ری فنانس سکیم کے تحت 1320کمپنیوں کو 96ارب فراہم کئے،گورنر سٹیٹ بینک

ری فنانس سکیم کے تحت 1320کمپنیوں کو 96ارب فراہم کئے،گورنر سٹیٹ بینک

  

کراچی (این این آئی)گورنر سٹیٹ بینک رضا باقرنے آگاہ کیا ہے کہ مرکزی بینک کی ری فنانس سکیم سے مجموعی طور پر اب تک 1320کمپنیاں مستفید ہوچکی ہیں اور مذکوہ سکیم کے تحت اپریل، مئی اور جون2020 کے دوران درخواست گزاروں کو96ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ یہ سکیم کرونا وبا کی وجہ سے کاروبار اور ملازمتوں پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے متعارف کروائی گئی تھی تاکہ تنخواہ دار طبقے کو تنخواہیں و اجرت ادا کی جاسکے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، سرحد، سیالکوٹ، گجرانوالہ، ملتان، میرپورخاص چیمبر اور ایف پی سی سی آئی کے ساتھ وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس سے خطاب میں کیا۔گورنر سٹیٹ بینک نے رائے دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان بھر کی تاجروصنعتکار برادری کے ساتھ وڈیو لنک کے ذریعے ماہانہ بنیاد پر اس طرح کا اجلاس ہونا چاہیے تاکہ سٹیٹ بینک تاجروصنعتکار برادری کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور اس کے مطابق حکمت عملی مرتب کرسکے۔کے سی سی آئی کے صدر آغا شہاب احمد خان نے اپنے ریمارکس میں سٹیٹ بینک پر زور دیا کہ مرکزی بینک کی ری فنانس سکیم سے مستفید ہونے والی تمام کمپنیوں کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں تاکہ اس سکیم کو شفاف بنایا جاسکے بصورت مستقبل میں دیگر بینکوں پر من پسند اور غیر مستحق افراد کو قرض دینے کے الزامات سامنے آسکتے ہیں۔آغا شہاب نے کہاکہ بینکنگ شعبے میں اچھے رابطوں کی وجہ سے بعض انتہائی بااثر افراد کو مالی اعانت کے حصول میں آسانی سے رسائی حاصل ہے لیکن معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس سے محروم ہے لہٰذا قرضوں کی تقسیم کے پورے طریقہ کار اور کاغذی کارروائیوں کوآسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سہولیات سے فائدہ اٹھاسکیں۔انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک کی ری فنانس سکیم3فیصد شرح سود کے ساتھ قرضوں کی پیشکش کرتی ہے لیکن بہت سارے لوگ سود ادا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اسلام میں اس کی سختی سے ممانعت ہے لہٰذا سٹیٹ بینک کو صفر شرح کے ساتھ ایک اور ری فنانس سکیم متعارف کروانے پر غور کرنا چاہیے جو یقینی طور پر تاجر برادری کو درپیش تکلیف میں بڑی مددفراہم کرے گی۔

گورنر سٹیٹ بینک

مزید :

صفحہ اول -