کورونا وباء کے پیش نظر ارکان اسمبلی کی حفاظت یقینی بنانا اولین ترجیح: شاہ محمود قریشی

کورونا وباء کے پیش نظر ارکان اسمبلی کی حفاظت یقینی بنانا اولین ترجیح: شاہ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وبائی صورتحال کے پیش نظر ممبران اسمبلی کی حفاظت کو یقینی بنانااولین ترجیح ہے،بجٹ اجلاس کے طریقہ کار کے حوالے سے حتمی فیصلہ وبائی صورتحال اور تمام ممکنہ پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق بجٹ اجلاس کے انعقاد کے طریقہ کار کے حوالے سے وزارت خارجہ میں مخدوم شاہ محمود قریشی کے زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں سماجی فاصلے سمیت دیگر ضروری احتیاطی تدابیر کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں، نشستوں کی موجود گنجائش پر بھی غور و خوض کیا گیا۔بجٹ اجلاس کے ورچول انعقاد کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور تکنیکی پہلووں کا جائزہ لیا گیا۔دریں اثناء وزارت خارجہ میں سینئر افسروں سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وبا نے دنیا کو انتہائی تیزی کے ساتھ تبدیل کیا ہے جبکہ مزید تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گی اورہمیں اس تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں آگے بڑھنے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہو گا،دنیا بھر میں، بڑے بڑے اہم اجلاس، کانفرنسیں ویڈیو لنک کے ذریعے ہو رہی ہیں ہمیں اپنے آپ کو ڈیجیٹائز کرنا ہو گا،ہمیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لاتے ہوئے، باہمی روابط اور مشاورت کے کلچر کو فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس تبدیل ہوتی دنیا کے تیور سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو وضع کرنا ہو گا تاکہ ہم اپنے خارجہ پالیسی اہداف کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے سفارت کاردنیا بھر میں سفارت کاری کے اسرار و رموز میں مہارت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں لیکن ہمیں اپنی استعداد کار کو مزید بڑھانے کیلئے ملکر کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ وزارت خارجہ میں پبلک ڈپلومیسی کنسلٹیٹو گروپ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جس میں تجربہ کار ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرونا وبا کے دوران، دنیا بھر میں ہمارے سفارت خانے جس طرح سے پاکستانی کمیونٹی کی معاونت کر رہے ہیں اس کی تعریف سوشل میڈیا کے ذریعے مل رہی ہے، لوگ ویڈیو پیغامات کے ذریعے وزارت خارجہ اور ہمارے سفرا ء کی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں جس سے ہمارے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔

شاہ محمود

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمانی لیڈرز کے اتفاق رائے سے طے پانے والے ایس او پیز ایوان میں بیان کردیئے گئے جس کے مطابق جن ارکان کے کورونا ٹیسٹ نہیں ہوئے ایوان میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی،ڈیمانڈز اینڈ گرانٹس پر ووٹنگ والے دنون کے علاوہ ایک وقت میں 86 ارکان سے زیادہ ارکان شریک نہیں ہونگے۔ بدھ کو سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمانی لیڈرز کے اتفاق رائے سے طے پانے والے ایس او پیز ایوان میں بیان کردیئے گئے۔ایس او پیز اپوزیشن کے سینئر رکن سید نوید قمر نے پیش کئے جن ممبران کے ٹیسٹ نہیں ہوئے انہیں ایوان میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی،جن ملازمین کے ٹیسٹ نہیں ہوئے یا مثبت آئے وہ بھی پارلیمنٹ نہیں آسکیں گے،ڈیمانڈز اینڈ گرانٹس پر ووٹنگ والے دنون کے علاوہ ایک وقت میں 86 ارکان سے زیادہ ارکان شریک نہیں ہونگے،بجٹ پر بحث صرف وہ ارکان کرینگے جن کے نام رجسٹر کروائے جائینگے،جن ممبران کا چیف وہیپ نام دیں گے وہی اجلاس میں شریک ہونگے اور بحث کرینگے،کٹوتی کی تحاریک جمع کرائی جائیں گی، بحث ہوگی البتہ اس پر ووٹنگ نہیں ہوگی،بجٹ 30 جون تک منظور ہوگا اس سے آگے نہیں جائے گا۔ سید نوید قمر نے بتایاکہ ممبران کی حاضری گیٹ ون پر لگادی جائیگی البتہ ان کا ہال میں آنا ضروری نہیں ہوگا،پارلیمنٹ لاجز میں کسی مہمان کو آنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، پارلیمنٹ میں بھی پابندی ہوگی۔ سید نوید قمر نے بتایاکہ ممبران کا سٹاف صرف وہی آسکتا ہے جس کے پاس باضابطہ پاسز ہونگے،فنانس بل کی منظوری کے موقع پر کورم مکمل رکھا جائے گا۔ سید نوید قمر نے بتایاکہ عام دنوں یعنی بحث کے دنوں میں کورم کی نشاندہی نہیں کی جائے گی،لابیز میں کوئی کھانا نہیں دیا جائے گا، اجلاس 3 گھنٹے چلایا جائیگا۔ بابر اعوان نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے ایس او پیز پر مکمل تعاون پر مشکور ہیں۔

اسمبلی ایس او پیز

مزید :

صفحہ اول -