عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل ضروری نہیں، 2 ہفتے لاک ڈاؤن،2ہفتے نرمی کی کسی تجویز پر غور نہیں کیا جارہا، حالات خرا ب ہوئے تو مکمل لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے، ظفر مرزا کوروناسے مزید 101افرا د جاں بحق، 6365نئے کیسز رپورٹ

      عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل ضروری نہیں، 2 ہفتے لاک ڈاؤن،2ہفتے نرمی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں))وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پرعملدرآمد ضروری نہیں، 2 ہفتے لاک ڈاؤن، 2 ہفتے نرمی کی تجویز زیر غور نہیں، عالمی ادارہ صحت نے صرف وبا کو دیکھنا ہوتا ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا عوام نے سمجھا رمضان کے ساتھ کورونا وائرس ختم ہوگیا، رویے میں تبدیلی تک کورونا سے نمٹا نہیں جاسکتا، جو سیکٹرز بند ہیں وہ بند ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا عوام کیلئے جو بہتر ہے وہ فیصلے کرتے ہیں، کورونا کے ساتھ زندگی کو بھی چلانا ہے۔ظفر مرزا نے کہا کورونا کے معاملے پر سوچی سمجھی حکمت عملی اپنائی، آنے والے دنوں میں کورونا کیسز بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، حالات خراب ہوئے تو لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے، حکومت کے پاس لاک ڈاؤن کا آپشن موجود ہے، تمام صوبوں کی ضرورت کے مطابق بیڈز تقسیم کریں گے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی وبا کے خلاف اقدامات کو سراہتے ہیں ڈبلیو ایچ او کا بظاہر مسئلہ صحت سے متعلق ہے لیکن حکومتوں کو ایک جامع تصویر کو دھیان میں رکھنا ہوتا ہے حکومتوں کو خطرے کی تشخیص کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوتے ہی اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے لکھے گئے خط پر اپنے بیان میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کورونا سے لڑنے کے مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے ماتحت نیشنل کمانڈ اینڈ اآپریشن سینٹر کا قیام عمل میں لائی این سی او سی میں روزانہ کی بناید پر اجلاس ہوتے ہیں ماہرین کے ساتھ ملکر کورونا کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے صوبوں سے ملکرسفارشات تیار کی جاتی ہیں۔ این سی سی کمیٹی کی صدارت وزیر اعظم کرتے ہیں،این سی سی میں تمام وزرائے اعلیٰ اور وزیر اعظم آزاد کشمیر شرکت کرتے ہیں اور تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں اور ڈبلیو ایچ او کے ایسٹرن ریجن کے بائیس ممالک میں سب سے بڑا ملک ہے پاکستان کم اور مڈل آمدنی والا ملک ہے ہماری دو تہائی آبادی روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرتی ہے ہم نے پاکستانی عوام کو وبا سے بچانے کے لئے ہر ممکن فیصلے کئے ہمیں وبا سے زندگیاں بچانے اور روزگار کے درمیان بیلنس رکھنے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاون میں نرمی کے ساتھ ایس او پیز پر عمل پیرا ہیں ہم نے دکانوں، انڈسٹریز، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ایس او پیز بنائے،ملک میں ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے کورونا کے ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی کے لئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ، اور کورنٹائن کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں پاکستان میں ابتک سات سو سے زائد سمارٹ لاک ڈاؤن لگائے گئے ہیں کرونا کے حوالے سے ہماری حکمت عملی کا ایک پہلو اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہے ہماری پالیسیاں تحقیق اور تکنیکی اعتبار سے حاصل کیے گئے تجزیات کی بنیاد اورمعیشیت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں۔دریں اثنا نیشنل کمانڈ اینڈ آپر یشن سینٹر نے کہا ہے کہ جون کے آخر تک صوبوں میں آکسیجن سہولیات کے ساتھ ایک ہزار بیڈز دیے جائیں گے۔ بدھ کو جاری اعلامیہ کے مطابق کورونا مریضوں کے لئے ضرورت پڑنے پر یہ بیڈز استعمال کیے جائیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق صوبوں کو اضافی 250 وینٹی لیٹرز دیے گئے ہیں، آزاد کشمیر میں کورونا مریضوں کے لئے 379 بیڈز دستیاب ہیں،آزاد کشمیر میں آکسیجن سہولیات کے ساتھ 68 بیڈز، 43 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں،آزاد کشمیر میں کورونا کا کوئی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں۔ این سی اوسی کے مطابق بلوچستان میں کورونا مریضوں کے لئے 2148 بیڈز دستیاب ہیں،بلوچستان میں آکسیجن سہولیات کے ساتھ 68 بیڈز، 29 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں،بلوچستان میں کورونا کا کوئی مریض تاحال وینٹی لیٹر پر نہیں۔این سی او سی کے مطابق گلگت میں کورونا مریضوں کے لئے151 بیڈز، 43 آکسیجن بیڈز، 28 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں،گلگت میں بھی کورونا کا کوئی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔ اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد میں 520 بیڈز، 262 آکسیجن بیڈز، 94 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں،اسلام آباد میں کورونا کے 10 مریض وینٹی لیٹر پر موجود ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق خیبر پختونخواہ میں 5110 بیڈز، 628 آکسیجن بیڈز، 313 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں،خیبر پختونخوا میں کورونا کے 70 مریض وینٹی لیٹر پر موجود ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق پنجاب میں 9276 بیڈز، 3509 آکسیجن بیڈز، 387 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں،پنجاب میں کورونا کے 159 مریض وینٹی لیٹر پر موجود ہیں،سندھ میں 8094 بیڈز، 548 آکسیجن بیڈز، 304 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں،سندھ میں کورونا کے 83 مریض وینٹی لیٹر پر موجود ہیں۔۔ لاہور میں 214، فیصل آباد میں 57، راولپنڈی میں 64 اور ملتان میں 18 وینٹی لیٹرزہیں۔ سندھ میں 548 بیڈ کے ساتھ آکسیجن کی سہولت موجود وینٹی لیٹرز کی تعداد 304، کراچی میں 214 اور حیدر آباد میں 20 وینٹی لیٹرز ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 628 بیڈز آکسیجن کے لیے موجود، 313 وینٹی لیٹرز ہیں۔ جن میں سے پشاورمیں 79 اور ایبٹ آباد میں 12 ہیں۔ بلوچستان میں 68 بیڈز پر آکسیجن کی سہولت، 29 وینٹی لیٹرز موجود ہیں اور وہ سارے ہی کوئٹہ میں ہیں جبکہ اس وقت بلوچستان میں کوئی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔ اسلام آباد میں 262 بیڈز کے ساتھ آکسیجن کی سہولت، 94 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔گلگت بلتستان میں 43 بیڈز پرآکسیجن کی سہولت، گلگت بلتستان میں 28 اور گلگت میں 5 وینٹی لیٹرز ہیں۔ اس وقت گلگت بلتستان میں کوئی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں ہے۔آزاد کشمیر میں 68 بیڈز پر آکسیجن کی سہولت موجود، 43 وینٹی لیٹرز ہیں جن میں سے مظفر آباد میں 18 اور میرپور میں 11 وینٹی لیٹرز ہیں۔ آزاد کشمیر میں بھی کوئی مریض وینٹی لیٹرز پر نہیں ہے۔کورونا سے لڑنے والے ہیلتھ ورکرز کیلئے بڑا مراعاتی پیکج تیارکرلیا گیا،ہیلتھ ورکرز کیلئے مراعاتی پیکج کی سفارشات کا اعلان آج کیا جائے گااین سی او سی نے مراعات کیلئے ڈاکٹرز اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی،مراعاتی پیکج کی سفارشات این سی سی کمیٹی میں رکھی جائیں گی۔

