تمباکو کمپنیوں کا تمباکو نوشی سے متعلقہ طبی نقصانات کے لیے احتساب کیا جانا چاہیے

تمباکو کمپنیوں کا تمباکو نوشی سے متعلقہ طبی نقصانات کے لیے احتساب کیا جانا ...

  

لاہور(پ ر)چونکہ کووِڈ-19 (کورونا وائرس) کی عالمی وباء پھیلتی جا رہی ہے، STOP (سٹاپنگ ٹوبیکو آرگنائزیشنز اینڈ پراڈکٹس)، تمباکو کی صنعت کے ایک عالمی نگران، نے درج ذیل بیان جاری کیا، جس میں حکومتوں اور سول سوسائٹی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تمباکو کمپنیوں کا اس بوجھ کے لیے احتساب کریں، جو انہوں نے لوگوں اور طبی نظاموں پر ڈالا ہے:"تمباکو کی کمپنیوں نے تقریبًا یقینی طور پر کووِڈ-19 کی عالمی وباء کو بدتر بنا دیا ہے۔ دہائیوں کی مسلسل مارکیٹنگ اور اپنی زہریلی، نشہ آور مصنوعات کی فروخت نے پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں کی صحت کو کمزور بنا دیا ہے۔ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے پیدا ہونے والے علاج کے اخراجات نے نگہداشت صحت کے نظاموں پر شدید دباو? ڈال دیا ہے۔تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد عمومًا پھیپھڑوں کی انفیکشنز کے زیادہ خطرے پر ہوتے ہیں، مثلًا نمونیا، فلو اور تپ دق۔ تمباکو نوشی جسم کے دفاعی نظام کو بھی کمزور کرتی ہیسانس کی دائمی بیماری اور کینسر کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

ابتدائی مطالعہ جات بتاتے ہیں کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد اور منتقل نہ ہونے والی بیماریوں کے حامل لوگ، جنہیں کورونا وائرس لاحق ہوتا ہے، انہیں بیماری کے زیادہ بڑھنے اور بدتر نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا صرف جسمانی عمل بھی تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو کورونا وائرس کی زد میں لا سکتا ہے، کیونکہ ہاتھوں کے منہ سے اضافی رابطے اور ممکنہ طور پر آلودہ اشیاء سے سامنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اگرچہ تمباکو نوشی کرنے والے لاکھوں افراد تمباکو سے جڑی بیماریوں اور ممکنہ طور پر کورونا وائرس کے برے نتائج سے لڑ رہے ہیں، تمباکو کمپنیوں کی جانب سے سگریٹس کی فروخت کو روکنے اور اسے ترک کرنے کو فروغ دینے کی کوششوں کو کمزور کرنا جاری ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے ممالک میں، تمباکو کمپنیوں نے کامیابی سے اپنی مصنوعات بنانا اور فروخت کرنا جاری رکھنے کے لیے استثناء حاصل کر لیے ہیں۔ یہاں تک کہ فلپ مورس برازیل کی ملکیتی ایک فیکٹری نے اپنی مصنوعات کیتیاری بھی بڑھا دی ہے۔

مزید :

کامرس -