۔

مزید :

علاقائی -