دودھ میں ملاوٹ! موقع پر پڑتال!

دودھ میں ملاوٹ! موقع پر پڑتال!

  

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گزشتہ روز فوڈ اتھارٹی کی موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ خالص خوراک شہریوں کا حق ہے اور ملاوٹ کرنے والے اس معاشرے کے دشمن ہیں، ان کو کسی صورت معاف نہ کیا جائے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شہر میں خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے چھ موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریاں بنائی ہیں جو بیرون شہر سے فروخت کے لئے لائے اور آنے والے دودھ کی موقع پر ہی پڑتال کریں گی، اس کے ساتھ ہی 10موٹرسائیکل سوار دستے بھی تیار کئے گئے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق اب لاہور میں ملاوٹی دودھ نہیں آ سکے گا اور کسی تاخیر کے بغیر پڑتال اور کارروائی ہو گی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا یہ اقدام مناسب اور قابل ِ تعریف ہے کہ دودھ میں نہ صرف گندے پانی، سرف اور دوسرے کیمیکلز کی ملاوٹ کی جاتی ہے، بلکہ پورے کا پورا دودھ ہی کیمیکل والا بنا دیا جاتا ہے۔ یوں شہری تو شہری دودھ پینے والے بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی بہتر کام کر رہی ہے، اس کے باوجود ملاوٹی کاروبار مسلسل جاری ہے تو اس پر غور کی ضرورت ہے،جہاں تک دودھ کا تعلق ہے تو موبائل لیبارٹریوں کو متعارف کرانے سے ہی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے سے جاری انتظامات سے قابو نہیں پایا جا سکا اور یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے، لیکن قابل ِ غور بات یہ ہے کہ دودھ شہر سے باہر ہی سے نہیں آتا، یہاں شہر کے اندر بھی گوالے اور مویشی موجود ہیں،جو دودھ دھو کر بیچتے اور لوگ خالص دودھ کی خاطر زیادہ قیمت پر خریدتے ہیں، اس کے باوجود ان کو یہ خالص نہیں ملتا اور کچھ بھی نہ ہو تو دودھ دینے والی بھینس اور گائے کو ممنوعہ ٹیکہ ہی لگا دیتے ہیں، جبکہ دکانوں پر فروخت ہونے والے دودھ کے حوالے سے بھی کئی شکایات ہیں، اگر لیبارٹری ٹیسٹنگ کا یہ سلسلہ بنا ہی لیا گیا ہے تو پھر مقامی گوالوں اور دودھ کی دکانوں تک دائرہ کار بڑھانا ہو گا اور ملاوٹ ثابت ہونے پر سزا بھی بڑی دینا ہو گی۔ شائد ایسی کوششوں ہی سے یہ لوگ انسانی صحت سے کھیلنا بند کر دیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -