کیا سنتھیا واقعی صحافی ہے؟یہ کیا ہو رہا ہے

کیا سنتھیا واقعی صحافی ہے؟یہ کیا ہو رہا ہے
کیا سنتھیا واقعی صحافی ہے؟یہ کیا ہو رہا ہے

  

دورِ جدید کے جو تحائف ہمیں ملے ہیں، ان میں سب سے اہم اور بڑا تحفہ ای سسٹم ہے اور اسی کے تحت سوشل میڈیا بھی نصیب ہوا،جو اب حقیقت ہے کہ مفید ہوتے ہوئے بھی وبال جان بن گیا، اس کا غلط استعمال معاشرتی برائیوں کے ساتھ ساتھ انسان دشمنی اور دیگر مسائل کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ اس میڈیا کے حوالے سے جو نیا سلسلہ ہے،اسے بلاگر کی شکل دی گئی ہے اور بدقسمتی سے یہ ای سسٹم جو نوجوانوں کے ہاتھ آیا ہے تو اس نے انسانی توہین و تذلیل کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے، نئی پریشانی یہ ہے کہ اس سوشل میڈیا کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے حضرات نے اسے جرنلزم، یعنی صحافت قرار دے دیا ہے اور اب جو کوئی بھی اس نظام کو استعمال کرتا ہے اسے جرنلسٹ کہا جانے لگا ہے، جو بالکل درست نہیں۔ جرنلسٹ کی تعریف بالکل واضح ہے، جرنلسٹ اسے کہا جاتا ہے جس کے رزق کا انحصار ہی اس پیشے پر ہو اور وہ واقعی جرنلزم سے منسلک ہو،جو ایسے ذریعہ ابلاغ کو کہا جاتا ہے، جو ”نیوز اور ویوز“(خبر اور تجزیہ+ تبصرہ) پیش کرتا ہو،اس لئے یہ اخبار، رسائل اور اب ٹیلی ویژن ہیں، جہاں تک ٹیلی ویژن کا تعلق ہے تو اس شعبہ سے منسلک سب لوگ بھی جرنلسٹ (صحافی) کی تعریف میں نہیں آتے۔ وہ لوگ یقینا ہیں، جو عملی طور پر ”نیوز اور ویوز“ سے وابستہ ہیں یوں یہ جو بلاگر اور سوشل میڈیا پر لعن طعن گروپ بنے ہوئے ہیں ان کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہم نے اس سلسلے میں کبھی بات نہیں کی اور خود کو ان امور سے الگ تھلگ رکھتے ہوئے اپنے فرائض نبھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،لیکن اب مجبوراً یہ عرض کرنا پڑی کہ ہمارا ملک جو پہلے ہی پیچیدہ نوعیت کے گو ناگوں مسائل سے دوچار ہے، اسے اب سیاسی عمل سے بھی محروم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا،اس کے لئے براہِ راست سیدھی راہ اختیار کرنے کی بجائے بالواسط طور پر نامناسب الزامات کے ذریعے بدنام کرنے،ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور جو طریقہ سامنے آیا وہ اخلاقی نہیں ہو سکتا، آج کل ایک امریکی خاتون سنتھیارچی خبروں میں ہے، وہ خود کو بلاگر کہتی اور ہم اسے صحافی کہتے چلے جا رہے ہیں،ہم نے جو عرض کیا اس کے مطابق ہم سوشل میڈیا والی تو مان لیتے ہیں،لیکن وہ صحافی کی حقیقی تعریف پر پورا نہیں اترتیں، اس خاتون نے ہماری سیاست میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔

حیرت انگیز طور پر یہ خاتون کئی برسوں سے پاکستان میں موجود ہیں،ان کو ہمارے ملک کی اہم شخصیات اور حکام تک بھی رسائی حاصل تھی اور ہے، بلکہ اب جو خود اس خاتون نے اپنی طرف سے غیر اخلاقی الزامات کے ثبوت میں تصاویر جاری کی ہیں، ان کا تعلق بھی اپنے دور کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے ہے، انہی کے خلاف بداخلاقی کے سنگین الزام عائد کئے ہیں۔یہ تصاویر یہ تو ظاہر کرتی ہیں کہ خاتون کی ملاقات ہوئی،لیکن ان سے بداخلاقی کا ثبوت عبث ہے، اس کے علاوہ ان محترمہ کو یہ بھی جواب دینا ہو گا کہ 2011ء کے واقعات اب کیوں یاد آئے ہیں؟ اور اگر تصاویر ہی ثبوت ہیں تو اس ویڈیو کا کیا جواز ہے،جس میں یہ عورت محترم کلیم امام اور دیگر افسروں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف اور ایک افسر کے ساتھ سٹیمر پر جھیل کی سیر کر رہی ہیں۔

اس ملک میں یہ کوئی پہلا حادثہ یا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی دو تین صحافی خواتین(غیر ملکی) آئیں اور وہ کتابیں بھی لکھ چکی ہیں تاہم یہ خواتین باقاعدہ جرنلسٹ تھیں اور ہیں،ان میں ایک خاتون ”کِم بارکر“ بھی تھیں،جنہوں نے طالبان کا ذکر بھی کیا اور ہمارے محترم محمد نواز شریف کے ساتھ ساتھ حامد ناصر چٹھہ کو بھی شامل کیا۔ تاہم یہ ایک حد تک رہیں اور ہمارے یہاں کے حالات کے حوالے سے اپنی رائے دی، تاہم اس ”بلاگر خاتون“ نے تو بہت بڑے الزامات عائد کئے،جو الزام اس کی طرف سے محترمہ بے نظیر بھٹو پر لگایا۔ اس سے تو ہمیں بھی بہت دُکھ ہوا، کہ ہم اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں محترمہ کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، ان کے ساتھ صحافتی فرائض کے حوالے سے بہت ڈیوٹی کی تو یہ اعزاز بھی ملا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ آف دی ریکارڈ طویل طویل گفتگو کی اور اس میں ذاتی مسائل تک کا بھی ذکر کیا، بلکہ سابق صدر آصف علی زرداری اور اپنے تینوں بچوں کے حوالے سے ہمارے استفسارات کے جواب بھی دیئے،اِس لئے ہم ذاتی طور پر اس بات کا یقین نہیں کرتے کہ محترمہ جو اپنے بھائی پر حملے کی خبر سن کر دیوانہ وار بھاگتی ہسپتال پہنچیں وہ اتنی ظالم ہو سکتی ہیں، ہمارا واسطہ اور تعلق ان کی پرسنل سیکرٹری ناہید خان عباسی سے بھی رہا اور آج بھی اچھی سلام و دعا ہے،ان سے کئی بار نجی گفتگو بھی ہو جاتی تھی، ان سے پوھ لیں کہ محترمہ کس شخصیت کی حامل خاتون تھیں اور یہ جو کہا گیا ان پر بہتان ہے۔

یہ امر اور بھی تکلیف دہ ہے کہ کروڑوں افراد کی رہنما اور دو بار اس ملک کی وزیراعظم رہنے والی ہستی جن کو دُنیا میں پہلی بار اسلامی مملکت کی سربراہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ان کے خلاف غیر انسانی رویے کا الزام لگایا جائے۔ مزید عجیب بات یہ ہے کہ محترمہ کی جماعت کے کارکن نے اندراج مقدمہ کی درخواست دی، جو ناقابل ِ قبول جانی گئی۔ یہی نہیں یہ اور بھی دُکھ دینے والا عمل ہے کہ سیشن عدالت میں ایف آئی اے اور پولیس کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست دہند ہ غیر متعلق ہے، اب یہ فیصلہ تو بہرحال عدالت ہی کو کرنا ہے کہ یہ عذر قابل ِ قبول ہے کہ نہیں، لیکن شہید خاتون، چیئرپرسن پیپلزپارٹی اور پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی خاتون کی توہین پر یہ موقف قابل ِ افسوس ہی قرار دیا جائے گا،باقی رہا عبدالرحمن، ملک اور سنتھیارچی کا معاملہ تو وہ جانیں اور وہ جانے،اس کا فیصلہ بھی اب عدالتوں ہی میں ہو گا،اِس لئے ہم مزید بات نہیں کرتے۔

البتہ ان دوستوں سے یہ ضرور پوچھیں گے جو اس خاتون کے طویل طویل بیانات اور الزامات پر مشتمل انٹرویو کرتے چلے جا رہے ہیں،ان کو کیا نظر آیا ہے؟ہمیں اس سے بھی زیادہ تشویش اس خاتون کے اس بیان سے ہے ”مَیں پی ٹی ایم اور پیپلزپارٹی کے تعلق کے حوالے سے تحقیق کر رہی ہوں، اللہ معاف کرے۔یہ تو ہمارے ملکی اہم تر اور قابل و اہل اداروں پر بھی الزام اور ان کی توہین ہے۔

مزید :

رائے -کالم -