آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ کابل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ کابل

  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ایک روزہ دورہئ کابل میں صدر اشرف غنی اور چیئرمین افغان مفاہمتی کونسل عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کیں اور امن عمل و سلامتی کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔افغان صدر نے امن عمل کے لئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی،افغان باشندوں کی وطن واپسی کی خاطر زمینی اور فضائی راستے کھولنے کے اقدام کو بھی سراہا۔عبداللہ عبداللہ نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کے بعد اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو یقین دلایا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ تنازعات کے حل کے لئے تیار ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ نے بین الافغان مذاکرات میں بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اِس سلسلے میں انتہائی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔آرمی چیف اور افغان صدر کے درمیان بارڈر مینجمنٹ پر بھی بات چیت ہوئی،اس دورے میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور افغانستان کے بارے میں پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق بھی ہمراہ تھے۔

دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد اگلا مرحلہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کا تھا،لیکن معاہدے کے ساتھ ہی جب صدراشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں اُڑچنیں ڈالنا شروع کیں تو طالبان بھی اپنے سخت موقف پر ڈٹ گئے کہ اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کے بغیر وہ مذاکرات نہیں کریں گے۔ اشرف غنی ”کیس ٹو کیس“ جائزہ لے کر قیدیوں کی رہائی پر تیار ہوئے تو بھی طالبان نے یہ طریق ِ کار پسند نہیں کیا۔بعد از خرابی ئ بسیار طالبان کی مرحلہ وار رہائی ضرور شروع ہوئی اور جواب میں گرفتار افغان فوجی بھی رہا کر دیئے گئے، تاہم ابھی تک بہت سی رہائیاں باقی ہیں اور طالبان اب بھی اصرار کر رہے ہیں کہ جب تک اُن کے سارے قیدی رہا نہیں کئے جائیں گے وہ کسی ڈائیلاگ میں شریک نہیں ہوں گے۔دوحہ میں امریکہ طالبان معاہدہ ہو گیا تھا تو ضروری تھا کہ معاہدے کی روح کے مطابق اس پر عمل درآمد شروع ہو جاتا،لیکن صدر اشرف غنی جب تاویلات کی بھول بھلیوں میں اُلجھ کر من مانی تاویلات پر اُتر آئے تو طالبان نے بھی حسب ِ توفیق جواب دینا شروع کر دیا،اِس دوران بعض ایسے مقامات آئے جب دوحہ معاہدہ کاغذ کا پُرزہ ثابت ہوتا نظر آیا،لیکن امریکی تمام تر مشکلات کے باوجود معاہدے کو کامیاب بنانا چاہتے تھے، کیونکہ اس طرح افغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی کی راہ نکلتی تھی۔ نیٹو فورس میں شریک کئی مُلک تو اپنی افواج واپس بُلا چکے ہیں۔صدر ٹرمپ بھی اِس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، درمیان میں کورونا کی وبا نہ آتی تو شاید طالبان کے ساتھ افغان حکومت کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو جاتی، لیکن اس میں بھارت کا کردار بھی حائل تھا، جو نہیں چاہتا کہ خطے میں امن ہو اور وہ اِس مقصد کے لئے افغان قیادت کو نئی نئی پٹیاں پڑھاتا رہتا ہے، افغان حکومت میں شامل بعض شخصیات کے ساتھ اپنے خصوصی مراسم کی وجہ سے بھی اُسے کچھ سہولتیں حاصل ہیں،لیکن مقام اطمینان ہے کہ افغان قیادت بالآخر درست سمت کی جانب گامزن نظر آتی ہے۔

دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے کے بعد اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بروقت شروع ہو جاتے تو اب تک امن عمل کی جانب بہت سے قدم اُٹھ چکے ہوتے،لیکن کبھی ایک اور کبھی دوسری وجہ سے تاخیر ہونے کے باوجود اب بھی اگر یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو غنیمت ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے،لیکن قیدیوں کی رہائی تک شاید یہ ممکن نہ ہو اِس لئے افغان حکومت کو پہل کاری کرتے ہوئے تمام طالبان قیدی رہا کر دینے چاہئیں تاکہ مذاکرات کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہو سکے، ویسے بھی اگر افغان حکومت مستقل امن اور ملک سے طویل خونریزی کے دور کا خاتمہ چاہتی ہے تو اُسے کھلے دِل کے ساتھ پہل کاری کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو افغان ڈائیلاگ کو ممکن بنا سکیں۔ امریکہ کو افغانستان میں طالبان کی حقیقت تسلیم کرنے میں اٹھارہ برس لگ گئے، جب صدر بش نے نائن الیون کے ایک ماہ بعد افغانستان پر فضائی حملے کے ذریعے طالبان کی حکومت ختم کر کے حامد کرزئی کو تخت ِ کابل پر بٹھایا تو غالباً یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی طالبان کا وجود بھی ختم ہو گیا ہے،لیکن افغان کہسار اس بات کی شہادت کے لئے کافی تھے کہ طالبان کی حکومت ختم ہوئی ہے ان کا وجود نہیں، زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس قوت نے امریکہ کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا اور جو صدر یہ اعلان کر رہا تھا کہ ”چوہے بلّوں میں گھس رہے ہیں“ اُسے عجلت میں قائم کی گئی اپنی رائے سے رجوع کرنا پڑا۔

صدر بش کے بعد وائٹ ہاؤس میں اوباما کی آمد ہوئی تو وہ اپنے انتخابی مہم کے وعدوں کے مطابق فوج نکالنے کے لئے تیار تھے،لیکن فوجی کمانڈروں نے اس کی مخالفت کی اُن کا منصوبہ یہ تھا کہ فوج کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کیا جائے اس پر تفصیلی بحثیں ہوتی رہیں، نتیجہ یہ نکالا گیا کہ فوج بڑھانے کے بعد امریکہ کو افغانستان میں جو کامیابیاں حاصل ہوں گی،ان کے سائے میں فوجوں کی واپسی زیادہ آبرو مندانہ ہو گی،لیکن یہ فوجی منصوبہ زمین پر زیادہ کارگر ثابت نہ ہوا، جن کا خواب دیکھا گیا۔ صدر اوباما کے بعد صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے بھی افغان مسئلہ فوجی قوت سے حل کرنے کا اعلان کیا،لیکن اُنہیں بھی جلد ہی یہ ادراک ہو گیا کہ ایسا ممکن نہیں،چنانچہ انہوں نے بالآخر طالبان کی حقیقت کو تسلیم کر کے اُن سے مذاکرات کا آغاز کیا،دوحہ معاہدہ انہی کا حاصل تھا۔ حیرت ہے کہ افغان حکومت طالبان کی حقیقت تسلیم کرنے میں پس و پیش کا شکار رہی، اب اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے تو پھر اس راستے پر کشادہ ظرفی کے ساتھ چلنا چاہئے اور طالبان کے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے ہر ضروری قدم اٹھا لینا چاہئے۔ طالبان کو بھی اپنی بعض شرائط سے پیچھے ہٹنا ہو گا اسی صورت میں مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے، اگر پہلے ہی ایسی شرائط رکھ دی گئیں،جن پر عمل مشکل ہو تو مذاکرات کا امکان بھی دور ہوتا چلا جائے گا۔

جن قوتوں کو افغانستان میں امن سے زیادہ اپنے علاقائی مفاد عزیز ہیں وہ تو یہی چاہیں گی کہ افغان آپس میں لڑتے مرتے رہیں اور وہ اس کی آڑ میں اپنے مفادات کی راہ ہموار کرتے رہیں، لیکن افغان عوام کا یہ حق ہے کہ وہ عشروں کی خونریزی کے بعد امن و سکون کا سانس لیں اور افغانستان زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکے، پاکستان اس سلسلے میں صد ِق دلی سے کوششیں کرتا رہا اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا تازہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، اِس دورے سے وہی نتائج حاصل ہونے چاہئیں جن کی امید لے کر آرمی چیف نے یہ دورہ کیا۔افغان حکومت اگر اپنے مُلک میں دہشت گردوں کو کنٹرول کرتی تو پاکستان کو طویل سرحد کے ساتھ خاردار باڑ نہ لگانی پڑتی، اب بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو کوئی غیر ملکی طاقت پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرے، افغان حکومت کو نہ صرف اپنے مُلک،بلکہ خطے کے وسیع تر مفاد میں پاکستان کی ان کوششوں میں بھرپور تعاون کرنا چاہئے اور آلہ کاروں کے عزائم پر بھی نگاہ رکھنی چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -