سینیٹ، اپوزیشن نے طیارہ حادثہ انکوائری رپورٹ کو مشکوک قرار دے دیا

  سینیٹ، اپوزیشن نے طیارہ حادثہ انکوائری رپورٹ کو مشکوک قرار دے دیا

  

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں اپوزیشن نے پی آئی اے جہاز کے حادثہ کی انکوائری کو مشکوک قرار دے دیا، اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ انکوائری کمیشن میں مفادات کا ٹکراؤ سامنے آرہا ہے،کمیشن میں ماسوائے ایک کے تمام افراد کا تعلق ایئر فورس سے ہے،ایئر فورس کے افسران کا فلائنگ کا تجربہ مختلف نوعیت کا ہے،کمیشن مفادات کے ٹکراؤ کا پہلے ہی شکار ہے اس کی رپورٹ کیا معنی رکھے گی؟ پہلے دن سے اس حادثے کو پائلٹ کی غلطی کا رخ دیا گیا،پی آئی اے کے 37حادثات ہوئے ہیں، ایئرلائن کھربوں کا نقصان بھی کر رہی ہے، ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں اپوزیشن رہنماؤں سینیٹر میاں رضاربانی، شیری رحمان، راجہ ظفر الحق اور جاوید عباسی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کیا۔بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پی آئی اے کے کیا حالات ہیں؟موجودہ سی ای او نے پی آئی اے میں مارشل لا نافذ کیا ہوا ہے۔کورونا اور ایئرکریش کی آڑ میں وہ پی آئی اے میں چھانٹی کرنے کے چکر میں ہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ انکوائری مشکوک ہو چکی ہے،سول ایوی ایشن تو خود انڈر انویسٹی گیشن ہے۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ،پہلے دن سے اس حادثے کو پائلٹ کی غلطی کا رخ دیا گیا، کمیٹی وہی کرے جو انتظامیہ اسے کہے گی، ایک طرف وہ پائلٹ ہے جو اپنا دفاع نہیں کرسکتا دوسری طرف مالی مفادات ہیں۔ سینٹ میں وفاقی وزیر زرتاج گل نے وقفہ سوالات میں بلین ٹری پروگرام میں تاخیر کا ذمہ دار بلوچستان اور سندھ کو ٹھہرا دیا۔ بدھ کو وقفہ سوالات کے دور ان انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لئے بیس ارب روپے ہیں مگر وہاں سے ڈیمانڈز ہی نہیں آئیں۔بلوچستان اور سندھ نے اس پروگرام میں شرکت کے لئے اپنی سفارشات بہت دیر سے جمع کروائیں۔

مزید :

صفحہ آخر -