پٹرولیم مصنوعات کی قلت برقرار، وفاقی وزیر اور سیکرٹری کی پشاور ہائیکورٹ طلبی

    پٹرولیم مصنوعات کی قلت برقرار، وفاقی وزیر اور سیکرٹری کی پشاور ہائیکورٹ ...

  

لاہور/اسلام آباد/پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) ملک بھر میں پٹرول کی قلت برقرار ہے، شہری پٹرول کے حصول کے لئے خوار ہونے لگے، نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پمپس سے ایندھن غائب ہو گیا، سرکاری انتظام میں چلنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنی کے پمپس پر پٹرول دستیاب ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں پٹرول نایاب ہونے پر لوگوں کو زیادہ تر سفر پیدل کرنا پڑ رہا ہے۔ موٹر سائیکل اور گاڑیوں والے سب ہی پریشان ہیں، پمپس پر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔لاہور میں نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پمپس پر پٹرول غائب ہے،کراچی میں اکثر پٹرول پمپ کھلے تو ہیں لیکن پٹرول دستیاب نہیں،پشاور میں بھی لوگ پٹرول کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔ دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ نے پٹرول کی قلت پر وفاقی وزیر پیٹرولیم اور وفاقی سیکرٹری پیٹرولیم کو آج طلب کرلیا۔ صوبائی سیکرٹری فوڈ سے آٹا بحران سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔پشاور ہائیکورٹ میں پیٹرول اور آٹا بحران کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پیٹرول بحران ہے لوگوں کو پیٹرول نہیں مل رہا کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس میں کہا کہ افسوس ہوتا ہے ایسے وزراء پر جو صرف میٹنگز کے لیے آتے ہیں۔اوگرا کے نمائندے کی جانب سے پیٹرول قلت پر کمیٹی تشکیل دینے کا بتایا گیا جس پر جسٹس قیصر رشید نے استفسار کیا کہ کمیٹی کو چھوڑیں اور کمیٹی کی بات مت کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب بھی ہر چیز پر نوٹس لیتے ہیں لیکن پیٹرول اور آٹا بحران پر خاموش ہیں۔ عدالت کی جانب سے کیس میں ڈی جی نیب خیبر پختونخوا کو بھی آج طلب کرلیا گیا۔علاوہ ازیں اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا، صوبوں میں اوگرا کے نمائندوں کے ساتھ سول ڈیفنس کے افسروں نے پٹرول پمپس اور آئل ڈپو کادورہ کیا جہاں پر پٹرول کی دستیابی اور قلت کی وجوہات کا جائزہ لیاگیا۔ ڈی جی آئل کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی نے کراچی میں کیماڑی ٹرمینلز کا دورہ کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ انکشاف ہوا کہ ہیسکول، گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہے جس پر خصوصی کمیٹی نے دونوں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے سی اوز کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے ثبوت بھی وزارت پٹرولیم کو فراہم کردئیے گئے۔ مزید برآں وزیراعظم کی ہدایت پرایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے پیٹرولیم کمپنیوں کے سربراہوں کو طلب کرلیا۔حکام نے بتایا کہ ذخائر نہ ہونے یا مصنوعی قلت کرنے والی کمپنیز کے خلاف مقدمات درج ہوں گے اور ملوث کمپنیز کے لائسنس بھی منسوخ کر دیے جائیں گے۔

پٹرول بحران

مزید :

صفحہ اول -