ٹانک،کورونا وائرس میں آئے روز اضافہ،عوام میں تشویش

ٹانک،کورونا وائرس میں آئے روز اضافہ،عوام میں تشویش

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)ٹانک میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ڈاکٹروں سمیت ہر شعبے کے لوگ متاثر ہورہے ہیں مگر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سمیت متعلقہ حکام کی جانب سے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پایاجاتا ہے تفصیلات کے مطابق ٹانک میں کورونا وائرس نے پنجے گھاڑنے شروع کردیئے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈاکٹر عالمگیر بیٹنی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انکے اہلیہ اور تین بچوں سمیت انکے دیگر سٹاف کا کورونا ٹیسٹ رزلٹ بھی پازیٹیو آیا ہے اسی طرح جو لوگ کرونا ٹیسٹ کرا رہے ہیں ان کے نتائج پازیٹیو آرہے ہیں، دوسری جانب ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کے باعث مریضوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا ہے، اور بہتر طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث آئے روز مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر ذمہ داران کا ہسپتالوں پر توجہ نہ دینے کے باعث سہولیات کی فراہمی میں روکاوٹیں پیدا ہوکر مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکس ناکافی سہولیات کے باوجود مریضوں کی زندگی بچانے میں مصروف ہیں لائف سیونگ کٹس اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ڈاکٹرز خود کرونا کا شکار ہورہے ہیں جس کے باعث لوگ ہسپتال جانے سے کترا تے ہیں اور موجودہ حالات میں ڈاکٹروں کو سہولیات نہ دینا انہیں قتل کرنے کے مترادف ہے، کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے ٹانک کیلئے جاری شدہ کروڑو روپے کا فنڈ کہاں استعمال ہوا جو ایک سوال ہے! جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں قائم قرنطینہ سنٹر کے علاوہ باقی تمام سنٹرز بند کر دیے گئے ہیں، ضلعی انتظامیہ کرونا وائرس سے لوگوں کو بچاؤ مہم اور سہولیات پر توجہ دینے کی بجائے لاک ڈاون کے خلاف ورزیوں پر جرمانے لگانے کا کاروبار شروع کردیا ہے جس سے انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے، انظامیہ قرنطینہ سنٹرز کے نام پر روزانہ لاکھوں روپے کے بل بناکر ہاتھ کی صفائی میں مصروف عمل ہیں لیکن سنٹرز میں پڑے مریضوں کو ادویات راشن اور دیگر ضروریات فراہم نہیں کی جارہی ہے، حکومت کو چاہیئے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -