سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1324ارب روپے منظور، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 674ارب مقرر

  سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1324ارب روپے منظور، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 674ارب ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے سالانہ اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1324ارب روپے منظور کر لیا گیا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران سالانہ ترقیاتی پروگرام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد ترقیاتی پروگرام کا حجم منظور کر لیا گیا۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلیے اضافی سو ارب روپے کے ساتھ 650 ارب روپے منظور کیے گئے ہیں۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 674 ارب روپے رکھا گیا ہے، انسداد کورونا کے لیے 70 ارب روپے کے خصوصی منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق انفراسٹرکچر کے لیے 364 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا ہے، توانائی کے لیے 80 ارب روپے، پانی کے لیے 70 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے لیے 179 ارب کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق سماجی شعبوں کے لیے 249 ارب روپے کے ترقیاتی پراجیکٹس منظور کیے گئے ہیں، صحت اور بہبود آبادی کے لیے 20 ارب روپے، ہائر ایجوکیشن کے لیے 35 ارب روپے، پائیداد ترقی کے لیے 24 ارب روپے کے پراجیکٹس منظور کیے گئے ہیں۔ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 40 ارب روپے منظور ہوئے ہیں، خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کے لیے 48 ارب منظورکیے گئے ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 20 ارب روپے، انسداد ٹڈی دل سمیت زراعت کے لیے 14 ارب روپے، ایرا کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ قومی اقتصادی کونسل نے شرح نمو کے آئندہ مالی سال کے اہداف کی منظوری دیدی۔ 30 جون تک 827 ارب روپے کی لاگت سے 149 منصوبے مکمل کیے جائیں گے کابینہ کی منظوری کے بغیر 10 ارب روپے تک کے منصوبے منظور ہو سکیں گے، سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کو اجازت مل گئی۔قومی اقتصادی کونسل کو بتایا گیاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت شدید متاثر ہوئی۔پی ایس ڈی پی منصوبوں میں بلوچستان، خیبرپختونخوا، ضم شدہ علاقوں،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔دوسری طرف وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سرمایہ کاری، سیاحت کے فروغ کیلئے175 ممالک کیلئے الیکٹرانک ویزا متعارف کرایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان سے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر نے ملاقات کی ہے۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کو وزارت داخلہ اور اس کے مختلف محکموں کی گزشتہ بیس ماہ (اگست 2018 تا اپریل 2020) کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس دوران نیشنل انٹرنل سیکیورٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کا احیا کیا گیا۔ ماہرین پر مشتمل 14 رکنیٰ اعلیٰ سطح کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف امور سے متعلق ایک ماہ میں اپنی سفارشات پیش کریں گی۔وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ کے لیے وزیر اعظم کے وڑن کے مطابق 175 ممالک کے لیے الیکٹرانک ویزہ متعارف کرایا گیا جس سے پاکستانی ویزے کا حصول نہایت سہل ہو گیا ہے۔ ملک سے دہشت گری کا مکمل قلع قمع کرنے خصوصاً دہشت گردوں کے مالی وسائل کی روک تھام کے حوالے سے جامع پالیسی مرتب کی گئی۔عمران خان کو بتایا گیا کہ سمگلنگ کے ناسور سے نمٹنے کے لئے اعلی سطحی اسٹیرنگ کمیٹی کی جانب سے جامع پالیسی اور مفصل حکمت عملی مرتب کرکے اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی معیشت اور صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے اس عفریت کی موثر روک تھام کی جا سکے۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں قبضہ مافیا سے تقریبا 100 ارب روپے مالیت کی 15000 کنال اراضی واگزار کروانے کے لئے تجاوزات کے خلاف ریکارڈ 70 آپریشن کئے گئیپٹرول کی قلت کے حوالے سے ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کسی کے پریشر کی پروا نہیں،اداروں کو اپنا کام کرنا ہو گا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت پیٹرول کی قلت پر ہنگامی اجلاس منعقد ہو ا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر عمر ایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر کو طلب کیا گیا وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ابتک کیا اقدامات کیے گے ہیں۔ وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ 1 کروڑ 75 لاکھ لیٹر اٹک ریفائنری کے پاس موجود ہے جو آگے سپلائی نہیں کیا جا رہا، اے آر ایل ریفائنری نارتھ ریجن کو تیل سپلائی کرتا ہے اور زیادہ وہاں ہی مسائل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ او ایم سیز کا کیماڑی اور پورٹ قاسم میں ہورڈنگ پر بھی وزیراعظم کو بریف کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے واضح کیا کہ مجھے کسی کے پریشر کی پروا نہیں،اداروں کو اپنا کام کرنا ہو گا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جو جو کمپنی ہورڈنگ میں ملوث ہے ان کیخلاف سخت کاروائی کی جائے۔

قومی اقتصادی کونسل

مزید :

صفحہ اول -