ظفر مرزا

اسلام آباد، کراچی، لاہور،پشاور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا سے مزید 101 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 6365 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعداموات کی مجموعی تعداد 2317 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 117172 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 807 اور سندھ میں 738 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 610 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 62، اسلام آباد 57، گلگت بلتستان میں 14 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 9 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔بروز بدھ ملک بھر سے کورونا کے مزید 6365 کیسز اور 101 اموات سامنے آئیں جن میں سندھ سے 2487 کیسز اور 42 اموات، پنجاب 2641کیسز 34 اموات، خیبر پختونخوا سے 679 کیسز اور 9 اموات، بلوچستان سے 304 کیسز 11 ہلاکتیں، اسلام آباد 178 کیسز 5 اموات، گلگت بلتستان سے 44 کیسز اور آزاد کشمیر سے 32 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ سے کورونا کے مزید 2487 کیسز اور 42 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ نے کی۔مراد علی شاہ نے بذریعہ ٹوئٹر بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 9100 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2487 نئے کیسز سامنے ا?ئے اور مزید 42 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 43790 اور اموات 738 ہوگئی ہیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے بھر میں 2487 کیسز میں سے کراچی میں 1755 نئے کیسز آئے ہیں۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ مزید 1111 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو چلے گئے جس سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 21007 ہوگئی ہے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 2641 کیسز اور 34 اموات سامنے ا?ئی ہیں جس کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی کل تعداد 43460 اور اموات 807 ہوگئی ہیں۔اس کے علاوہ صوبے میں اب تک کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 8643 ہے۔وفاقی دارالحکومت سے کورونا کے مزید 178 کیسز اور 5 اموات سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 5963 ہوگئی ہے جب کہ 57 افراد انتقال بھی کر چکے ہیں۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 843 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سیکورونا کے مزید 32 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 444 ہوگئی ہے اور اموات کی تعداد 9 ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 217 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔بدھ کو خیبر پختونخوا میں کورونا کے باعث مزید 9 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 619 ہوگئی

پاکستان ہلاکتیں

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)امریکا میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سبب 819 افراد کی اموات کا اندراج ہوا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے بدھ کے روز جاری اعداد و شمار میں بتائی۔ اس طرح امریکا میں اب تک اس وبائی مرض میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 111751 ہو چکی ہے۔ ملک میں کرونا کے 1973803 مصدقہ کیس سامنے آئے جن میں تقریبا 5.18 لاکھ مریض سرکاری طور پر صحت یاب قرار دیے جا چکے ہیں۔اپریل کے وسط میں امریکا میں کرونا سے مرنے والوں کی یومیہ تعداد نقطہ عروج پر پہنچ گئی جب روزانہ 3 ہزار سے زیادہ افراد کی اموات کا اندراج کیا گیا۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران یومیہ اموات میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب یہ عدد ایک ہزار سے کم پر آ گیا ہے۔تاہم امریکا میں اب بھی روزانہ 20 ہزار سے زیادہ کرونا وائرس کے کیسوں کا انکشاف ہو رہا ہے۔دوسری جانب برازیل میں وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سبب 1272 اموات اور 32091 نئے کیسوں کا اندراج ہوا۔ اس طرح لاطینی امریکا کے اس ملک میں مذکورہ وبا کا شکار ہو کر مرنے والوں کی مجموعی تعداد 38406 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ملک میں کرونا کے متاثرین کی تعداد 739503 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ امریکا کے بعد دنیا بھر میں کرونا سے متاثرہ افراد کی دوسری بڑی تعداد ہے۔ اموات کی تعداد کے لحاظ سے برازیل کا برطانیہ (40,883 اموات) کے بعد دنیا میں تیسرا نمبر ہے۔ادھر چین میں نیشنل ہیلتھ کمیشن نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ملک میں چوبیس گھنٹوں کے دوران 3 مصدقہ کیسوں کا اندراج ہوا۔ کمیشن کے بیان کے مطابق تینوں افراد بیرون ملک سے آئے۔ چین میں کرونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 83046 ہے جن میں سے 4634 افراد موت کی نیند سو چکے ہیں۔میکسیکو میں وزارت صحت کے بیان کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے 4199 نئے کیسوں اور 596 مزید اموات کا اندراج ہوا۔ ملک میں اس وبائی مرض کا شکار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 124,301 تک پہنچ گئی۔ ان میں 14,649 افراد فوت ہو چکے ہیں۔حکومت کے مطابق متاثرین کی اصل تعداد سرکاری طور پر اعلان کردہ تعداد سے بہت زیادہ ہے۔لاطینی امریکا کے ملک ارجنٹائن میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 1141 نئے کیس سامنے آئے ہیں جب کہ 24 مزید افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس طرح رواں سال مارچ میں اس وبا کے پھیلنے کے آغاز کے بعد سے کرونا سے متاثرہ افراد کی کْل تعداد 24761 ہو گئی ہے۔ اب تک 717 مریض موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -