عوامی استحصال، ذمہ دار مافیا نہیں حکومت!

عوامی استحصال، ذمہ دار مافیا نہیں حکومت!
عوامی استحصال، ذمہ دار مافیا نہیں حکومت!

  

اُستاد گرامی جناب مجیب الرحمن شامی جب کسی شاگرد کو بھٹکتا دیکھتے ہیں تو رہنمائی کے لئے اپنا دامن پھیلا دیتے ہیں۔ سمجھاتے نہیں، بلکہ سوال اٹھاتے ہیں اور جواب پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، رائے تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے، یوں بہت سی گرہیں خودبخود کھل جاتی ہیں کل صبح سویرے اُن کا فون آیا تو میں سمجھ گیا کہ آج وہ کالم کے بارے میں کچھ کہیں گے، کیونکہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جب بھی ان کا صبح کے وقت فون آیا یا تو انہوں نے کالم کے کسی جملے کی داد دی یا پھر اس کے مندرجات پر سوالات اٹھائے۔ ایک بار میں نے مخدوم جاوید ہاشمی پر کٹی پتنگ کے عنوان سے کالم لکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مخدوم جاوید ہاشمی اچانک تحریک انصاف کی صدارت چھوڑ کر علیحدہ ہو گئے تھے اور اپنی اسمبلی رکنیت سے بھی استعفا دے دیا تھا۔ اس دن شامی صاحب کا صبح سویرے فون آیا تو کہنے لگے کالم خوب ہے البتہ جملہ مکمل یوں ہونا چاہئے تھا کہ جاوید ہاشمی ایک کٹی پتنگ جسے اب کوئی لوٹنے کو بھی تیار نہیں یہ جملہ انہوں نے ازراہ تفنن کہا تھا لیکن اس وقت کے تناظر میں اس جملے کی اہمیت اس لئے تھی کہ تحریک انصاف سے نکلنے کے بعد ایک عرصے تک مسلم لیگ (ن) نے جاوید ہاشمی کو قبول نہیں کیا تھا۔ خیر اس واقعہ کا ذکر تو برسبیل تذکرہ آگیا۔ شامی صاحب نے میرے کالم ”پاکستان، مافیا کی جنت“ پر یہ سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان میں سب کچھ مافیا کی وجہ سے ہو رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو حکومت اور اس کی مشینری کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے۔ اس سوال پر میں نے کوشش کی کہ ادھر اُدھر کی مثالوں سے یہ ثابت کروں کہ واقعی ملک مافیا کے نرغے میں ہے میں نے کہا کورونا کی ا ٓڑ میں ادویات کئی سو گنا مہنگی کر دی گئیں، چینی کا ریٹ ڈبل ہو گیا۔ پٹرول سستا ہوا تو مافیا نے غائب کر دیا۔ ساری باتیں سننے کے بعد انہوں نے کہا یہ ہمارے صحافیوں، کالم نگاروں، دانشوروں اور مبصرین کا بڑا پرانا کلیہ ہے کہ ہر خرابی کو مافیا کے کاندھوں پر ڈال کر حکمرانوں کو بچالو، یہ مافیاز آخر بنتے کیسے ہیں کوئی حکمران اگر نہ چاہے تو مافیا کیسے کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں چینی کی قیمت بڑھی؟ اس وقت بھی مالکان یہی تھے اور انہوں نے کارٹل بھی بنا رکھے تھے۔

پھر انہوں نے ایک اہم بات کی، ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک میں مافیاز اس وقت پنپتے ہیں جب حکومت اور اس کی مشینری یا تو کرپٹ ہوتی ہے یا پھر کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ موجودہ حکومت کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس حکمرانی کی اہلیت ہی نہیں بر وقت فیصلوں کی خوبی سے عاری ہے۔ انہوں نے پٹرول بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں متعلقہ وزارت کی مجرمانہ غفلت صاف نظر آتی ہے۔ آخر کس وجہ سے پٹرول درآمد کرنے پر پابندی لگائی گئی۔ اس کے پیچھے کیا مقاصد اور کیا عوامل کار فرما تھے۔ یہ کس کا کام تھا کہ آنے والے دنوں کی ضروریات کے مطابق پٹرول کا ذخیرہ کرنے کو یقینی بنائے۔ جناب مجیب الرحمن شامی مجھے میرے ہر سوال پر لا جواب کئے جا رہے تھے۔ بالآخر میں ان کے اس استدلال کو ماننے پر مجبور ہو گیا کہ ملک میں ہر خرابی کی ذمہ داری مافیا پر ڈال کر حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا مافیاز ہر ملک اور ہر معاشرے میں کام کرتے ہیں، حکومتوں کا کام ان کے اشاروں پر چلنا نہیں بلکہ ان کی سازشوں سے عوام کو بچانا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت ملکی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے، جس کی عدم فعالیت، نا اہلی و نا تجربہ کاری کی وجہ سے ملک میں ہر طرف مافیاز کھل کھیل رہے ہیں۔

شامی صاحب کا فون بند ہوا تو میری نظروں سے وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کا یہ بیان گزرا کہ ہر وزارت کے نیچے مافیاز کام کر رہے ہیں جو اپنے من پسند فیصلے کرا لیتے ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو مجیب الرحمن شامی صاحب نے سجھائی، یہ حقیقت تو کئی واقعات کی وجہ سے کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مافیاز کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ کابینہ کے اندر بھی پہنچ جاتے ہیں کبھی یہ مافیا کسی وزیر کی شکل میں مفادات کا تحفظ یقینی بناتا ہے اور کبھی کوئی مشیر اجلاس کے دوران ایسی بات کہہ دیتا ہے کہ کسی اچھے بھلے فیصلے کو روکنے کی نوبت آ جاتی ہے۔ پٹرول دس دن سے غائب ہے اور لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے لیکن خبر یہ جاری کی جاتی ہے کہ کابینہ اجلاس میں ایک وزیر نے وزیر اعظم عمران خان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی تو انہوں نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ساتھ ہی یہ تڑکا بھی لگایا گیا کہ وزیر توانائی عمر ایوب کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ذکر مشیر پٹرولیم ندیم بابر کا بھی آیا کہ ان سے جواب طلب کیا گیا۔ حالانکہ یہی موصوف تو ہیں جنہوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر یہ تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے وسط مارچ سے 24 اپریل تک پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے پر پابندی لگائی تھی۔ کیا ان باتوں سے ظاہر نہیں ہوتا کہ حکومت ”مخولیہ“ انداز میں چلائی جا رہی ہے اور وزیر اعظم کو بعض باتوں کا علم اس وقت ہوتا ہے، جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال تو حکومت میں چھپے مافیاز کے لئے آئیڈیل ہے۔ وہ جب اور جیسے چاہتے ہیں، فیصلے کرا لیتے ہیں اب یہ بات بھی تو اسی مافیائی ہاتھ کو ظاہر کرتی ہے کہ ای سی سی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی مگر اس پر سبسڈی دینے سے انکار کیا لیکن اس کے انکار پر سبسڈی مافیا چپ کر کے بیٹھ نہیں رہا بلکہ پنجاب حکومت سے 4 ارب روپے کی سبڈی لے کر اپنا بالا دست ہونا ثابت کر گیا۔ یہ کیسے ہوا، کیوں ہوا، کس نے کیا؟ اس کا جواب تو سامنے آنا چاہئے یہ کہہ دینے سے تو بات نہیں بنتی کہ پچھلی حکومتیں بھی سبسڈی دیتی رہیں اس لئے موجودہ پنجاب حکومت نے بھی دی۔

وزیر اعظم عمران خان تو جب انتخابی مہم چلا رہے تھے، ان کا بار بار فوکس یہی نکتہ ہوتا تھا کہ حکومت کے اندر با اثر مافیاز موجود ہیں، جو عوام دشمن فیصلے کراتے ہیں، ہم ان سب کے خلاف کارروائی کریں گے اور کسی صورت عوام کے مفاد پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ لیکن یہاں تو لگتا ہے مافیاز اب بھنگڑے ڈال رہے ہیں الزام یہ دیا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار نے ڈالر کو مصنوعی طور پر نیچے رکھا، اگر نیچے رکھا تو اس کا فائدہ عام آدمی کو پہنچا، لیکن اب جب ڈالر 162 روپے کا ہے تو اسے کس مافیا نے یہاں تک پہنچایا ہے۔ کس نے راتوں رات اربوں ڈالرز کمائے ہیں اب چینی سے روزانہ کروڑوں روپے زائد کون کما رہا ہے۔ کون سے ایسے ہاتھ ہیں جو حکومت کو چینی مافیا کے خلاف قدم نہیں اٹھانے دے رہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ اب وزیر اعظم جب یہ بیان دیتے ہیں کہ عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیں گے تو عوام کو یوں لگتا ہے کہ اب کوئی نئی اُفتاد ان پر ٹوٹنے والی ہے بات سیدھی سادی ہے، جس کی طرف جناب مجیب الرحمن شامی نے اشارہ کیا ہے، مافیاز کا کام تو ہے ہی لوٹ مار انہیں کیا الزام دیا جائے۔ اصل کام تو حکومت کا ہے کہ وہ عوام اور مافیا کے درمیان ایک مضبوط دیوار بن جائے۔ مگر بدقسمتی سے فی الوقت تو ایسا لگتا ہے حکومت مافیا کے لئے ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -