برطانیہ میں بھی نسلی فسادات کا خدشہ

برطانیہ میں بھی نسلی فسادات کا خدشہ
برطانیہ میں بھی نسلی فسادات کا خدشہ

  

چند روز قبل امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلا ئیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے بعد سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں یہاں تک کہ امریکہ بھر میں فوج نافذ کرنی پڑی مگر سیاہ فام افراد کا غم و غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اور اب حالات یہ ہیں کہ یہ پرْ تشدد واقعات لندن تک پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے لندن میں پہ در پہ مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے حالیہ مظاہروں میں درجنوں پولیس اہل کار زخمی ہو چکے ہیں جو کہ کافی تشویشنا ک ہے۔ اگر یہ مظاہرے لندن میں بھی شدت اختیار کر گئے تو برطانیہ کو بھی دو طرفہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک تو کورونا کی وباء اور لاک ڈاؤن تو دوسری طرف نسلی فسادات کی وباء اور انار کی۔ سب سے زیادہ پریشان کْن بات یہ ہے کہ ان سیاہ فام عوامی مظاہروں کے دوران کورونا وائرس سے بچنے کے سارے قواعد و ضوابط کو بری طرح پامال کیا گیا۔ جو کہ برطانیہ کے لیے کورونا وائرس کی ایک نئی لہر لیکر آسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو خدا نخواستہ اموات کی تعداد کا ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچنے کا خطرناک حد تک امکان ہے۔ برطانیہ میں کورونا نے اس قدر تباہی مچائی ہے کہ ابھی تک اس کے اثرات لاک ڈاؤن اور معیشت پر سر چڑھ کر بول رہے ہیں اوپر سے اب یہ نیا مسلۂ درپیش ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشی، معاشرتی اور سیاسی مسا ئل نے پہلی بار امریکہ اور برطانیہ کے دروازے پر اکٹھے دستک دی ہے۔ جو یہاں کی حکومتوں کیلیے بہت بڑا چیلنج ہے۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت نے کورونا وائرس کی جان لیوا وبا کے دوران اس طرح کے احتجاج کی اجازت کیوں دی اور اگر دی بھی ہے تو اس میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر کیوں نہیں رکھا گیا یہ جانتے ہوئے کہ اس کے برطانیہ پر بہت برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اگر اس کا مقصد سیاہ فام کمیونٹی کے دل سے جارج فلا ئیڈ کے قتل کے غم و غصے کو کسی درست راستے پر ڈالنا مقصود تھا تو شاید اس کو کسی اور بہتر انداز سے بھی آرگنائز کیا جا سکتا تھا کہ جس سے کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کا خدشہ کم سے کم ہوتا۔ بہر کیف اس کے علاوہ اس امر کی بھی تردید نہیں کی جا سکتی کہ اب ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ ہی جینا ہو گا تب تک کہ جب تک اس کا کوئی موثر علاج دریافت نہیں ہو جاتا۔ ابھی تک جو حل موجود ہے وہ صرف احتیاط ہے اور بس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارا خدا ہم سے روٹھ چکا ہے اور اْس کی بخشش طلب کیے بغیر ہم کسی بھی وبا ء کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

اب ذرا ایک نظر برطانیہ میں نسلی فسادات کی طرف بھی ڈالتے ہیں ان پرْ تشدد مظاہروں کی بھی ایک تاریخ ہے مگر چند واقعات قابل ذکر ہیں۔ جن میں 1189 کے نسلی فسادات شامل ہیں کہ جب رچرڈ اوّل برطانیہ کا بادشاہ بنا اور اس نے چند یہودی درباریوں کو کسی وجہ سے عہدوں سے برطرف کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے افوا پھیلا دی کہ بادشاہ نے یہودیوں کے قتل عام کا حکم دیا ہے بس اتنا سننا تھا کہ لوگوں نے برطانیہ میں پہلے نسلی فساد ات کی داغ بیل ڈال دی لندن میں لوگوں نے یہودیوں کے گھروں کو تباہ برباد کرنا شروع کر دیا اور اس قدر تباہی پھیلی کہ یہودیوں کو اپنا مذہب تک تبدیل کرنا پڑا بہرحال اس کے بعد کنگ رچرڈ اوّل نے جو کہ کنگ ہنری دوئم کے تیسرے صاحب زادے تھے اس صورت حال کا علم ہونے پر اس قتل عام کو روکا اور یہودیوں کو امان بخشی۔ اس کے بعد 1768 میں نسلی فسادات تب شروع ہوئے جب جان ویکس جو برطا نوی پارلیمنٹ کا ممبر تھا نے غلامی پر ایک کالم لکھا جو اس کے اپنے اخبار دی نارتھ برٹن میں شائع ہوا اس کے نسل پرستانہ اور زہر آلودہ قلم کے باعث اس کے خلاف بے شمار مظاہرے کیے گئے جس کے بعد حکومت کے چند افراد نے آرمی کو حکم دے کر سینٹ جارج فیلڈ میں مظاہرین پر اوپن فائر کھول دیا جس میں بے شمار مظاہرین موت کے گھاٹ اْتر گئے۔

اس کی بعد 1957 میں نوٹنگ ہل کے نسلی فسادات بھی قابل ذکر ہیں جو برطانیہ کی تاریخ میں پہلے سیاہ فام اور سفید فام کمیونٹی کے درمیان پیش آئے یہ پہلا واقعہ تھا کہ جب باقاعدہ سیاہ فام کو نسلی تعصب کا نشانہ بنایا گیا اور اس کا آغاز تب ہوا کہ جب سفید ڈیفنس لیگ نے سیاہ فام خاندانوں کو اغوا کر لیا اس وقت 500 سے زائد افراد ہر روز سڑکوں پر نکلتے توڑ پھوڑ کرتے اور سفید فام افرا د پر حملے کرتے تھے اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے یہ سلسلہ پورے ملک میں پھیل گیا۔ پھر 977 1میں بیٹل آف لیوشم جس میں 4000 سے بھی زائد افراد نسلی تعصب کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ 1981 میں سیاہ فام کے بر کسٹن میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے کہ جس کو بلڈی ہفتے کا نام بھی دیا گیا کہ جس میں ہزاروں افراد زخمی اور موت کا شکار ہوئے۔اس کے بعد لندن میں یہ سلسلہ دوبارہ 2011 اور اب 2020 میں پھر سے شروع ہو گیاہے۔مگر اس سب کے باوجود موجودہ دور میں شاید برطانیہ میں نسل پرستی امریکہ اور باقی یورپ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہاں انسانیت کی وہ قدریں ابھی بھی باقی ہیں کہ جن کا درس ہمیں اسلام دیتا ہے۔ عدالتوں میں اور اداروں میں انصاف ہے اور نسل پرستی کا رجحان بھی نسبتاً کم ہے۔ مگر اس کو مکمل طور پر ختم کرنا شاید نا ممکن ہے۔

ابھی حال ہی میں برٹش پولیس نے سیاہ فام مظاہرین کے سامنے ابھی سے سر جھکا دیا اور ان کی نسل کو عزت سے دیکھنے اور ان کو مساوی حقوق دینے کے وعدے کی تجدید بھی کی جو کہ برطانیہ کے جمہوری روئیے کا ایک خوبصورت انداز تھا۔ مجھے اس میں تجربہ کار جمہوریت کی ایک جھلک محسوس ہوئی۔ اگر برطانوی حکومت بھی مظاہرین کو امریکہ کی طرح ڈیل کرتی تو آج برطانیہ کے حالات امریکہ سے دو گناابتر ہوتے۔ مگر حکومت نے اس کا بھر پور احساس کرتے ہوئیاور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بہترین فیصلے کیے مگر میری تنقید اپنی جگہ موجود ہے کہ جارج کے قتل پر ہونے والے مظاہروں کو بہتر طریقہ پر آرگنائز کیا جا سکتا تھا اور ان معاملات کو شاید کسی اور طریقے سے بھی حل کیا جا سکتا تھا کہ جیسے جیسنڈا نے برطانیہ میں مسجد پر حملے کے بعد نیوزی لینڈ میں نسلی تعصب کو بہت عمدہ طریقے سے حل کیا جو تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں حال ہی میں پولیس ر ی فارمز کا بل پاس کیا گیا ہے تاکہ اس طرح کے نسلی فسادات کے سامنے بند باندھا جا سکے جو کہ برطانوی اسمبلی کا ایک اچھا اقدام ہے۔

امریکہ کو اس سب سے سبق سیکھنا چاہیے کہ جس طرح برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے نسلی تعصب کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اْٹھائے۔ ٹرمپ حکومت کو امریکہ کو پولیس سٹیٹ نہیں بنانا چاہئیے یہ نہ ہو کہ اٹلی میں غلامی کے خلا ف اْٹھنے والے گلیڈ ئیڑز کہ جن کا آغاز یونان میں سپا ٹرز کی زمین پر ہوا تھا امریکہ میں بھی غلامی سے اٹی قوم ان کے نقش قدم پر نہ چل نکلے۔اب بھی وقت ہے حالات کو معمول پر لایا جا سکتا ہے بس ضد کے پیکر سے باہر نکل کر دوسروں کے جوتے میں اپنا پاؤں ڈال کر دیکھنے اور مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹا سا اچھا قدم دنیا بھر کے انسانوں کو جوڑ بھی سکتا ہے اور ایک غلط قدم ان کو سول وار کی طرف لے جا سکتا ہے

مزید :

رائے -کالم -