ڈاکٹرآصف فرخی اور تاج بلوچ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

        ڈاکٹرآصف فرخی اور تاج بلوچ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ملک کے معروف ادیب ۔ نقاد۔ مترجم۔ افسانگار۔ ڈاکٹر آصف فرخی اور سندھی زبان کے معروف ادیب شاعر تاج بلوچ کے لیئے تعزییتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر معروف شاعر اختر سعیدی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنی ساری عمر ہی ادب اور زبان کی خدمت میں گزار دی۔ آپ نے کئی کتابوں کے تراجم کئے آپ تمام افسانوں نگاروں میں سب سے زیادہ اہم ہیں بلا شبہ ڈاکٹر آصف فرخی کی خدمات کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی کیوں کہ انہوں نے علم و ادب کا ایسا گوشہ نہیں اس پر اپنی بصیرت و بصارت کا نقش نہیں چھوڑا یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ تہذیبی و تمندنی تاریخ پر کتنی گہری نگا ہ رکھتے تھے۔ ادب کلچر اور مسائل ان کے افسانوں کی حقیقت کی آئینہ دار ہیں کہ ایک ادیب کے لیئے اپنے ارد گرد نواح سے انسلاک پیدا کرنا کتنا ضروری ہے آپ کی علمی و ادبی خدمات کی لاتعداد جہتیں ہیں۔ جنہیں محدود اور اق میں سمونا آسان نہیں ہے۔ عبدالغفور کھتری نے کہا کہ سندھی شاعری کے جدید افکار کو جن شاعروں دریافت کیا، تاج بلوچ اسی قافلے کے اہم کارکن تھے۔ تاج بلوچ نے جدید سندھی ادب اور تنقید کو بھی پروان چڑھایا۔ بیسویں صدی کے سندھی ادب پر شاعری ہو یا کہانی آپ کی تنقیدی نگاہ عالمانہ طرزکی تھی تاج بلوچ نظم غزل آزاد نظم میں بھی ماڈرن سینسیبلٹی اور جدید فکروں کو متعارف کرانے والے جینین شاعر تھے۔ جب کہ معروف شاعر ڈاکٹر نثار احمد نثار نے کہا کہ آصف فرخی کے ہر افسانے میں نیا رنگ ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -