آرمی چیف کا دورۂ کابل:چند قیاس آرائیاں

آرمی چیف کا دورۂ کابل:چند قیاس آرائیاں
آرمی چیف کا دورۂ کابل:چند قیاس آرائیاں

  

منگل (9جون 2020ء) کے روز پاکستان کے آرمی چیف نے کابل کا دورہ کیا،ISI کے سربراہ اور خصوصی سفیر برائے افغانستان جن کی تقرری حال ہی میں عمل میں لائی گئی ہے۔ان کے ہمراہ تھے۔ ان کی ملاقاتیں افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ہوئیں کہ جو پہلے ملک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کہلاتے تھے لیکن آج کل انتظامی تنظیمِ نو کے نتیجے میں ”چیئرمین ہائی کونسل برائے مصالحتِ افغانستان“ کے عہدے پر فائز کئے گئے ہیں۔ کسی بھی اور ملک میں اس عہدے کا مماثل کوئی اور سیاسی جمہوری عہدہ نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان جن حالات سے گزر رہا ہے،اس کے مماثل بھی دنیا کے کسی اور ملک کے حالات نہیں۔

یہ دورہ اچانک کیا گیا اور پہلے سے اس کا کوئی شیڈول طے نہیں تھا۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک عرصے سے افغانستان اور پاکستان میں یہ دو طرفہ دورے اسی طرح ”اچانک“ کئے جاتے ہیں۔ اگر حالات ہی اچانک ہوں تو غیر اچانک معمولات ختم ہو جاتے ہیں۔ اس دورے کی جو تفصیلات میڈیا پر دی گئی ہیں وہ تو وہی ہیں جو آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔ کابل اور اسلام آباد میں دونوں ملکوں کی وزارت ہائے اطلاعات و دفاع جو کچھ میڈیا کو بتاتی ہیں اس پر ”ایمان“ لانا پڑتا ہے۔میڈیا کا کوئی نمائندہ اس دورے میں آرمی چیف کی ٹیم میں شامل نہیں تھا اور یہ نیک شگون ہے کہ نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو شکوک و شبہات اور اَن کہی داستانوں کا ایک دفتر کھل جاتا۔ اور یہ حالات جو اس وقت جا رہے ہیں ان میں غیر ممالک کے امیر و سفیر و وزیر کم کم ہی آتے جاتے دیکھے جاتے ہیں۔ بشکریہ کورونا یہ اہتمام خوش آئند ہے۔

ایک طویل عرصے سے افغانستان میں قیامِ امن کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ویسے تو اس جھگڑے میں براہِ راست جو فریق ملوث ہیں ان میں امریکہ، افغانستان اور طالبان ہیں لیکن طالبان کے ساتھ جب تک پاکستان نتھی نہیں ہوتا بات آگے نہیں بڑھتی (یعنی بقول کسے ”ڈاؤلینس لیا تو بات بنی“) پاکستان کا ”ڈاؤلینس“ ضروری ہی نہیں از حد ضروری ہے۔ جب تک پاکستان ہاں نہیں کرتا طالبان کی نہ زمین جنبش کرتی ہے اور نہ ان کا گل محمد…… میڈیا پر جو خبریں وغیرہ دی جا رہی ہیں، وہ اگر ”سرکاری درباری“ ہوں تو ان کی اصابت کوئی ایسی قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ اگر کوئی قاری پاکستان، افغانستان، امریکہ، انڈیا اور اس خطے کے دوسرے ممالک میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں ان پر کوئی گہری نظر رکھتا ہے تو اسے صاف نظر آتا ہے کہ مسئلہ افغانستان اب حل ہونے کی جانب گامزن ہے۔ میرے جیسا ناظرِ حالات اور فارن یا ملکی میڈیا کا قاری جب اس تازہ دورۂ کابل کی ضرورت اور اہمیت کو دیکھتا ہے تو قیاس آرائیوں کے گھوڑے سرپٹ دوڑنے لگتے ہیں۔ چاہتا ہوں اس دوڑ میں آپ کو بھی شامل کروں ……

سب سے پہلے تو یہ سوال ذہن میں کلبلاتا ہے کہ پاکستان کا جو وفد دو دن پہلے کابل گیا تھا اس میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کی ضرورت کیا تھی؟کیا مسئلہ افغانستان کوئی عسکری مناقشہ ہے جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہے؟…… میرے خیال میں ایسا نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو جنرل فیض حمید کو ساتھ لے جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا آئی ایس آئی کے پاس ان اشخاص کی فہرست ہے جو RAW نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں تیار کئے ہوئے ہیں۔ ان مقامات کی لوکیشن اور تفصیل کیا ہے کہ جہاں سے پاکستان مخالف کارروائیاں جنم لیتی اور پاکستان کا نقصان کرتی ہیں۔ وہ طالبان جو کابل کی قید میں ہیں، ان کی رہائی کیوں ضروری ہے اور اس کا فائدہ پاکستان کو کتنا اور کیا ہوگا؟ کابل اگر اس سلسلے میں راضی ہو گیا ہے تو اس کی مجبوریاں کیا ہیں اور ان مجبوریوں کی تعمیر و تشکیل میں پاکستان کا کیا حصہ اور کیا کردار ہے؟

اس وفد میں محمد صادق بھی شامل تھے جو ابھی چار دن پہلے پاکستان کے خصوصی سفیر برائے افغانستان مقرر کئے گئے ہیں۔ ان کا کردار اس مصالحتی عمل میں کیا ہے؟ کیا یہ زلمے خلیل زاد کا کوئی پاکستانی متبادل ہے جس کی تقرری کی ضرورت آن پڑی ہے؟…… آج کل تو صدر امریکہ کا اپنا سنگھاسن ڈانواں ڈول ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کابل سے اپنی افواج واپس منگوانے پر کس حد تک آمادہ ہیں؟ کیا امریکی وزیر دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف افغانستان سے اپنی افواج کی واپسی کے لئے تیار ہیں؟ امریکہ کے اپنے مفادات ہوں گے لیکن پاکستان کے بھی تو اپنے مفادات ہیں۔ ہمیں تو اپنے مفادات کی فکر ہے…… میں اس بارے میں ذہن پر زور ڈالتا ہوں تو چھ سوال ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

اول یہ کہ پاکستان، افغانستان کی سرزمین پر سے RAW کا خاتمہ چاہتا ہے۔جناب اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی بھارت دوستی سے کون ناوقف ہے؟ برسوں تک ڈاکٹر صاحب بھارت میں رہے۔ ان کے اہل و عیال بھی وہیں پلے بڑھے، وہاں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم پائی اور جو کچھ بھارت، پاکستان کے بارے میں سوچتا ہے، ڈاکٹر صاحب بمعہ اہل و عیال اس کے ساتھ ہیں، لیکن اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ اگر وہ بھارت کا ساتھ دیتے ہیں تو جان جاتی ہے اور طالبان (پاکستان) کا ساتھ دیتے ہیں تو آن جاتی۔ آن اور جان کے اس مقابلے میں کس کو ہارنا ہے اور کس کو جیتنا ہے اس کا فیصلہ ڈاکٹر صاحب کے لئے از حد مشکل بن رہا ہے۔ لیکن اب موجودہ کیفیتِ احوال یہ معلوم ہو رہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان کی ہم نوائی پر آمادہ ہیں۔ حالیہ ملاقات کے بعد ان کے یہ الفاظ از حد غور طلب ہیں۔ ”جنرل باجوہ کے ساتھ ملاقات خاصی مفید رہی۔میں نے اس بات پر زور دیا کہ مصالحت کے اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے اور افغانستان میں امن مشن کوآگے بڑھانا اور بین الافغانی مذاکرات (Intra- Afghan negotiation) کو مزید مضبوط بنانا چاہیے“۔

دوم یہ کہ پاکستان، افغانستان سے ملنے والی سرحد پر جنگلہ بندی کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنا چاہتا ہے تاکہ یہ پورس بارڈر بند کیا جا سکے اور صرف انہی مقامات (طورخم، چمن) کو کھلا رہنا چاہیے جن کی مانیٹرنگ ہو سکے۔ اس ملاقات میں صدر اشرف غنی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے طورخم اور چمن بارڈر کو کھولا اور پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کو واپس اپنے ملک آنے میں سہولت فراہم کی۔ انہوں نے پاکستان کے اس کردار کو بھی سراہا جو افغانستان کے امن مشن میں اس کی طرف سے ادا کیا جا رہا ہے۔

سوم یہ کہ پاکستان CPECکی تکمیل میں ہر اس چھوٹی بڑی رکاوٹ کو دور کرنا چاہتا ہے جو پاکستان کے دشمن اس سلسلے میں پیدا کر رہے ہیں۔

چہارم یہ کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد سے اپنی وہ فوج واپس بلانا چاہتا ہے جو آج وہاں پھنسی ہوئی ہے اور جس پر آئے دن حملے ہوتے رہتے ہیں۔یہ حملے کون کروا رہا ہے، حملہ آوروں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے، RAW کا رول پاکستان کی سرزمین پر پاکستان مخالف خوابیدہ سیل (Cells) کے استقرار (Maintenance) میں کیا ہے اس کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔پاکستان اپنی مشرقی سرحد پر ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر آئے روز بھارتی دراز دستیوں سے تنگ ہے اور اپنی فوج کو افغانستان بارڈر سے واپس بلا کر مشرقی بارڈر پر لگانا چاہتا ہے۔

پنجم یہ کہ کل کلاں اگر افغانستان میں کسی طرح کا امن قائم ہوجاتا ہے، طالبان اس میں شریک ہوتے ہیں، بھارتی عناصر یہاں سے نکل جاتے ہیں اور امریکی ٹروپس کا انخلاء اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو ایسی صورتِ حال میں پاک افغان تجارت کا حجم بڑھ جائے گا۔ کورونا وائرس کے ان ایام میں اور نیز آنے والے ماہ و سال میں بھی پاکستان کی معیشت پر بہت بھاری بوجھ آنے والا ہے۔ اگر مسئلہ افغانستان حل ہو جاتا ہے تو پاکستان کی اقتصادیات پر اس کا مثبت اثر پڑے گا۔

ششم یہ کہ اس خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ میں کمی سے چین اور روس کو فائدہ ہوگا۔ یہ دونوں بڑی طاقتیں ایک عرصے سے افغان مصالحتی عمل کی کامیابی کی منتظر ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستیں (CARs) بھی ایک مدت سے منتظر ہیں کہ وہ CPEC کو استعمال کریں اور اسی طرح پاکستان کی معیشت جو کورونا کی وجہ سے طے شدہ اہداف حاصل نہیں کر رہی، اس کا کچھ مداوا ہو سکے۔

قارئین کرام! میرے یہ خیالات، افکارِ واژگوں ہی سہی لیکن جب ان موضوعات پر سرکار دربار کی طرف سے کوئی سُن گُن نہ ملے تو پھر قیاس آرائیوں کو تو روکا نہیں جا سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -