لوئر دیر،نجی تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف پرائیویٹ سکولز اساتذہ کا مظاہرہ

لوئر دیر،نجی تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف پرائیویٹ سکولز اساتذہ کا مظاہرہ

  

لوئر دیر (نمائندہ پاکستان)نجی تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف تیمرگرہ پریس کلب کے سامنے پرا ئیویٹ سکولز اینڈ کالجز کے اساتذہ کازبر دست احتجاجی مظا ہرہ کو رونا وباء سے صوبہ خیبر پختون خوا میں 8600نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے 24لاکھ طلباء اور ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد اسا تذہ متاثر اور بے روز گار ہوکر ان کا معاشی قتل عام کیا گیا حکومت فوری طور ایس او پیز کے تحت نجی تعلیمی اداروں کو کھول دیں اور حکومت نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات خود بر داشت کریں ان خیا لات کا اظہار لوئر دیر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تنظیم پرائیویٹ ایجوکیشن نٹ ورک کے رہنما وں صدر عبدالودود، جنرل سیکرٹری سجاد حیات، تحصیل صدور پرنسپلزنوشیر روان، عزیز اللہ، اختر گل، فرید اللہ، عبد الحق، ملک شاہد اللہ، بخت بلند، واحد زادہ نے شہید چوک بلامبٹ میں پشاور چترال شاہراہ پر احتجاجی مظاہرہ اور بعد ازاں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہاکہ 13مارچ سے لوئر دیر کے تعلیمی اداریں کو رونا لاک ڈاون کی وجہ سے مسلسل بند ہونے سے نجی تعلیمی ادا ریں بند ہونے سے نہ صرف طلباء کی قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ لاکھوں اساتزہ بے روز گار ہوکر ان کا معا شی قتل عام کیا گیا انھوں نے کہا کہ تمام سرکاری اداریں، ٹرا نسپورٹ، با زاریں، کار وبار، بنک کھلے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے نجی تعلیمی اداریں مسلسل بند ہیں انھوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادا روں نے لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہے اور وہ معیاری تعلیم دیں رہی ہیں لیکن پانچ ماہ کی بندش سے نجی تعلیمی اداریں مالی بحران سے دو چار ہوگئے ہیں انھوں نے مطالبہ کیا کہ پرا ئیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے بنائے جانے والے اداروں ای ای ایف، اورایف پی ایف کے پاس اربوں روپوں میں نجی تعلیمی اداروں کو ریلیف دیں ان اکاو نٹس میں موجود رقم نجی تعلیمی اداروں کا حق ہے اور قانونی طور پر یہ رقم کسی اور کام کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے انھوں نے کہا کو رونا فنڈز سے بھی نجی تعلیمی اداروں کو ریلیف فنڈز دیا جائے انھوں نے کہا کہ اگر ان کے مذکورہ مطالبات منظور نہ کئے گئے تو نجی تعلیمی اداروں کی بقا خطرے میں پڑ جائیگا انھوں نے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لئے سیاسی جما عتوں کے ساتھ ملک کر احتجاجی شروع کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -