کرونے سے ذرا ہٹ کے!

کرونے سے ذرا ہٹ کے!
کرونے سے ذرا ہٹ کے!

  

مجھے معلوم ہے کہ آپ بھی کرونا سے بہت پریشان ہیں اور بار بار صابن سے ہاتھ دھو دھو کر تنگ آ چکے ہیں اور اب کچھ نیا سننا اور پڑھنا اور جاننا چاہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کالم کا عنوان دیکھ کر آپ کو بھی یہی گمان گزرا ہوگا کہ یہاں آپ کو کرونا کے علاوہ کچھ پڑھنے کا شرف حاصل ہوگا، مگر معذرت کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہے یہ ایک ”سبز باغ“ ہے جو آپ کو عنوان کی صورت میں دکھایا گیا ایسے ہی کچھ سبزباغ آپ کو پاکستان میں اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جیسا کہ الیکشن سے پہلے نیا پاکستان بنانے اور الیکشن کے بعد شوگر مافیا کو ان کے انجام تک پہنچانے والے ”سبز باغ“ مگر ہم معصوم لوگ شاید کبھی سمجھ ہی نہ پائے، کیونکہ اس کے پیچھے ایک سائنس ہے (وزیر سائنس نہیں صرف سائنس) جی ہاں،سائنس، وہی سائنس جو اس فقرے کے پیچھے ہے ”لاہور لاہور ئے“ یا پھر شاید ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں اگر آپ نے کبھی بازار سے خود سبزی خریدی ہے تو آپ میری باتوں کو کافی حد تک سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان شاید وہ واحد ملک ہے، جہاں پر لائے گئے سبزی کے شاپر سے سبزی کم اور سبزا زیادہ نکلتا ہے۔ تقریباً ہر پاکستانی ہی کسی نہ کسی انداز میں سبز باغ دکھانے کا یہ قومی فریضہ بخوبی سرانجام دینے کا ماہر ہے اب تو یہ عادت ہمارے جینز کا حصہ بن چکی ہے،

مگر ”آپ نے گھبرانا نہیں“ مجھے یقین ہے اس کا علاج بھی جلد کوئی گورا دریافت کر ہی لے گا۔ پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک جنگل میں ایک سانپ اور مینڈک رہتے تھے مینڈک جتنا ذہین، دور اندیش اور چست تھا سانپ اتنا ہی سست اور لاغر ایک دن سانپ ہری بھری گھاس میں نیند کے مزے لوٹ رہا تھا کہ شیروں کا ایک جھنڈ وہاں سے گزرا اور ایک بوڑھے شیر کا پیر غلطی سے سانپ پر آگیا سانپ بوکھلا گیا اور لاشعوری طور پر اس نے شیر کی ٹانگ پر ڈس لیا جنگل کے دیگر شیروں کی نظروں کے سامنے ہی جنگل کا بادشاہ سسکتا، بلکتا موت کے منہ میں چلا گیا، مگر کوئی اس کے لئے کچھ نہ کر پایا۔ یہ خبر آگ کی طرح پورے جنگل میں پھیل گئی کہ جنگل کا بادشاہ سانپ کے زہر سے مر گیا۔ یہ خبر پھیلنے کی دیر تھی کہ جنگل کے جانوروں پر سانپ کا رعب و دبدبہ قائم ہو گیا۔ ہر جانب موضوع گفتگو سانپ تھا۔سانپ ایک ایسا کام کر بیٹھا تھا کہ آج سے پہلے جس کا کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔

اس واقع کے بعد سانپ کا دبدبہ جنگل کے شیروں پر بھی قائم ہو چکا تھا. اور اب سانپ بھی آپے سے باہر ہوتا چلاگیا اس کی گنڈہ گردی اور من مانیوں نے جنگل کا نظام درہم برہم کردیا اب صورت حال کچھ یوں تھی کہ اس کا پر اعتماد دوست یعنی کہ مینڈک بھی اس کے اس رویے سے تنگ آ گیا اس نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی، مگر سانپ کے رویئے میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا بالآخر اس کے بار بار سمجھانے پر سانپ نے اسے بھی اپنے جبر کا نشانہ بناتے ہوئے جنگل کے اندھیرے غار میں سزا کے طور پر قید کروادیا،،، مینڈک کو قید کی اذیتیں جھیلتے ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا. اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جنگل میں قحط برپا ہونے لگا تھا، لہٰذا سانپ بھی اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتا تھا اور اس بارے میں خاصا فکر مند بھی تھا اس کی فکر بجا بھی تھی اور اسی فکر کے عالم میں اسے ایک دن مینڈک کی طرف سے ایک خط ملا خط میں لکھا تھا کہ ”عنقریب تمہارا ایک اہم راز فاش ہونے کو ہے اور دس روز بعد تمہاری بادشاہت کا تختہ الٹ جائے گا“ مینڈک کیونکہ اس کا ایک پرانا دوست رہ چکا تھا اور اس بات کا غالب امکان تھا

کہ وہ کوئی ایسا راز جانتا ہے جو سانپ کی بادشاہت کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہو۔ سانپ پریشانی کے دلدل میں مزید دھنسنے لگا تھا ایک طرف قحط سالی کا خطرہ تو دوسری جانب بادشاہی سے ہاتھ دھو جانے کا ڈر، سانپ اپنی بادشاہت پر کوئی بھی خطرہ مول نہ لینا چاہتا تھا بہت سوچ بچار کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر وہ کسی طریقہ سے وہ راز مینڈک سے جان لے تو شاید وہ اپنی بادشاہت بچا سکتا ہے سانپ نے پہلے تو مینڈک سے زبردستی وہ راز اگلوانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا یہ راز اس کے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا اور وہ اس کو حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا،لہٰذا اس نے دوسرا طریقہ آزماتے ہوئے مینڈک کو آزاد کیا اپنی پرانی دوستی کے ترلے ڈالے اور ایسی ہی بہت سی منتیں اور سماجتیں کیں اور خوب جتن کرنے کے بعد مینڈک کو منا ہی لیا، مگر مینڈک نے راز سانپ کو دینے کے لئے (مقابلے کی ایک) شرط رکھی کہ ان دونوں کو ایک شیر پر جان لیوا حملہ کرنا ہو گا اور اگر سانپ شیر کو مینڈک سے کم وقت میں جان سے مارنے میں کامیاب ہو گیا تو مینڈک اسے وہ راز بتا دے گا اور ہارنے والے کو غار میں عمر بھر کے لئے قید کر دیا جائے گا سانپ کے چہرے پر ایک طنزیہ سی مسکراہٹ آئی، یہ اس کے لئے چٹکیوں کا کھیل تھا، لہٰذا اس نے بلاجھجک یہ شرط قبول کر لی۔

اگلی صبح مقابلہ ہونا تھا رات کو سانپ نے سکون اور اطمینان کی نیند پوری کی۔ اگلے روز وہ دونوں جنگل کی ندی کی طرف گئے اور ہمیشہ کی طرح وہاں پر کچھ شیر ایک بڑے چٹانی پتھر کے سائے میں لیٹے آرام کر رہے تھے، پہلے سانپ کے حملے کی باری تھی مینڈک نے سانپ کو بتایا کہ وہ شیر کو ڈستے ساتھ چٹان کے پیچھے چھپ جائے، سانپ خاموشی سے رینگتا ہوا ایک شیر کے پاس پہنچا اس کی ٹانگ پر ڈسا اور مینڈک کے کہے کے مطابق چٹانی پتھر کے پیچھے جا چھپا البتہ مینڈک شیر کے پاس ہی موجود تھا، شیر نے اپنے پاؤں میں شدید چبھن محسوس کی وہ اُٹھ کھڑا ہوا اس کی نظر مینڈک اور پیر کے ارد گرد موجود کچھ نوکیلے پتھروں پر پڑی وہ پتھروں کے سا تھ چٹان کے سائے سے نکلا اور ندی کے ٹھنڈے پانی میں جا لیٹا ان دونوں کی نظر کافی دیر تک اس شیر پر جمی رہی، مگر شیر کی طبیعت میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا وہ اسی طرح تندرست و توانا تھا، یہ سب دیکھنے کے بعد ایک طرف تو سانپ کے دِل میں کچھ مایوسی پیدا ہوئی، مگر دوسری جانب اسے یہ بھی یقین تھا کہ یہ مینڈک کسی شیر کا بھلا کیا بگاڑ لے گا،اب مینڈک کی باری تھی وہ دونوں اگلے شیر کے کچھ قریب پہنچے جو کہ پچھلے شیر ہی کی طرح لیٹا آرام کر رہا تھا مینڈک شیر کے قریب گیا اور اپنے پنجے کے دو باریک ناخن اس شیر کی کھال میں گاڑ دیے سانپ بھی قریب ہی کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا مینڈک نے اپنے ناخن اس کی کھال سے واپس کھینچ نکالے اس جگہ سے ہلکا ہلکا خون بھی رسنے لگا تھا,مینڈک ساتھ ہی پڑے ایک چھوٹے سے پتھر کے نیچے جا چھپا اس معمولی چبھن سے شیر کی بمشکل آدھی آنکھ ہی کھل پائی اس نے اپنی ٹانگ کی طرف سرسری سی نظر ڈالی اب تک وہ آدھا نیند میں تھا۔ اس کے بعد اس کی نظر پاس موجود (ز ہریلے) سانپ پر پڑی، سانپ پر نظر پڑنے کی دیر تھی کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھا اس کا رنگ نیلا پیلا ہوگیا اور وہ وہیں گر کر مر گیا۔

یہ سب سانپ کی نظروں کے سامنے ہوا سانپ ہکا بکا مینڈک کی طرف دیکھنے لگا! گویا کہ وہ یہ پوچھ رہا ہو کہ یہ ہو کیا رہا ہے، مگر یہ وہی تلخ راز یا شاید حقیقت تھی جو وہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا، جس کی خاطر اس نے یہ سب کچھ کیا تھا، جنگل پر سانپ کی بادشاہت درحقیقت اس وجہ سے قائم نہ تھی کہ اس نے ایک شیر کو مارا تھا بلکہ اس کی بادشاہت اور دہشت کی وجہ صرف اور صرف وہ خوف تھا جو کہ جنگل کے تمام جانوروں کے ذہنوں پر ایک ننگی تلوار کی طرح ہر وقت منڈلاتا رہتا تھا۔ یہ سب اسی خوف کا کمال تھا کہ جنگل کے شیر بھی سانپ کے نام سے کانپتے تھے۔ مینڈک سانپ کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ جس دن جنگل سے اس کے خوف کی لہر اٹھ گئی اس دن سانپ اور اس کی بادشاہت دونوں کو اپنے دردناک انجام تک پہنچائیں گے۔آج کل ہمارے ہاں کرونا کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے ایک طرف تو یہ وائرس جہاں روزانہ ہزاروں لوگوں کی جان لے رہا ہے تو وہیں دوسری جانب دنیا میں کروڑوں لوگ روزانہ زندہ لاشیں بنتے چلے جا رہے ہیں۔

یہ سب بھی اس وائرس کے خوف ہی کا نتیجہ ہے، جو کسی نہ کسی طریقے سے ہمارے ذہنوں پر سوار ہوتا بڑھتا چلا جارہا ہے،کروڑوں لوگ روزانہ اس وائرس کے خوف سے ڈپریشن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں،جو کہ تمام خطرناک بیماریوں کی جڑ ہے اور کرونا سے بھی زیادہ خطرناک صورت حال پیدا کر سکتا ہے اور شاید جس سے یہ تمام لوگ کبھی نکل ہی نہ پائیں گے اور جیتے جی ایک زندہ لاش بن جائیں گے، مگر ایک ایسا حل بھی موجود ہے جو آپ کو نہ صرف کرونا بلکہ دیگر سینکڑوں امراض سے ہزاروں میل دور رکھ سکتا ہے اور وہ صرف اور صرف یہی ہے کہ کرونا سے منسلک تمام منفی خبروں خیالات سے بچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے،اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو پُرامید رکھا جائے کی یہ وقت جلد گزر جائے گا، کیونکہ اس وقت اچھی امیدوں پر نہ صرف دنیا، بلکہ آپ کا امیون سسٹم بھی قائم ہے جس کے بل بوتے پر آپ زندہ ہیں۔ اپنے آپ کو، اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ایک مثبت انسان بنائیے اور مثبت سوچ اور پیغام کو پھیلائیے، کیونکہ اس وقت وینٹی لیٹر سے زیادہ اس رویے اور سوچ کی ضرورت ہے جو کہ آپ کو ان تمام چیزوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتی ہے اور آپ کو ایک پراعتماد اور مظبوط انسان بناتی ہے، مگر مجھے خوشی ہے کہ یہاں قاسم علی شاہ، عبداللہ ثمین،شہریار اعظم اور حماد صافی جیسے لوگ بھی موجود ہیں، جو اس مردہ اور پریشانیوں کے کھائے معاشرے میں زندگی کی ایک نئی لہر پیدا کرنے کے لئے ہمہ وقت مصروف ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان شاء اللہ جلد یہ معاشرہ امید، یقین اور احساس کی تلوار فخر سے سر بلند کئے کرونا کی یہ کٹھن جنگ بھی جلد جیت جائے گا، لہٰذا احتیاط کیجئے اور اپنے ہاتھ بھی ضرور دھوئیے،مگر اتنے بھی نہیں کہ آپ اپنے ہاتھوں ہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

مزید :

رائے -کالم -